سندھ میں ڈاکو راج
سندھ میں ڈاکو راج کا سلسلہ ایک بار پھر سے تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے اور ہر آئے دن کہیں نا کہیں کوئی نا کوئی شخص اغوا ہو رہا ہے یا یوں کہیں کہ کہیں نا کہیں کوئی ڈاکوؤں کے ہاتھوں لوٹا جا رہا ہے۔ حکومت سندھ اس سلسلے میں کچھ بھی کرنے سے قاصر دکھائی دے رہی ہے پولیس سمیت سندھ کے حکمران سندھ کے اپر سائیڈ شہریوں کندھ کوٹ، کشمور، گھوٹکی، اباوڑو، ڈہرکی، شکارپور اور جیکب آباد میں ڈاکوؤں کا پورا جال بچا ہوا ہے مگر ہماری سندھ پولیس کو وہ کہیں نظر نہیں آتے ہیں۔
گزشتہ چند دنوں سے کندھ کوٹ، کشمور کے کچے کے علاقے میں ڈاکو سرعام جدید اسلحے کی وڈیوز بنا کر نمائش کر رہے ہیں اور وہ بھی اپنی مرضی سے رکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر وائرل کی جا رہی ہیں جس سے لگ رہا ہے کہ وہ اس ملک کی ریاست اور رٹ کو چیلینج کر رہے ہیں مگر اس پر کوئی بھی اقدام اٹھایا نہیں جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس وقت بھی کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے پاس 500 سو سے زائد مغوی قید ہیں جن کی رہائی کے لئے وہ سوشل میڈیا پر ان کو تشدد کرتے ہوئے ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر چھوڑ رہے ہیں مگر اگر کسی کو رسائی حاصل نہیں ہے تو وہ ہے ہماری پولیس جو صرف باتیں کرنے کی تو ماہر ہے مگر ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔
کچے کے علاقوں میں ڈاکو اتنے تو مضبوط ہو گئے ہیں جو ان کو اس پولیس کا کوئی ڈر نہیں ہے اور ہو گا بھی کیوں؟ کیوں کے ان کے پاس اتنا تو جدید اسلحہ ہے جو ہماری پولیس کے پاس وہ اسلحہ نہیں ہے اور ایسا کئی بار ہوا ہے کہ سابق آئی جیز نے وزیر اعلیٰ سندھ کو جدید اسلحے کے لئے تحریری طور پر لکھا ہوا بھی ہے لیکن وہ صرف کاغذی کارروائی کے نظر ہو گیا ہے۔ لگ یوں رہا ہے کہ ہم 2024 ع میں نہیں بلکہ 1980 ع کے دور میں رہ رہے ہیں جب ڈاکوؤں کا عروج ہوا کرتا تھا اور وہ ہی عروج اب دوبارہ دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ کس طرح ریاست کی رٹ کو چیلینج کرتے ہیں۔
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بے گناہ افراد کو قتل کیا جا رہا ہے کچھ دن قبل اللہ رکھیو نندوانی جو پیشے کے لحاظ سے استاد تھے اور وہ کشمور کے کلسٹر اسکول نصراللہ بجارانی میں پڑھاتے تھے، اس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے معصوم بیٹے کے ساتھ موٹرسائیکل پر بیٹھا ہوا ہے اور گلے میں دونالی بندوق رکھی ہوئی ہے اور بتا رہا ہے کہ وہ مستقبل کے معماروں کو پڑھانے کے لئے کچے کے علاقے میں جاتا ہے جس پر کئی بار اس کے لوٹ مار ہوئی ہے جس سے تنگ آ کر اس نے لائسنس یافتہ بندوق رکھی ہے تاکہ ڈاکوؤں سے بچا جا سکے۔
