پنگوں کی کتھا : اسلام آباد ایئرپورٹ


سن 1993 کی ایک سرد رات، کسی دوست نے مجھے اسلام آباد کے ( چک لالہ والے پرانے ) ائر پورٹ پر چھوڑا۔ نائٹ کوچ کے سستے ٹکٹ پر کراچی جانے کے لئے میرے پاس چانس کی سیٹ تھی اور حسب توقع پاکستان انٹر نیشنل کی فلائٹ ایک گھنٹہ لیٹ تھی۔ اس لئے عارضی ٹکٹ کے مسافر کو بورڈنگ کارڈ ملنے یا نہ ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد بارش نے بھی زور پکڑ لیا اور لوگ باگ ائر پورٹ کے چھوٹے سے لاؤنج میں حبس کا مزہ لینے لگے۔

گھنٹہ ڈیڑھ ضائع کرنے کے بعد پتہ چلا دنیا واقعی پاگل ہے۔ کچھ لوگوں کے مطابق جہاز نے لاہور سے اسلام آباد آنا تھا اور اب تک لاہور سے اڑا ہی نہیں تھا۔ ایک دوسری انتہائی با وثوق پارٹی کا کہنا تھا کہ خراب موسم کی وجہ سے جہاز نے لاہور لینڈ کرنے کی بجائے فیصل آباد اترنا مناسب سمجھا تھا اور وہاں سے اب تک نہیں اڑا تھا۔ جبکہ ائر لائن والوں کا ابھی بھی یہی دعوی تھا کہ پرواز بوجوہ تیکنیکی مسائل تاخیر کا شکار ہے۔ قصہ مختصر کہ فلائٹ مذکورہ کا جہاز ابھی اسلام آباد پہنچا ہی نہیں تھا اس لئے چانس کے مسافروں کے لئے کہاں کا اور کون سا بورڈنگ کارڈ؟ کیونکہ ائر لائن کی پالیسی کے تحت فلائٹ کی روانگی سے پندرہ منٹ پہلے چانس کے مسافروں کو بورڈنگ کارڈ ملنے کا عمل شروع ہوتا تھا۔

رات دس بجے تک یہ یقینی ہو چلا تھا کہ پوری رات پی آئی اے کے نامعلوم افراد کو یاد کرتے ہوئے رت جگے میں کٹے گی۔ (موبائل وغیرہ کی غیر موجودگی میں ) دوران بارش، ان دنوں کسی دوست کو واپس بلانے کے لئے رابطہ کرنا بھی کسی ہمالیہ کو سر کرنے سے کم نہ تھا۔

اسی اثناء میں ایک ظلم اور ہوا۔ وہ یہ کہ بعد ”توجہ فرمائیں“ ، ائر لائن کی کسی خاتون نے مسافران میر خوار کو مطلع کیا کہ جن کے پاس متاثرہ فلائٹ کے بورڈنگ کارڈ ہیں وہ اپنے ڈنر، ”مصداق لنچ بکس“ حاصل کر لیں۔ باوجود اس وصف کہ ہم وہ جو کھانے پینے سے کوسوں دور بھاگتے تھے اور جامعہ این ای ڈی کے دور طالب علمی میں دو کامیاب بھوک ہڑتالوں کا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔ اس یقینی مال مفت کا نام سنتے ہی احتیاط کے تمام ازار بندؔ توڑ بیٹھے۔

ہرجاء کہ میں آفیسرز میس سے رات کا کھانا کھانے کے بعد ”بک آؤٹ“ کر کے آیا تھا، مگر پیٹ میں دوڑتے چوہوں کو تو وہی گھٹیا ڈنر بکس چاہیے تھا جو بورڈنگ کارڈ والے مسافروں کو مل رہا تھا اور مجھے ملنے کا امکان ”صفر بٹا صفر“ تھا کیونکہ ابھی تک جہاز بوجوہ خرابی موسم فیصل آباد یا لاہور سے اڑان ہی نہیں بھر پایا تھا۔ وہ آتا صفائی ہوتی، کچھ مسافر اور ان کا سامان اترتا، اور اس کے لگ بھگ آدھے گھنٹے بعد چانس کے مسافروں کو بورڈنگ کارڈ ملتا۔ یوں مرے دل کی دلیؔ، اس وقت اسلام آباد سے کوسوں دور تھی۔

