دودھ دینے والا جولاہا اور جھانویں کا عشق مجازی
آج کل جس طرح لوگوں کے قد کاٹھ تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح فصلوں کی جسامت میں بھی کمی آ رہی ہے۔ ہماری جوانی کے دور میں مختلف فصلوں کی قدو قامت دور حاضر کی فصلوں کے دوگنا سے بھی زیادہ ہوا کرتی تھی۔ ایک بار ہم نے باجرے کی فصل کاشت کی۔ جب یہ فصل پک کر تیار ہو گئی تو اس کا قد اتنا بڑا تھا اتنا بڑا تھا کہ لگتا تھا کہ آسمان کے ساتھ ہی جا ملے۔ آپ اندازہ کر لیں کہ ساڑھے چھ فٹ قد کا بابا نورا ساڑھے تین فٹ کا طرہ سر پر باندھے اونٹ پر سوار ہو کر باجرے میں سے گزر رہا تھا اور وہ باجرے میں پوری طرح چھپ گیا تھا اور باہر کھڑے ہوئے آدمی کو بالکل بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
امین شاہ اپنی جوانی کے واقعات بھری محفل میں بیان کیے جا رہا تھا اور حاضرین بڑی توجہ اور انہماک سے سن رہے تھے۔ وہیں پر عاشق شاہ بھی موجود تھا۔ جو طبعاً بڑا شرارتی واقع ہوا تھا۔ اس سے رہا نہیں گیا اور وہ بول پڑا کہ نہ بابا میں نہ مانوں یہ تو بالکل جھوٹی بات ہے۔ چھ فٹ کا بابا نورا اور ساڑھے تین فٹ کا طرہ دس فٹ تو یہی بن گیا اور اوپر سے اونٹ پر سوار دس بارہ فٹ کا تو اونٹ بھی ہو گا۔ اتنا لمبا باجرے کا پودا اوں ہوں۔یہ تو ناممکن سی بات ہے۔
امین شاہ اس بے جا مداخلت اور حسابی کتابی جمع تفریق سے کچھ پریشان تو ہوا۔ لیکن بات کو سنبھالا دیتے ہوئے بولا کہ وہ اونٹ کے اوپر کھڑا تھوڑی تھا۔ وہ تو بیٹھا ہوا تھا۔ لیکن عاشق شاہ بھی ہار ماننے والا نہیں تھا جھٹ سے بول پڑا۔ چلو تین فٹ کم کر لو۔ پھر بھی اتنی اونچائی رکھنے والا کمزور سے تنے والا باجرے کا پودا سیدھا کھڑا ہی نہیں رہ سکتا۔ اب کہانی یہیں پر رک گئی تھی۔ اور اس بات کے سچا اور جھوٹا ہونے پر بحث چھڑ گئی۔
کچھ لوگ امین شاہ کے طرفدار تھے اور بات کو سچا ثابت کرنے کے لیے مختلف علمی دلائل دے رہے تھے۔ اس سلسلے میں کبیرے جولاہے کی دلیل بڑی مضبوط اور نسل انسانی کے ارتقائی عمل سے مربوط تھی۔ اس نے کہا، کہ زمین پر قدم رکھنے والا پہلا انسان بابا آدم تھا اور اس کا قد اٹھارہ ہاتھ کے قریب تھا۔ (ہاتھ لمبائی کی اکائی ہے جو گاؤں میں مستعمل ہوا کرتی تھی اور یہ انسانی کہنی سے لے کر انگلیوں کے اختتام تک لمبائی کے برابر ہوتی ہے۔) اب آپ لوگ اپنے قد کو دیکھ لیں۔ اڑھائی تین ہاتھ سے زیادہ قد کسی کا بھی نہیں ہے۔ جس طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسانی قد و قامت میں تبدیلی آئی ہے۔ بالکل اسی طرح مختلف فصلوں کی لمبائی پر بھی وقت نے منفی اثرات چھوڑے ہیں۔ اس قدر مضبوط تاریخی حوالے کے بعد عاشق شاہ کے حامی بھی کبیر جولاہے کے طرفدار بنتے ہوئے نظر آرہے تھے۔
