جشن نوروز


ہر سال 20 مارچ کو جشن نوروز ایران سمیت پوری دنیا میں انتہائی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ دراصل یہ ایرانی سال کا آغاز ہے۔ اس کی بہت اہمیت ہے یہ ایرانیوں کی عید کا دن بھی ہے۔ یہ سماجی بہبود اور ثقافتی روایت کا حامل دن ہے جہاں سب لوگ مل کر یہ جشن مناتے ہیں اس دوران کسی قسم کی کوئی تفریق روا نہیں رکھی جاتی۔

یہ موسم بہار کے آغاز کی نیک تمناؤں کا مظہر بھی ہے اب اس کو مذہبی سے زیادہ ثقافتی روایت اور امید کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یخ بستہ موسم سرما کے بعد یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے، یہ روئیدگی کا احساس دلاتا ہے جہاں لوگ ایک عزم نو کے ساتھ اگلے سال کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ خوشیاں سمیٹنے اور بانٹنے کا موقع بھی ہے۔ یہ ملی و قومی یکجہتی اور اتحاد کا بھی مظہر ہے۔ اس موقع پہ شاندار کھانے بنتے ہیں جو سبھی لوگ مل جل کر کھاتے ہیں اور رنگ و نور کی برسات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

اس دوران کوئی مذہبی تفریق روا نہیں رکھی جاتی۔ اس کو خود احتسابی کے عمل کے طور پہ بھی منایا جاتا ہے کیونکہ اس دن سے کچھ دن قبل لوگ اپنی رہائشگاہوں کی صفائی ستھرائی کا کام کرتے ہیں جس میں گھر کا ہر کونا چھان پھٹک کر بالکل تازہ دم کر لیا جاتا ہے جس سے قلب و نظر بھی صاف ہو جاتے ہیں اور اگلا سال اس امید کے سال شروع ہوتا ہے کہ آئندہ برس وہ غلطیاں نہیں دھرائی جائیں گی جو پچھلے سال ہو گئیں اس عمل کو کونہ تکونی (گھر کو ہلانا) کہا جاتا ہے۔ ہفتسین اس جشن کی اصل روح ہے جو سات مختلف النوع اشیاء پہ مشتمل ہے۔ جو تازگی، روئیدگی، اور عزم نو کے نشانات کے طور سمجھے جاتے ہیں۔ اس میں سبزہ (گندم، جو، جوار اور دال کی علامت) دراصل مراد نئی زندگی کا آغاز اور امید ہے، سمانو (مٹھائی مطلب دولت) ، سنجد (محبت) ، سیر (صحت) ، سیب جو علامت ہے خوبصورتی اور تازگی کی، سوماک علامت ہے بیر یا روشنی کی کرنیں جو سورج کو منعکس کرتی ہیں، سرکہ جو طول العمری اور صبر کا مظہر ہے یہ علامات انسانی اقدار اور اتحاد کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔ آج کل کے بکھرے ہوئے معاشروں اور بٹے ہوئے ممالک میں اتحاد رواداری کی اشد ضرورت ہے اور اس کو خوب جوش و خروش سے منانے کی ضرورت ہے۔ ایرانیوں کی شاعری کا ذخیرہ بھی لازوال ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں اب دیکھیں جس قوم کے شاعر حافظ شیرازی، رومی اور سعدی ہوں وہاں امن و آشتی کا ہی راج ہونا لازم ہے۔

وقت اور حالات نے انسان کو تقسیم در تقسیم کر دیا ہے اس کا اشد تقاضا ہے کہ ایسے تاریخی مواقع کو اس کی اصل روح کے مطابق منایا جائے۔ تب انسانی معاشروں اور ممالک کے درمیان پھیلی نفرتیں کدورتیں اور رنجشیں ختم کی جا سکتی ہیں۔ کل گوگل نے اپنا ڈوڈل بھی نوروز کی نسبت سے بنایا تھا جسے عوام میں دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments