”اور ڈان بہتا رہا“: تعارف و جائزہ
اور ڈان بہتا رہا کے خالق نوبل انعام یافتہ روسی ادیب میخائیل شولو خوف ڈان کے علاقے کاسک کے ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ دور حاضر میں اس علاقے کو ویشانسکایا کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ 1913 ء میں شولوخوف نے تعلیم ادھوری چھوڑی اور بالشویکوں کی شراکت میں سفید روسیوں کے خلاف خانہ جنگی میں حصہ لیا۔ 1922 ء میں وہ صحافت کے شعبے سے منسلک ہو کر ماسکو چلے گئے اور کئی اخبارات کے لیے افسانے تحریر کیے۔ پھر وہ اپنے آبائی علاقے میں واپس لوٹے اور 1926 ء میں اپنے ادبی کیرئیر کا باقاعدہ آغاز کاسکوں پر افسانوی مجموعہ چھاپ کر کیا۔
1932 میں شولوخوف نے کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور سپریم سوویت یونین کے مندوب بھی رہے۔ 1939 میں وہ سوویت اکیڈمی آف سائنسز کے رکن بنے اور مابعد سوویت مصنفین کی انجمن کے نائب صدر بھی رہے۔ ان کی ادبی خدمات پر انہیں سٹالن پرائز اور لینن پرائز سے نوازا گیا۔ 1965 میں انہیں ’اور ڈان بہتا رہا‘ پر ادب کے نوبل انعام سے بھی نوازا گیا۔ شولوخوف کی کتابوں کا پچاس کے قریب زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے اور کئی ممالک میں یہ کتابیں شوق و ذوق سے پڑھی جاتی ہیں۔
اس ناول کو اردو میں ڈھالنے کے فرائض مخمور جالندھری نے ادا کیے ہیں۔ یہ ایک ضخیم کتاب ہے جو 504 صفحات پر مشتمل ہے اور اسے چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ چار حصے 1928 تا 1940 کے دورانیہ میں تحریر کیے گئے تھے۔
یہ ناول بیسویں صدی کے ابتدائی دو عشروں کے روس کی ثقافت و معاشرت اور اجتماعی و انفرادی نفسیات کا بے مثل اور فن کارانہ بیان ہے۔ ناول میں مشہور روسی دریائے ڈان کے کنارے بسنے والے کاسکوں کی روزمرہ زندگی کو موضوع سخن بنانے کے علاوہ روسی انقلاب اور خانہ جنگی میں پیش آنے والے اہم واقعات کو بھی قلم بند کیا گیا ہے۔
روسی انقلاب و خانہ جنگی دنیا کے اہم ترین واقعات میں سے ہیں۔ اگر یہ وقوع پذیر نہ ہوتے تو بیسویں صدی ہر لحاظ سے مختلف ہوتی۔ خانہ جنگی میں بالشویکوں کی فتح یقینی نہیں تھی۔ جیسے جیسے خانہ جنگی طول پکڑتی گئی کاسکوں کو ناصرف سفید روسیوں سے لڑنا پڑا بلکہ ڈاکوؤں اور باغی کاسکوں سے بھی نبردآزما ہونا پڑا۔
ناول کے پہلے حصے کا عنوان ’امن‘ ہے۔ اس میں ڈان کے کنارے بستے کاسکوں کے گاؤں ’ٹاٹارسک‘ اور اس کے گردونواح کے حالات و واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ اس میں امن کے دور کو پیش کیا گیا ہے۔ یہ حصہ سست روی کا شکار ہے اور اس میں بے شمار کردار متعارف کروائے گئے ہیں۔ ناول کی کہانی میلخوف خاندان کے گرد گھومتی ہے اور اس کا مرکزی کردار ’گریگر‘ ہے۔
اس حصے میں چند ہی واقعات جنم لیتے ہیں۔ گریگر کا ’استا خوف سیٹپن‘ کی بیوی ’ایکسینا‘ سے معاشقہ، گریگر کا اپنی پسند کے برخلاف نٹالیا سے شادی کر لینا، بعد ازاں گریگر کا بیوی کو چھوڑ کر یکسینا کے ساتھ گاؤں سے فرار ہو جانا، دوسرے گاؤں کے زمین دار کے ہاں چھپ کر نوکری کرنا اور آخر میں اپنی کمائی گئی رقم سے گھوڑا خریدنا اور فوج میں بھرتی ہو جانا۔