اس نے صورت حال کر بگڑتے ہوئے دیکھا تو بولا۔ اچھا بھائیو اس بات کو چھوڑو اس کا فیصلہ بعد میں کریں گے۔ پہلے میری ایک بات سن لو پچھلے دنوں مجھے کوڑے فارم جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں میں نے ایک آدمی کو دیکھا۔ جس کا اوپر والا دھڑ انسان کا اور نیچے والا دھڑ بکری کا ہے۔ حاضرین میں سے اکثر بولے یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ پہلے میری بات غور سے سن لو تبصرہ بعد میں کرنا۔ ایک ایکسیڈنٹ میں اس شخص کا اوپر والا دھڑ نیچے والے دھڑ سے کٹ کر الگ ہو گیا تھا جائے حادثہ کے قریب ہی ایک ڈاکٹر کی دکان تھی۔ لوگوں نے اسے اٹھایا اور ڈاکٹر کے پاس لے آئے۔
یہ ڈاکٹر بڑا سیانا ڈاکٹر تھا۔ لیکن صورت حال کی سنگینی نے اسے بھی بوکھلا دیا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ کہ کیا کرے اتنی دیر میں اس کی نظر دکان کے باہر بندھی ہوئی ایک موٹی تازی بکری پر پڑی۔ اس کے دماغ میں ایک دم ایک جھماکا سا ہوا اور ساتھ ہی اس گمبھیر مسئلے کا حل اس کے ذہن میں آ چکا تھا۔ اس نے چھری اٹھا کر فوراً ہی بکری ذبح کر کے اس کا پیچھے والا دھڑ باقی جسم سے علیحدہ کیا اور اسے لاکر زخمی کے اوپر والے دھڑ کے ساتھ جوڑ دیا اور بکری کا بقیہ گوشت اس کے مالک کے گھر بھیج دیا۔
وہ شخص کچھ دن ڈاکٹر کے پاس رہا۔ اس کا دوا دارو ہوتا رہا۔ پندرہ بیس دنوں کے بعد وہ بھلا چنگا ہو کر اپنے گھر واپس آ گیا۔ وہ شخص ذات کا جولاہا ہے۔ سارا دن کھڈی پر بیٹھا کھدر بنتا رہتا ہے اور شام کو گھر جاتا ہے۔ تو گھر والے اس کے نچلے دھڑ میں لگے ہوئے بکری کے تھنوں سے دو کلو پکا دودھ نکالتے ہیں میں ان گنہگار آنکھوں سے اسے دیکھ کر اور اس سے مل کر آیا ہوں۔ کوڑا فارم ویسے بھی ہمارے گاؤں سے دس بارہ کوس کے فاصلے پر ہے۔ اگر کسی کو کوئی شک شبہ ہے تو وہ وہاں پر جاکر اسے دیکھ آئے۔
محفل پر مکمل خاموشی طاری تھی۔ حاضرین ابھی سچ اور جھوٹ کے ادھیڑ بن میں ہی تھے کہ امین شاہ کی آواز بلند ہوئی کہ عاشق شاہ یہ تو جھوٹی بات ہے۔ عاشق شاہ فوراً بولا کہ بابا اگر یہ بات جھوٹی ہے تو سچی تمہاری باجرے والی بھی نہیں ہے۔ اس طرح دونوں کا جوڑ برابری کی بنیاد پر اختتام پذیر ہو گیا۔
عاشق شاہ کی سلیمان جھانویں کے ساتھ بڑی یاری تھی۔ دونوں کی جوڑی بھی بڑی عجیب تھی۔ جھانواں ساڑھے چھ فٹ قد، متناسب جسم اور سرخ و سفید رنگت والا ایک خوبصورت نوجوان تھا۔ جب کہ عاشق شاہ سوا پانچ فٹ قد گہری سیاہی مائل رنگت کا حامل دبلا پتلا ایسا ازلی چھڑا تھا۔ جس کی عمر کا تعین کرنا خاصا مشکل کام تھا۔ کسی بھلے زمانے میں اس کی شادی ہوئی تھی۔ اور اس کی بیوی غالباً سال ڈیڑھ سال کے بعد ہی ایک بیٹے کو جنم دینے کے بعد چل بسی تھی۔