سنا تھا کہ پیٹ کی بھوک انسان سے کیا کچھ نہیں کرا سکتی۔ اور میری تو بھرے پیٹ کی بھوک تھی۔ اوپر سے ہم فوجی افسر بھی تھے یعنی کریلا اور وہ بھی نیم چڑھا۔ مرتا کیا نہ کرتا ادھر ادھر، درود شریف پڑھتا اور ہاتھ پیٹ پر پھیرتا، لاؤنج میں کسی ”امیر علی ٹھگ“ کے موافق گھومنے لگا۔ میرے ممکنہ شکار اس وقت دو کاؤنٹروں پر موجود پی آئی اے کے ملازمین تھے، جو کنفرم ٹکٹ کے مسافروں کو بورڈنگ کارڈ ابھی بھی دے رہے تھے۔

انتہائی بائیں جانب واقع ایک تقریباً الگ تھلگ کا ؤنٹر کو میں نے اپنا ہدف بنانے کی نیت کی۔ جس کی سب سے بڑی وجہ نہ صرف اس کا وقوعہ تھا بلکہ کا ؤنٹر کے پیچھے براجمان موجود ایک پری چہرہ بھی تھی۔ کا ؤنٹر کی طرف چلنا شروع کیا تو بادی النظر میں اندازہ یہی تھا کہ اپنے 28 سالہ کنوارے پن کا واسطہ دے کر پری چہرہ کو شیشے میں اتارنے کی کوشش کروں گا اور اپنے خالی دل کو ان کے وزٹنگ کارڈ اور اپنے خالی پیٹ کو بورڈنگ کارڈ سے بھرنے کی کوشش کروں گا۔

کاؤنٹر کے پاس جاکر میں مسافروں کی قطار سے تھوڑا ہٹ کر کھڑا ہو گیا اور بولنے کے لئے اپنے گلے کو صاف اور چندیا پر پڑنے والی ممکنہ چپلوں سے بچنے کی غیر مرئی مشق کرنے لگا۔ مسافر کنفرم ٹکٹ لے کر ابھی بھی آرہے تھے اور بورڈنگ کارڈ لے کر جا رہے تھے۔ کچھ دیر بعد ائر لائن کی زمینی میزبان نے مجھ سے بہت ملنساری سے پوچھا کہ آپ ٹکٹ لے کر اتنی دور کیوں کھڑے ہیں؟

میں ان کو کیا بتلاتا، کہ آپ سے موسم پر بات کرنا تھی جو آگے جاکر کہیں اور پہنچتی۔ مگر ! ۔

جی میرا ٹکٹ چانس کا ہے اور جہاز تو ابھی تک پچھلے ائر پورٹ سے اڑا ہی نہیں، تو مجھے کہاں سے بورڈنگ کارڈ مل سکے گا۔

انہوں نے ہمدردی سے چچ چچ کی اور میں گلے کو گیلا ہی کرتا رہ گیا۔ یکایک میری نظر اس مو ہنی صورت کے سامنے لگے۔ ”یک رنگی یعنی مونو کروم ڈسپلے“ ٹرمینل پر پڑی۔ میں نے گردن کو موڑتے ہوئے کن انکھیوں سے ٹرمینل کے پیچھے لگے کمپیوٹر کی نیٹ ورکنگ کی تار کو دیکھا اور۔ اور۔ موگیمبو ہی نہیں میں بھی خوش ہو گیا۔

