خیبر پختونخوا میں سکولوں کی نجکاری کیا قابل عمل ہے؟
قوم کے بچوں کو تعلیم تک رسائی دینا ’معیاری تعلیم مہیا کرنا اور صحت کی سہولیات مہیا کرنا ریاست کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ آئینی طور پر بھی ریاست حکومت کے ذریعے یہ بنیادی چیزیں لوگوں کو مہیا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں سرکاری پرائمری سکولوں کو نجی اشتراک میں چلانے کی تجویز کی خبر زیر گردش ہے۔ خبر کے مطابق پہلے مرحلے میں ناقص کارکردگی کے حامل سکولوں کی نجکاری ہوگی۔ ظاہر ہے نجی اشتراک کا مطلب یہی ہو گا کہ یہ سکول کوئی ٹھیکیدار ٹھیکے پر لے گا۔ فرم یا فرد کسی سکول کا فرنچائز حاصل کریں گے اور اپنے مرضی سے سکول چلائیں گے۔ طالبعلموں سے فیس کی مد میں ماہانہ پیسے لیں گے۔ بغیر پیسے لئے سکول کے اخراجات کیسے پورے کیے جا سکتے ہیں اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ بچوں سے فیس نہیں لیں گے۔ تعلیم کا معیار بغیر وسائل کے مہیا کیا جاسکتا اور نہ ایسا نظام دیرپا پائدار ہو سکتا ہے۔
پھر دو بنیادی نوعیت کے سوال پیدا ہوتے ہیں
اول: ان پرائمری سکولوں کی کارکردگی ناقص ہونے کی وجوہات کیا کیا ہیں۔
دوم: فیس لے کر تعلیم دینے والے سکول پہلے ہی سے موجود ہیں۔ فیس ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے بہت سے طالبعلم نجی سکولوں میں جانے کے بجائے سرکاری سکولوں کا رخ کرتے ہیں۔ تو پھر نجکاری کے بعد یہ بچے کہاں جائیں گے اور کیا ریاست تعلیم تک رسائی کی ذمہ داری سے اپنے اپ کو آزاد کر کے یہ بوجھ بھی پسے ہوئے طبقے کے ناتواں کندھوں پر ڈالنا چاہتی ہے۔
ماہرین تعلیم کو پتہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے مڈل ’ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں میں نسبتاً معیار اچھا ہے۔ اساتذہ کی کمی کا کوئی بڑا مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ سالانہ بورڈز امتحان کے نتائج بھی حوصلہ افزا ہیں۔ مانیٹرنگ کا نظام خوش اسلوبی اور مثبت نتائج کے ساتھ جاری ہے۔ قابل اور میرٹ پر ٹیچرز بھرتی ہو رہے ہیں۔
مسئلہ بعض پرائمری سکولوں میں اساتذہ اور کمرہ جماعت کی کمی کی وجہ سے ہے۔ صوبے کے بعض پرائمری سکولوں میں بچوں کی ناقص کارکردگی کی سب سے بڑی وجہ اساتذہ کی کمی یعنی دو اساتذہ کا بیک وقت 30 منٹ کے پریڈ میں سات کلاسز کو سنبھالنا اور پڑھانا ’کمرہ جماعت کی کمی یعنی دو کمروں میں سات جماعتوں کو بٹھانا‘ ECD/preprimary جیسے ضروری تعلیم کا عصری تقاضوں کے مطابق عدم دستیابی ’جدید اور جاری پروفیشنل ٹیچرز ٹریننگ کا فقدان‘ ناقص تعلیمی جائزہ یا سب کو پاس کرنے کی پالیسی سر فہرست ہیں۔
مزید یہ کہ ان سکولوں میں کوئی ایڈمن یا کلرک بھی موجود نہیں ہوتے ہیں۔ ٹیچرز دفتری امور اور کاغذات کی فارمیلٹی میں الجھ جاتے ہیں تو بچوں کے پاس شرارت اور کھیل کھود کے سوا کوئی متبادل نہیں بچتا ہے۔ استاد اوپر سے لیڈرز ’مانیٹرز‘ اے ایس ڈی اوز ’ایس ڈی اوز کے خوف کے سائے تلے سب کو الگ الگ سے جوابدہ ہیں۔ گو کہ اکثر سکول لیڈرز ٹیچرز کو تدریسی مدد بھی فراہم کرتے ہیں۔