وہ اپنے بیٹے مشتاق شاہ اور والدہ ماسی مہربانو کے ساتھ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتا تھا۔ ماسی مہر بانو پورے گاؤں کی ماسی تھیں۔ وہ بھی جوانی کی عمر میں ہی بیوہ ہو گئیں تھیں۔ اور گاؤں کے بچوں اور بچیوں کو قرآن مجید پڑھا کر اپنا اور اپنے بیٹے عاشق شاہ کا پیٹ پالتی آئی تھیں۔ اور بعد میں اس دو افرادی کنبے میں مشتاق شاہ کا اضافہ ہو گیا۔ تب بھی ان کے نان نفقے کی ذمہ داری ماسی مہر بانو کے سر ہی رہی۔ عاشق شاہ اور سلیمان جھانواں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گاؤں کی گلیوں میں اکٹھے گھومتے ہوئے اکثر دکھائی دیا کرتے تھے۔
ان کے قد و قامت میں تضاد کی نسبت سے لوگوں نے اس جوڑی کو گلی ڈنڈے کے نام سے منسوب کر رکھا تھا۔ انہیں بھی اپنی اس عرفیت کا علم تو تھا۔ لیکن اس بارے میں اکثر بے نیازی کا اظہار کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ کچھ ایسا ہوا کہ دونوں میں کسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔ جھگڑے کے نقطہ عروج پر جھانویں نے ڈائیلاگ مارا۔ اگر میں نے تمہیں اٹھا کر سامنے کی دیوار پر دے مارا تو تم وہیں پر ہی چپک جاؤ گے۔ اور پھر وہاں سے تمہیں کھرپے کی مدد سے کھرچ کر ہی اتارا جا سکے گا۔
عاشق شاہ کو جھانویں کے مقابلے میں اپنی جسمانی کمزوری کا بخوبی احساس تھا۔ اس لیے اس سخت ڈائیلاگ کے ردعمل میں غصے کے گھونٹ پی گیا اور خاموش رہا۔ کچھ دن گزرنے کے بعد ہی دونوں کے تعلقات حسب سابق معمول پر آ گئے اور گلی ڈنڈے کی جوڑی ایک بار پھر گاؤں میں اکٹھے گھومتے ہوئے نظر آنے لگی۔ بلو گاؤں کی ایک خوبصورت مٹیار تھی۔ کاشت کار گھرانے سے تعلق کی بنیاد پر وہ سارا دن کام کاج میں مصروف رہتی۔ ڈنگروں کا گوبر اور گھر کا کوڑا کرکٹ باہر روڑی پر پھینکنے جا رہی ہے۔ کبھی مویشیوں کے لیے زمینوں سے چارہ کاٹ کر گھر میں لا رہی ہے۔
اسی آمدورفت میں اس کا ٹکراؤ گاؤں کی مشہور و معروف جوڑی گلی ڈنڈے سے بھی ہونے لگا۔ اب عاشق شاہ نے جھانویں کو اس بات کا احساس دلانا شروع کر دیا کہ بلو جب ان کے پاس سے گزرتی ہے تو جھانویں کو بڑی الفت اور چاہت کی نظروں سے دیکھتی ہے۔ ردعمل کے طور پر جھانواں بھی اس کی طرف متوجہ ہوتا گیا اور آہستہ آہستہ وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو کر باقاعدہ طور پر آہیں بھرنے لگا اور عاشق شاہ اس کی اس یک طرفہ محبت کو اپنی باتوں اور حرکات و سکنات سے باقاعدہ طور پر بڑھاوا دیتا جا رہا تھا۔
کبھی وہ جھانویں کو کہتا آج تم نے دیکھا کہ اس نے کسی طرح ترچھی نظر سے تمہیں دیکھا تھا۔ آج وہ تمہیں دل ہی دل میں سلام بھی کر رہی تھی۔ آج اس کی آنکھوں میں تمہارے پیار کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ یہ معاملہ اس وقت اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گیا۔ جب عاشق شاہ نے ایک قاصد کی حیثیت سے بلو کا پیٖغام سلیمان جھانویں تک پہنچایا کہ اسے سلیمان سے عشق ہو گیا ہے اور وہ اپنی موجودہ زندگی سے سخت بے زار ہو چکی ہے۔ وہ سلیمان کے ساتھ مل کر اپنی نئی زندگی کا آغاز کرنا چاہتی ہے۔ سلیمان اس کے لیے تیار رہے۔ پیسوں ویسوں کا بندوبست کر رکھے۔ وہ موقع محل دیکھ کر اسے پیغام بھجوائے گی اور وہ دونوں مل کر گاؤں سے نکل بھاگیں گے۔ اور دور دراز کسی بڑے شہر میں جا کر اپنی نئی زندگی کا آغاز کریں گے۔