اس استاد اللہ رکھیو نندوانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنے مستقبل کے معماروں کو ہر حال میں پڑھانا چاہتے ہیں اس لئے وہ اسلحہ لے کر اسکول جائیں گے کیوں کہ میرا دل مطمئن نہیں ہو رہا ہے کہ بچوں کو نا پڑھاوں۔ استاد اللہ رکھیو نندوانی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے دو تین دن بعد اس کو ڈاکوؤں نے شہید کر دیا اور وہ اسکول جو کشمور کے کلسٹر نصراللہ بجارانی اب ایسے فرض شناس استاد سے محروم ہو گیا۔ استاد اللہ رکھیو نندوانی نے ویڈیو بھی خود وائرل کی تھی تاکہ حکمرانوں کو ہوش آ سکے کے جس ہاتھ میں قلم ہوتا ہے وہ اپنے مستقبل کے معماروں کو پڑھانے کے لئے اسلحے کا سہارا لے کر اسکول جا رہا ہے کیونکہ اس کی زندگی خطرے میں ہے۔
اب کلسٹر نصراللہ بجارانی اسکول کے بچے اک ایسے استاد سے محروم ہو گئے جو اپنے لئے خطرہ مول کر بھی ان معصوم بچوں کو پڑھانے جاتا تھا مگر اس واقعے کے بعد شاید ہی کوئی استاد اس اسکول میں ڈیوٹی کرے۔ سندھ حکومت کے وزیر ضیاء لنجار نے رپورٹ طلب کی ہے مگر ہو گا کیا کچھ بھی نہیں کیونکہ اس ملک کا المیہ رہا ہے کہ یہاں پر کچھ ہونے سے پہلے پکارا جاتا ہے کہ اس کی زندگی خطرے میں ہے مگر اس پر کوئی دھیان نہیں دیتا پھر جب اس کی زندگی کا دیا بجھ جاتا ہے تو پر اس پر کمیٹی بنائی جاتی ہے اور وہ کمیٹی کبھی بھی اصل حقائق تک نہیں پہنچتی اور آخرکار شہید ہونے والے فرد کے افراد بیزار ہو کر کیس کی پیروی کرنا ہی بند کر دیتے ہیں۔
سو بات ہو رہی تھی سندھ کے گھوٹکی، ڈھرکی، کندھ کوٹ، کشمور، شکارپور اضلاع کی جہاں پر ڈاکو راج نے پورے سماج کو مفلوج بنا دیا ہے مگر سندھ حکومت یا وفاقی حکومت اس پر کوئی ایکشن اٹھانے کو تیار نہیں ہے۔ اب تو حیرت کی بات ہے کہ سوشل میڈیا پر مسلسل پوسٹس شیئر ہو رہی ہیں کہ سندھ میں جنگل کا قانون ہے اس لئے شہری اپنی حفاظت خود کریں اور پنجاب جانے والے مسافر کوشش کریں کہ شام سے پہلے سکھر، کشمور، کندھ کوٹ سے نکل جائیں تاکہ کسی ڈاکو کے ہتھے نا لگ جائیں۔
یہ اس طرح کی پوسٹس کیا ثابت کر رہی ہیں کہ سندھ میں واقعی جنگل کا قانون ہے؟ کچے میں کتنے ڈاکو ہوں گے ؟ زیادہ سے زیادہ ایک ہزار، مگر ہم اس کو مزید بڑھاتے ہیں فرض کریں دس ہزار جو ہوہی نہیں سکتے مگر وہ ڈاکو اس ریاست کو مسلسل چیلینج کر رہے ہیں۔ ریاست سے کون سی چیز ہے جو مدمقابل ہو سکتی ہے بالکل بھی نہیں چند سو ڈاکوؤں نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے، حکومت اگر مخلصی کے ساتھ ڈاکو کلچر کو ختم کرنا چاہے تو پانچ دن بھی بڑے ہیں مگر وفاقی اور سندھ حکومت کی خاموشی سے لگ رہا ہے کہ شاید پیر، میر، وڈیرے، سیاستدان اور حکمران نہیں چاہتے کہ ڈاکو راج ختم ہو۔
اس وقت ڈاکوؤں کے قبضے میں پانچ سو سے زائد افراد باندی ہیں ان کے ورثا کے پاس اتنا پیسا نہیں ہے کہ وہ ان کا تاوان دے کر ان کو چھڑا سکیں جس کی وجہ سے ان کے لخت جگر آج بھی ان ڈاکوؤں کے پنجے میں ہیں جو سوشل میڈیا پر ہاتھ جوڑے ہوئے اپنے ورثاء اور پولیس کو مدد کی اپیلیں کرتے دکھائی دیتے ہیں مگر لگ رہا ہے کہ سب حکمران بے حس ہو گئے ہیں جن کو یہ سب کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کو چاہیے کہ ایک مشترکہ کارروائی کر کے سندھ کو ڈاکو راج سے نجات دلائی جائے تاکہ سکھر، شکارپور، کندھ کوٹ، کشمور، جیکب آباد کے علاقوں کی عوام سکون کی سانس لے سکیں۔