خوش قسمتی سے پی آئی اے کے کا ؤنٹر پر آئی بی ایم کے مین فریم کمپیوٹر سے منسلک ایک ایسا شاشہ (ٹرمینل) لگا تھا جس کی تنصیب اور مرمت پر ”آپ کے ہنرمند خادم“ کو ہزارہا گھنٹوں کا تجربہ تھا۔ ہنرمند نے وہیں کھڑے کھڑے مواصلاتی تاروں کا نگاہوں سے پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ کچھ دیر بعد ٹانگوں نے بھی آنکھوں کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ اور یوں لمحوں بعد میں ایک بڑے گملے کے پیچھے دیوار میں لگے ایک ساکٹ کے پاس کھڑا تھا۔ یہ ساکٹ اس ٹرمینل کی تار کا منبع تھا جو میری پری چہرہ غنیم کے ٹکٹنگ سافٹ ویئر اور پی آئی اے کے مین فریم کو ملاتا تھا۔

امیر علی ٹھگ نے اپنا رومال پھینکا، لیکن کسی کے گلے کی طرف نہیں، بلکہ جانب زمیں اپنے پیروں کی طرف۔ نیچے جھک، اکڑوں بیٹھ، کچھ لمحے جوتے پہ موجود غیر مرئی خاک سمیٹی اور پھر بڑے سے دھاتی گملے کے فریم کے پیچھے ہاتھ ڈال کر کسی ماہر ٹھگ کی طرح بی این سی کنکٹر کا گلا دوسری طرف گھما کر گھونٹ دیا۔

ایک کڑک سی آواز کے بعد میں نے اپنا شکار کر لیا تھا اور کمپیوٹر ٹرمینل کا رابطہ مین فریم سے جدا ہو چکا تھا۔ آہستگی سے میں وہاں سے اٹھا اور ایک قریبی صوفے پر جا بیٹھا۔ دور سے صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ مہ وش مسافروں سے گردن ہلا ہلا کر بحث کر رہی تھی اور دوسرے کا ؤنٹر کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔ اب مسافر کنفرم ٹکٹ اپنی قطار توڑتے ہوئے دوسرے کا ؤنٹر کی طرف جا رہے تھے، جبکہ تھوڑی دیر بعد میرا قبلہ وہی کا ؤنٹر تھا جہاں سے متاثرین فلائٹ، ہجرت کر رہے تھے۔

اپنی منزل پر پہنچ کر ، غازے میں چھپے مہ وش کے چہرے کو غور سے دیکھا کہ یہ آنسہ ہے یا محترمہ! کیونکہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ میرے اگلے چند قدم کس بلائے ناگہانی کا پیش خیمہ بنیں گے، جن کا آخرش اختتام کسی شیروانی کیس پر بھی ہو سکتا تھا۔ پاس جاکر رک گیا۔ کیونکہ وہ ”ہنسنی“ زمینی ٹیلیفون پر کسی سے زور سے زور سے بحث کر رہی تھی۔ شاید کمپیوٹر والوں کے مرکز شکایت میں کسی سے۔

چند منٹ بعد ہم دونوں ایک دوسرے کو مسکراتے دیکھ رہے تھے۔ منگنی کی انگلی، کسی انگوٹھی یا چھلے کے بغیر تھی، گویا بات آگے بڑھائی جا سکتی تھی۔ اندازہ کریں، مقصد کیا تھا، بھرے پیٹ کی بھوک کو بھرنے کی ہوس میں فقط ایک ”گھٹیا ڈنر بکس“ ۔

پوچھا کیا ہوا جو مسافر در قطار، آپ کے آستانے سے دور جا رہے ہیں۔ سوال جس کا جواب پہلے ہی پتہ تھا۔ ”تو اب آپ کیا کریں گی؟“ ۔ ”اطلاع کردی ہے، ان کا کہنا ہے کہ دیر لگے گی“ ۔

پوچھا کہاں سے آئیں گے۔ کہنے لگیں، پارکنگ کی دوسری طرف موجود عمارت سے۔ ”لیکن کیا بارش میں آ سکیں گے“ ۔ کہنے لگیں، یونین کے لوگ ہیں، وہ بھی یہی بہانہ بنا رہے ہیں۔ وہ تو عام حالات میں گھنٹہ لگا دیتے ہیں اور اب تو بارش ہو رہی ہے۔