جھانواں اپنی قسمت پر نازاں و رقصاں اپنے آپ کو فلمی ہیرو تصور کر رہا تھا۔ اس نے بیبے سے چوری چوری گھر سے تین چار بار گندم چرا کر علی دکان دار کو بیچ کر کچھ پیسے بھی اپنے پاس جمع کر لیے تھے اور اب وہ اپنے محبوب کے اشارے کا منتظر تھا۔
آخر کار وہ سعد گھڑی بھی آ پہنچی جس کا جھانویں کو شدت سے انتظار تھا۔ پوہ کی ایک ٹھھٹرتی ہوئی رات گیارہ بجے کے قریب عاشق شاہ نے جھانویں کے گھر کے دروازے پر ہلکی سی دستک دی۔ جھانواں جھٹ پٹ باہر تھا۔ عاشق شاہ نے آہستگی سے اسے بتایا کہ بلو زیورات اور کپڑوں کی گٹھڑی کے ساتھ پانڈو شاہ کے مربعے میں بڑی کیکر کے نیچے کھڑی اس کا انتظار کر رہی ہے۔ اس نے گھر کے اندر جاکر بڑا سا پگڑ باندھا کھیس کی بکل ماری اور ڈانگ موڈھے پر رکھ کر منزل کی جانب گامزن ہو گیا۔
جاتے ہوئے عاشق شاہ کو بھی تسلی دیتا گیا کہ وہ جہاں بھی جائے گا عاشق شاہ کے ساتھ بذریعہ خط و کتابت رابطے میں رہے گا۔ باہر ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ اس میں تیزی آ رہی تھی۔ اس کی جائے مطلوبہ بھی گاؤں سے کافی دور تھی۔ وہاں تک پہنچتے پہنچتے وہ بری طرح بھیگ چکا تھا۔ لیکن اس کے سینے میں جلتا ہوا عشق کا الاؤ اسے روشنی اور حرارت دونوں مہیا کر رہا تھا۔ وہ نئی امنگوں اور تازہ ولولوں کے ساتھ بلو کی تلاش میں سر گرداں تھا۔
بتائی گئی کیکر کے نیچے وہ موجود نہیں تھی ساتھ ہی کماد کی فصل تھی۔ دیکھے جانے کے خدشے کے باعث شاید وہ کماد میں چھپی بیٹھی ہو۔ یہ سوچ کر جھانواں بھی اس فصل میں داخل ہو گیا۔ ابھی چند قدم ہی آگے بڑھا تھا کہ اس کے دونوں پاؤں گارے میں دھنس گئے۔ فصل کو کئی دنوں سے پانی لگا ہوا تھا۔ زمین گیلی ہو کر اس قدر نرم ہو چکی تھی کہ وہ گھٹنوں تک اس میں دھنس چکا تھا۔ اس نے زور لگا کر ایک پاؤں نکال کر آگے رکھا اور جب زور لگا کر دوسرے پاؤں کو باہر نکالا تو پہلے والا دوبارہ اندر دھنس چکا تھا۔
غرض کہ وہ زور لگا کر ایک پاؤں باہر نکالتا تو دوسرا اندر دھنس جاتا۔ اسی طرح دس پندرہ منٹ کی زور زوری اور دھنسم دھنسائی کے بعد وہ اپنے آپ کو کماد کی فصل سے باہر نکالنے میں تو کامیاب ہو گیا۔ لیکن اس جہد مسلسل کے دوران وہ اپنے پاؤں کے ایک جوتے سے محروم ہو چکا تھا۔ جو کہیں کیچڑا میں موجود تھا لیکن اس کی رسائی سے باہر ہو چکا تھا۔ اس نے جوتے پر تین حرف بھیجے اور بلو کے سہ حرفی نام کا ورد شروع کر دیا۔ وہ مدھم آواز میں بلو بلو پکا رہا تھا۔ مبادا کوئی اور سن لے