ہونا کیا چاہیے
حکومت کو چاہیے پرائمری سکولوں میں فی جماعت الگ کلاس روم یعنی چھ کلاس رومز چھ اساتذہ مہیا کرے۔ تمام پرائمری سکولوں میں پری پرائمری ای سی ڈی کی ضروری اور بنیادی تعلیم کے لئے ٹرینڈ پروفیشنل خاتون ٹیچرز مہیا کرے۔ اور نتیجہ دیکھے۔
مڈل اور ہائی و ہائر سیکنڈری سکولوں میں اتنے مسائل نہیں ہیں۔ پرائمری میں استاد اور طالبعلموں کے غیر معقول تناسب اور الگ کمرہ جماعت کی عدم دستیابی کی وجہ سے بچوں کی ابتدائی پرائمری تعلیم بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ اس کمی کو مڈل اور اوپر لیول کے جماعتوں میں دور کرنا مشکل اور ناممکن بن جاتا ہے۔ بلکہ چھ سات سال پرائمری میں ان مسائل کی موجودگی میں بچے اور استاد ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ ان پر منفی اثر پڑتا ہے۔ بچوں کے سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں میں کمی آجاتی ہے۔ وہ passive learner بن جاتے ہیں یا پھر حوصلہ کھو دیتے ہیں۔ جن کو اگلے جماعتوں میں بھی پڑھانا ایک مشکل کام ہوتا ہے۔
حکومت ایک دفعہ پرائمری سکولوں میں پیار اور فراخدلی سے اصلاحات کی طرف توجہ دے۔ ان کے مسائل حل کر لے۔ اساتذہ اور کلاس رومز کی کمی پورا کرے۔ مانیٹرز ’لیڈرز اور ٹیچرز کے درمیان موجود خلیج اور خوف کو دور کرے۔ وہ خوف بانٹنے کے بجائے علم بانٹے۔ پھر دیکھ لے ان پرائمری سرکاری سکولوں میں داخلے کے لئے جگہ کم پڑ جائے گی۔ اور کارکردگی بھی نظر آ جائے گی ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں میں پہلے ہی سے بچوں کا رش بڑھ چکا ہے۔ ریزلٹ اور کارکردگی بھی پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے کم نہیں ہے۔
نجکاری اور منافع کمانے کے لئے بہت سارے مالیاتی منافع بخش ادارے پڑے ہوئے ہیں۔ جیسے پی آئی اے۔ اسٹیل ملز وغیرہ۔ اگر ضروری ہے تو ایسے متوقع منافع بخش اداروں کی شوق سے نجکاری کرے۔ منافع کمائے اور تعلیم کا بجٹ بڑھائے۔ تاکہ آبادی کے تناسب سے مزید سکول کھولے جا سکے۔ اساتذہ کو پروفیشنل جاری ٹریننگ مہیا کیا جا سکے۔ ان کی استعداد بڑھائیں۔ معیار تعلیم کے لئے دوسرے ملکوں کی طرح عصری تقاضوں کے مطابق جدید نصاب سازی کرے۔
جو والدین اس بات پر خوش ہیں کہ نجکاری سے ان کو کوئی فائدہ پہنچے گا اور اس سے والدین کی بچت ہوگی ان کو جاننا چاہیے کہ آپ کے بچوں کو استاد ہی نے پڑھانا ہے ادائیگی چاہیے آپ کرے یا سرکار۔ بس اتنی سی بات سمجھنی ہے کہ نجکاری میں ادائیگی والدین کو بھی ادا کرنا پڑھے گا۔ یا پھر بوجھ عوام پر ٹیکس کی صورت میں ڈالا جائے گا۔ کم پیسے میں اچھے استاد اور اچھے سکول کبھی دستیاب نہیں ہوتے۔ دوسرے ممالک میں بھی کوئی نہ کوئی ان کے لئے ادائیگی کرتے ہیں۔ نجی اشتراک کے عمل سے کہیں سرکار تعلیم دینے کی اپنی ذمہ داری اور بوجھ عوام پر تو نہیں ڈال رہی ہے۔