چچ چچ کرنے کی اب میری باری تھی۔

ویسے تو ”گورو صادقین“ کے ساتھ کراچی میں چند دن گزار کر احساس ہوا تھا کہ اگر جیب میں مال نہ ہو تو ”لڑکیوں کی توجہ حاصل کرنا کا سب سے آسان طریقہ مصوری ہے“ ۔ بابائے خطاطی نے خود بھی یہی کہا تھا کہ ”سیکھتے ہیں مصوری، مہ رخوں کے لئے“ ۔

صادقین کی ”کھڑاویں“ کئی بار سیدھی کیں لیکن جب انگور بنایا، فٹبال بنی اور یوں برش سے دوستی نہ ہو سکی۔ لیکن اسی دور میں ہمیں ایک اور زیادہ مناسب راستہ سوجھا جو ، دست شناسی یعنی پامسٹری تھا اور خوب تھا۔ شادی بیاہ ہویا کوئی تقریب، ڈرامہ شروع کرنے کی دیر ہوتی اور جہاں دوسرے لونڈے لپاڑے کسی صنف نازک کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے ترس رہے ہوتے تھے۔ ہنرمند کے آگے مائیں قطار در قطار کھڑی، اس لئے، لڑ رہی ہوتی تھیں کہ ان کی دختر نیک اختر کا ہاتھ، ’کیرو ثانی‘ اپنے ہاتھوں میں لیں اور بتائیں کہ ’بٹو‘ کی شادی کب ہوگی؟ ’سبحان اللہ‘ ۔ کیا روح پرور منظر اور کیا وجد کی کیفیت ہوتی تھی۔

اور اس کے بعد ، اپنے پرکھوں کے دیے گئے علم جفر سے لے کر سارے علم کفر، بروج کی اٹھک بیٹھک ہوتی یا مشتری کو زحل اور مریخ کا لگن زہرہ سے کرانا ہوتا۔ ہنرمند جو کہ ان دنوں الیکٹریکل انجینیئرنگ بھی کر رہا تھا۔ اچھے چہرے کا ہاتھ کبھی دور نہ جانے دیتا۔ بعد میں اس کی طرف سے باقی جائیں بھاڑ میں۔ پھر چھنگلی کے نیچے کی لکیروں سے شروع کرتے، زندگی کی لکیر ہوتی یا دماغ کی۔ شہرت یا محبت کے ابھار (ہاتھ والے ) ۔ سب کو دباکر محسوس کیا جاتا۔ اور مائیں 20 بائیس سالہ ہنرمند کی مہارت پر واری فریفتہ ہوتی جاتیں۔ (یہ اور بات کہ ایک دفعہ والدہ بہشتن نے گھر آ کر خوب سنائیں کہ تم جس شادی میں جاؤ یہ کون سا راجہ اندر کا دربار لگا کر بیٹھ جاتے ہو) ۔

گو کہ یونیورسٹی یعنی اس عادت خبیثہ کو چھوڑے پانچ برس بیت چکے تھے۔ لیکن دماغ میں امیر علی ٹھگ کا بنیادی یہی ’طریقہ واردات‘ ذہن میں آ رہا تھا۔ کہ گفتگو کسی طرح دست شناسی سے شروع کروں گا۔ جو آگے جاکر جہاں بھی پہنچتی۔

خوبرو کی یہ بات سنکر کہ، ’یونین کے لوگ ہیں، وہ بھی یہی بہانہ بنا رہے ہیں۔ عام حالات میں گھنٹہ لگا دیتے ہیں جبکہ اب تو بارش ہو رہی ہے۔ کہاں آ پائیں گے‘ ۔ ہنرمند کے دماغ نے پینترا بدلا اور معصومیت سے پوچھا۔ ”اتنی دیر آپ کیا کریں گی“ ۔

بے چاری پر بڑا ترس آیا جب اسنے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ٹرمینل جلد ٹھیک نہ ہوا تو ڈیوٹی سپروائزر اسے کسی فضول سے فیلڈ ورک پر نہ بھیج دے۔