وہ گھٹنوں تک گارے میں لتھڑا ہوا تھا۔ تمام کپڑے بارش سے بری طرح بھیگ چکے تھے اور اب ہلکی ہلکی ژالہ باری بھی شروع ہو چکی تھی اور وہ تھا کہ مدھم آواز میں بلو کو بار بار پکار تا ہی چلا جا رہا تھا اور بلو اپنے گھر میں گرم بستر میں گھسی ہوئی اس سے اور باقی دنیا و مافیا سے بے خبر خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی۔ ساری رات بلو بلو پکارتے اسی کی تلاش میں شدید سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے گزری۔ لیکن اسے تو نہ ہی ملنا تھا اور نہ ہی وہ ملی۔
جوں ہی گاؤں کی مسجد سے فجر کے لیے اذان کی آواز بلند ہوئی تو اس نے واپسی کا رخ کیا۔ رات بھر کی بارش شدید سردی گارے میں لت پت جوتے کی گم شدگی اور حصول منزل میں ناکامی جیسے عوامل نے اس کے سر سے عشق کا بھوت اتار دیا تھا اور اب وہ عشق کی بجائے عقل سے سوچ رہا تھا۔ جوں جوں وہ سوچتا گیا صورت حال اس پر واضح ہوتی چلی گئی۔ اس یک طرفہ عشق کا پاکھنڈ تو سارے کا سارا ہی عاشق شاہ کی جانب سے رچایا گیا تھا۔ فریق ثانی تو اس سے قطعاً لاعلم تھا۔ جس کی تلاش میں جھانواں ساری رات خجل خوار ہوتا رہا۔
جوں جوں وہ گاؤں کے نزدیک آ رہا تھا اس کے غصے میں تیزی آتی جا رہی تھی۔ وہ سیدھا عاشق شاہ کے دروازے پر پہنچا اور اسے اتنی زور سے کھٹکھٹایا کہ لگتا تھا دروازہ ہی ٹوٹ جائے گا۔ عاشق شاہ تو اپنی واردات سے بخوبی آگاہ تھا۔ اس لیے اندر خاموشی سے دبکا بیٹھا تھا۔ اب سلیمان جھانواں مسلسل دروازہ بھی کھٹکھٹا رہا تھا اور شاہ جی کو برا بھلا بھی کہہ رہا تھا۔ اس کا شور شرابا سن کر اور لوگ بھی وہاں جمع ہو گئے۔
اب وہ اس سے باقاعدہ دریافت کر رہے تھے کہ کیا بات ہوئی ہے۔ بابے ہندو نے اس کا بغور جائزہ لیا اور اسے گھورتے ہوئے پوچھا تم کہاں سے آرہے ہو۔ بارش میں بھیگے ہوئے کیچڑ میں لت پت ایک پاؤں سے ننگے تم کیا کر کے آرہے ہو اور عاشق شاہ سے تمہیں کیا شکایت ہے۔ اب جھانویں کو ہوش آیا اس کی تو اپنی حالت مشکوک تھی۔ سو اس نے وقتی طور پر پسپائی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔
اتنی دیر میں عاشق شاہ نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر باہر جھانک کر لوگوں سے کہا اس سے پوچھو میں نے کیا کیا ہے۔ یہ میرے ساتھ کیوں لڑ رہا ہے۔ میں نے اس کا بگاڑا کیا ہے۔ اب لوگ سلیمان جھانوین سے باقاعدہ طور پر پوچھ رہے تھے کہ اس کا عاشق شاہ سے جھگڑا کیا ہے۔ اور یہ کہ اس کی یہ حالت کیوں ہے۔ حالات کو بگڑتا ہوا دیکھ کر سلیمان جھانواں خاموشی سے اپنے گھر لوٹ آیا اور چند دن گزرنے کے بعد گلی ڈنڈے کی جوڑی ایک بار پھر ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گاؤں کی گلیوں میں گھوم پھر رہی تھی۔