ناول کے دوسرے حصے میں جنگ کے بادل چھائے رہتے ہیں اور گریگر سمیت دیگر کاسک روسیوں کی سرپرستی میں اگلے محاذوں پر لڑائی میں مصروف رہتے ہیں۔ گریگر بہادری سے لڑتا ہے اور اسے کئی انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ گریگر کی ایکسینا سے پیدا ہونے والی بچی کا انتقال اور گریگر کی غیر موجودگی میں ایکسینا کا اپنے مالک کے فوجی بیٹے سے معاشقہ۔ گریگر کا زخمی ہو کر ماسکو پہنچنا اور علاج کے بعد گھر پہنچ کر ایکسینا اور اس کے عاشق کو تشدد کا نشانہ بنانا اور بعد ازاں گاؤں واپس لوٹ جانا۔
تیسرے حصے میں انقلاب کا زمانہ دکھایا گیا ہے۔ اس میں گریگر کا رجحان انقلابیوں کی طرف ہو جاتا ہے اور وہ ان کی حمایت میں نکل کھڑا ہوتا ہے۔ انقلابی سفید روسیوں کو زیر کر کے حکومت پر قبضہ جما لیتے ہیں۔
چوتھے حصے میں خانہ جنگی کا دور دکھایا گیا ہے۔ سفید روسیوں اور بالشویکوں کے درمیان خانہ جنگی کا آغاز ہوتا ہے جو ناول کے آخر تک جاری رہتا ہے۔ اس حصے میں دونوں پارٹیاں اپنی طاقت دکھانے اور حکومت بنانے کے لیے ایک دوسرے سے برسرپیکار رہتی ہیں۔ کبھی ایک حاوی ہو جاتا ہے تو کبھی دوسرا جیتنے کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ اس دور میں انسانی جانوں کا ضیاع اپنی انتہا کو جا پہنچتا ہے۔
قارئین کے لیے یہ ناول آسان نہیں ہے۔ اس کے لیے پورا دھیان درکار ہے۔ یہ ان کے لیے مزید الجھ جاتا ہے جن کی توجہ محدود ہے اور جو تاریخ سے بھی نابلد ہیں۔ اس میں کرداروں کی بھرمار ہے اور یہ تعداد میں اتنے زیادہ ہیں کہ بعض دفعہ قاری ابہام میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود شولوخوف کی خوبی ہے کہ اس نے ان کرداروں کے ساتھ منصفانہ رویہ روا رکھا ہے۔
بعض دفعہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گریگر ناول کا مرکزی کردار نہیں بلکہ کوئی اور ہے۔ کبھی کوئی کردار حاوی ہو جاتا ہے تو کبھی کوئی سبقت لے جاتا ہے۔ اس وجہ سے اکثر مرکزی کردار حالات کی تاب نہ لاتے ہوئے کہیں کھو جاتا ہے، لیکن شولوخوف بڑی مہارت سے اسے دوبارہ اسی نگہداشت کے ساتھ پیش کرتا ہے جس کا وہ حق دار ہے۔
مصنف نے جس طرح سے ڈان کے موسموں کو بیان کیا ہے وہ بھی قابل ستائش ہے۔ اس میں رومانیت کے پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور مردوں کی غیر موجودگی میں عورتوں کو نفسیاتی، معاشرتی و جسمانی ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ سے جن مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ محسوس کروانے کی کوشش کی گئی ہے۔
مصنف نے جزئیات اور کردار نگاری پر خصوصی توجہ دی ہے اور کئی اہم کردار خلق کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ ناول میں شولوخوف نے سماجی حقیقت نگاری پر گرفت جمائے رکھی ہے اور اثر انگیز اسلوب کی مدد سے وہ قاری کے حافظہ میں اترتا چلا جاتا ہے۔ شولوخوف کا جمالیاتی ذوق بہترین ہے جس کی بدولت وہ کمال کی منظر نگاری انجام دیتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض جگہوں پر احساس ہوتا ہے کہ جیسے آپ کسی سفرنامے کے مطالعہ میں مصروف ہوں۔
بہر کیف جس طرح بیسویں صدی کے اوائل میں اگر روس خانہ جنگی کا شکار نہ ہوتا تو یہ دنیا آج مختلف ہوتی۔ بالکل اسی طرح اگر میخائیل شولوخوف ’اور ڈان بہتا رہا‘ قلم بند نہ کرتا تو ادب کی دنیا میں بھی بہت کچھ ادھورا رہ جاتا۔