اب ہنرمند کی باری تھی۔ اپنا سرکاری کارڈ ان کی طرف کرتے ہوئے تعارف کروایا کہ فدوی، آپ کے پڑوس میں موجود ائرہیڈ کوارٹرز چک لالہ میں فلائٹ لیفٹیننٹ ہے اور کمپیوٹر انجینئر ہے۔ سارا دن اس کا بھی یہی کام ہوتا ہے اور اگر محترمہ اجازت دیں تو وہ کچھ کرے۔ کارڈنے اپنا کام دکھایا، خاتون نے ادھر ادھر کسی کو دیکھا اور اجازت دے دی۔

اب ہنرمند نے جو بندر تماشا کیا، دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ مانیٹر آن آف کیا۔ کی بورڈ پر خوب انگلیاں ماریں۔ کھولا پھر بند کیا۔ پھر مانیٹر کے پیچھے جاکر کیبل نکالی۔ اس کے کنکٹر میں موجود، غیر مرئی کچرا نکالا۔ حسینہ کے زلفوں میں الجھی ایک ’ہیئر پن‘ نکلوا کر ، کنکٹر پھر صاف کیا۔ ایک واہ واہ، گویا سلیمان عالی شان کارروائی تھی۔

پھر کنکٹر کو ہوا میں معلق چھوڑ کر انہیں آگاہ کیا کہ ابھی اسے پانچ منٹ فضاء میں چھوڑ دیں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ قرب و جوار میں کہیں آسمانی بجلی گری ہو جس کے ”برق سکونی“ یعنی الیکٹرو اسٹیٹک چارجز نے مسئلہ پیدا کر دیا ہو۔ انہیں کیا اعتراض ہوتا۔ ”مسکرا دیں، لیکن ہیئر پن لینے کے بعد“ ۔

میں نے پانچ منٹ کی اجازت مانگی کہ ذرا واش روم سے ہو آؤں۔ واش روم گیا ضرور لیکن منہ کو پانی سے درفٹے سے ”در۔ دو ۔ فٹے“ بنانے کے بعد ، گملے پاس جاکر کنکٹر کو لگانا نہ بھولا۔ لمحوں بعد میں ان کے پہلو میں کھڑا تھا۔ اور سامنے آئی بی ایم کے مین فریم کا ٹرمینل۔

اسے پھر آن کیا گیا۔ ظاہر ہے کچھ نہیں آنا تھا کیونکہ پیچھے مواصلاتی تار کے ذریعہ مین فریم سے رابطہ ہی منقطع تھا۔ پھر ٹرمینل بند ہوا۔ کیبل کے کنکٹر میں پھر پھونکیں ماری گئیں اور بالآخر اسے شاشہ سے منسلک کر دیا گیا۔

زمین پر موجود اس درخشندہ ستارے سے گزارش کی گئی کہ اس بار وہ اپنے مبارک ہاتھوں سے ٹرمینل کو آن

کریں۔ ایک، دو ، تین اور الحمدللہ، ہنرمند کی مہارت سے لمحوں بعد ٹرمینل پر پاس ورڈ کی اسکرین موجود تھی۔

پہلوئے حور کہ وہ آخری لمحات تھے جب انہوں نے اقرار کیا کہ ایسا جادوگر انہوں نے پہلی بار دیکھا۔ ’مسکرا دیا‘ ۔

کہنے لگیں۔ آپ کا تو چانس کا ٹکٹ ہے ناں۔ ”جی“ ۔ ساتھ اضافہ کر دیا کہ کراچی میں بیمار والدہ راہ دیکھ رہی ہیں، کیونکہ ان کا اصرار ہے کہ کوئی اچھی سی لڑکی دیکھ کر شادی کر دیں۔ ”میری“ ۔

ناپ تول کر ادا کیے جملوں نے سارے مفہوم ان پر واضح کر دیے تھے کہ جن کا مطلب تھا کہ ”گیم آن ہے“ ۔

مسکرائیں۔ کہنے لگیں۔ آپ دور رکھے صوفے پر بیٹھ جائیں۔ کچھ کرتی ہوں۔ صوفے پر بیٹھ کر، محو انتظار تھا کہ کچھ دیر بعد زمینی عملے کا ایک رکن سامنے موجود تھا۔

تعارف پوچھ، کہنے لگا۔ ٹکٹ دیں۔
میں نے معصومیت سے پوچھا۔ کیوں۔ ”میڈم نے مانگا ہے“ ۔

دس منٹ بعد ، اس نے میرے ہاتھ میں بورڈنگ کارڈ یہ کہ کر پکڑا دیا کہ میڈم نے درخواست کی ہے کہ پلیز کسی کو پتہ نہ چلے اور اگر ہو سکے تو چانس کے ٹکٹ کو ہی چھپا لیں تاکہ کسی کی نظر نہ پڑ سکے۔

اندھے کو دو آنکھیں چاہیے تھیں جو چہرے پر نہیں بلکہ اس کے ہاتھ میں بمشکل بورڈنگ کارڈ موجود تھیں اور اب صرف اوپر لاؤنج میں جاکر ڈنر بکس وصول کرنا تھا۔

جانے سے پہلے میں نے ایک فاصلے سے ان کی طرف آخری بار دیکھا۔ جب نظریں ملیں تو میں نے ان کی جانب سینے پر ہاتھ رکھ، معمولی رکوع کرتے، ’شکریہ‘ ، ادا کیا۔ جو سینسر نے بخوشی منظور کر لیا۔ بصورت بائے بائے۔

ڈنر بکس کے لئے بظاہر جو بے وجہ احمقانہ ہنرمندی میں نے دکھائی۔ اس کے متعدد فوائد مجھے بعد میں ملے۔ پرانے اسلام آباد ائر پورٹ کے اوپری لاؤنج میں جا کر رنگ دار چاول، مرغی کی ایک بوٹی کے ساتھ ایک جوس کا پیکٹ۔ ڈنر بکس کا حاصل بس یہی کچھ تھا۔

مسافران فلائٹ اب ”کند ہم جنس باہم پرواز“ خوار ہو رہے تھے۔ وہیں کیڈٹ کالج حسن ابدال کے دو بچے بھی مل گئے۔ سندھ کے کسی متمول زمیندار فیملی سے تعلق تھا۔ اور پریشان۔ بچوں کو میں نے اپنا کارڈ دکھا کر، اپنے

زیر سایہ کیا کہ اب کسی بھی پریشانی کو بھول جاؤ۔
نصف شب جب مسافروں کے انتظار کی بس بول چکی تھی۔ انتظامیہ نے بالآخر فلائٹ کینسل یا علی

الصبح تک کے لئے موخر ہونے کا اقرار کر لیا۔ پھر بتایا گیا کہ جو مسافر مقامی شہر کے نہیں صرف ان کو ہوٹل میں قیام دیا جائے گا۔ الحمدللہ، ہنرمند کے شناختی کارڈ پر عارضی اور مستقل پتہ کراچی کا ہی تھا، تو مجھے کیا تکلیف تھی جو کسی کو بتاتا کہ مسافر چند فرلانگ پر واقع ائرفورس کے میس تک ٹہلتا ہوا جاسکتا ہے۔ ہوٹل میں مفت رات کے قیام سے زیادہ، مجھے اصل فکر ان بچوں کی تھی، جو ، اب زبردستی میری ذمہ داری تھے۔

متاثرین فلائٹ بشمول ہنرمند کو فلیش مین ہوٹل پنڈی میں رات گزارنے کے لئے جب بورڈنگ کارڈ کے بدلے چٹ دی گئی تو بچوں نے پھر یاد دلایا کہ انہوں نے تو اندرون سندھ جانا ہے اس لئے انہیں لینے کوئی بڑا کراچی آیا ہوا ہو گا۔ اور فلائٹ کینسل ہونے کے بعد ان کی خیریت نیک مطلوب چاہتا ہو گا۔

کہا، ”اچھا کچھ کرتے ہیں“ ۔
یاد رہے، موبائل فون، اس وقت کوئی عام کھلونا نہیں تھا۔ اور صرف خواص الناس کی دسترس میں ہوتا تھا۔

اس وقت سب سے آسان طریقہ تو یہ تھا کہ بچوں کے کسی رشتہ دار کو کراچی فون کر کے بتا دیا جاتا کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔ لیکن ڈیڑھ دو سو روپے کی تین منٹ کال کے لئے میرے پاس خوامخواہ کے فالتو پیسے نہیں تھے (جبکہ اس وقت میرا نائٹ کوچ کا سستا ٹکٹ بھی بمشکل ہزار روپے سے کم کا تھا) ۔

حقیقت تو یہ بھی تھی کہ مہینے کا آخر تھا اور افسر کی جیب میں بمشکل سو روپے تھے۔ بچوں سے کال کے لئے خرچے کا کہنا، ”فوج میں اگر آپ سینیئر ہیں تو ناممکن ہے کہ آپ کی موجودگی میں جونیئر خرچہ کرسکے“ ۔ اور دونوں کیڈٹ بچے میرے یونیفارم برادر تھے۔ ساتھ جونیئر بھی۔

اسی مخمصہ میں پھنسا تھا کہ نظر، دور پڑے ایک مخصوص ٹیلیفون پر پڑی جو بے مصرف پڑا تھا۔ چونگا اٹھایا تو مسکرا دیا۔ وہ پی اے ایف سے آئے لوگوں کی سہولت کے لئے ”چک لالہ بیس کا انٹر کام فون“ تھا۔

چک لالہ کی ایکسچینج کو لائن پر لاکر مقامی ائر ٹریفک کنٹرول روم میں بات کی۔ میس میں سبھی ایک دوسرے سے ملتے رہتے ہیں۔ ہنرمند کو یہ بھی زعم تھا کہ اسے کون نہیں جانتا! سو جان پہچان والا ایک چھڑا (کنوارا) رات دو بجے ڈیوٹی پر مل گیا۔ اس کو مسئلہ بتایا، ساتھ حل بھی دیا کہ ”فیصل بیس کراچی کے کنٹرول روم کو ہاٹ لائن پر لاؤ“ ۔ (یہ سائنس بھی ہنر مند کے علم میں تھی) ۔

چند لمحوں بعد ، فیصل بیس کے کنٹرول روم کا ایک افسر ”پیرالل“ لائن پر تھا۔ بچوں نے کراچی میں ماموں کا ٹیلیفون نمبر بتایا۔ جو کراچی میں دوسرے نمبر سے ڈائل کیا گیا۔ پھر فیصل ائر ٹریفک والوں نے دونوں فون ”الٹا پلٹا کر کے“ مجھے اور ماموں کو محو گفتگو کر دیا۔

یوں چند منٹوں بعد ، میں اور پھر بچے، پہلے ماموں اور پھر اپنی ماما سے کراچی میں بات کر رہے تھے۔ مفت کی گفتگو تھی۔ بچے اور ان کے گھر والے، ائرفورس اور اس کے ہنرمند کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔ بہرحال ان کو میں نے کراچی میں اپنے گھر کا نمبر دے دیا۔ اس تسلی کے ساتھ کہ دونوں بچے اب میری ذمہ داری ہیں۔ یوں بچوں نے فلیش مین ہوٹل میں رات پرسکون گزاری۔ اور کراچی میں ان کی والدہ نے۔

علی الصبح سے بھی پہلے کمروں کے باہر فلیش مین کی لابی میں ڈھول پٹ رہا تھا۔ اس اعلان کے ساتھ کہ مفت کا ناشتہ کر لیں، کیونکہ کراچی جانے کے لئے ایک بڑا جہاز آ چکا ہے جو صبح کی ریگولر فلائٹ کے مسافروں کے ساتھ نائٹ کوچ کے متاثرین کو بھی لے جائے گا۔

کثیر ستارہ ہوٹل میں، مفت کے ناشتہ میں جوس اور دلیہ پر ہاتھ صاف کرتے میں سوچ رہا تھا کہ اگر میں رات کو ہنرمندی نہ دکھاتا تو کیا، نائٹ کوچ کے چانس کے ٹکٹ پر مجھے آج صبح اس ریگولر فلائٹ میں سیٹ ملتی؟ یقیناً نہیں۔

واقعی ہنرمند کبھی بھوکا بھی نہیں رہتا۔

Facebook Comments HS