عطاء تارڑ، عظمیٰ بخاری بمقابلہ پروپیگنڈا ٹرولز


خواتین کا بڑے عہدوں پر فائز ہونا گھریلو خواتین اور سکول، کالجز، یونیورسٹی کی طالبات کے لیے باعث فخر اور ایک امید کی کرن کی مانند ہوتا ہے۔ جیسے مریم نواز پنجاب کی تاریخ کی پہلی وزیر اعلی پنجاب منتخب ہوئی ہیں۔ پنجاب میں خواتین کی ایک بڑی تعداد نے مریم نواز کو اس بڑے عہدے پر فائز ہوتے دیکھ کر مسرت اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ حالیہ دنوں میں مریم نواز کے رمضان پیکج کی تقسیم کے دوران عام شہریوں کے گھروں میں وزٹ کے دوران دیکھنے کو ملا۔

پھر وہ ایک رمضان بازار میں گئی تو خواتین کی بڑی تعداد نے ان سے ملاقات کر کے خوشی محسوس کی۔ ایک عورت ہی دوسری عورت کو بڑے عہدے پر دیکھ کر فخر محسوس کرتی ہے جبکہ مردوں کا ایک بڑا طبقہ اس عورت کے خلاف ہوتا ہے۔ مریم نواز کے بعد عظمیٰ بخاری پنجاب میں وزیر اطلاعات جیسے اہم عہدے پر فائز ہوئی ہیں۔ عظمی بخاری ایک سیاسی ورکر ہیں انہوں نے اپنی سیاست کا آغاز بھی عام ورکر کی طرح ہی کیا۔ گزشتہ 15 سال سے انہوں نے سیاست کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔

خصوصاً تحریک انصاف کے دور حکومت میں عظمی بخاری کا سیاسی قد کاٹھ زیادہ بڑھا کیونکہ ان دنوں نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن مسلم لیگ نون کے ہر رہنما کے پیچھے ڈنڈے سوٹے لے کر لگے ہوئے تھے، اس دوران عظمی بخاری نے ہر فورم پر چاہے وہ پنجاب اسمبلی ہو میڈیا ہو یا عدالتیں ہوں ہر سطح پر پارٹی کی قیادت کا دفاع کیا اور نواز شریف کے اعتماد پر پورا اتری، اس کی بڑی وجہ عظمیٰ بخاری میں قدرتی طور پر یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں دباؤ کا شکار نہیں ہوتی۔

عظمیٰ بخاری اگر آج پنجاب کی وزیر اطلاعات بنی ہیں گو کہ اس میں میاں نواز شریف کا ہی مرکزی رول ہے کیونکہ نواز شریف عظمی بخاری کو بیٹی کی طرح پیار کرتے ہیں جبکہ عظمی بخاری نے بھی ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی حکومت کی ترجمانی کرنے کی اہل ہیں۔ اگر وفاق کی بات کی جائے تو وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ ایک ذہین اور تجربہ کار شخصیت ہیں۔ شہباز شریف 10 سال جب پنجاب میں وزیراعلی رہے اس دوران حکومتی معاملات ہوں یا دیگر سیاسی معاملات ہوں عطا ء تارڑ نے ان سب کو بڑے قریب سے دیکھا اور ہینڈل بھی کیا۔

اسی دوران وہ شہباز شریف کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جبکہ 16 ماہ اتحادی حکومت کے دوران عطا ء تارڑ نے مشیر داخلہ ہونے کے باوجود بھی میڈیا کا محاذ سنبھالے رکھا۔ عطاء تارڑ میں بھی ایک خصوصیت ہے کہ وہ میڈیا کو بڑے اچھے انداز میں ہینڈل کرتے ہیں۔ عظمیٰ بخاری اور عطاء تارڑ میں ایک چیز مشترک ہے دونوں میڈیا فیلو ہیں، دونوں میں انا، تکبر اور غرور نام کی کوئی چیز نہیں ہے جبکہ اکثر سیاستدان وزیر بننے کے بعد عام آدمی تو دور صحافیوں سے سلام دعا کرنا بھی توہین سمجھتے ہیں۔

صحافیوں کا وزرا سے سب سے بڑا ایک ہی گلا ہوتا ہے کہ آپ ہمارا فون بھی نہیں اٹھاتے اور میسج کا جواب تک نہیں دیتے جبکہ عطا تارڑ اور عظمیٰ بخاری میں یہ عادت سرے سے ہی موجود نہیں۔ وہ عام آدمی ہو، ان کے پارٹی ورکر ہوں یا صحافی ہوں سب کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات قائم رکھتے ہیں۔ اسی عادت کی وجہ سے یہ دونوں شخصیات میڈیا کی خصوصاً صحافیوں کی ڈارلنگ ہیں۔ صحافی بھی زیادہ تر ان وزراء کے قریب رہتے ہیں جو ان کو عزت دیتے ہیں۔

آپ اگر آج بھی عطا تارڑ اور عظمی بخاری کے دفاتر میں جائیں تو وہاں آپ کو چار پانچ صحافی بیٹھے لازمی ملیں گے اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ یہ دونوں وزرا میڈیا فرینڈلی ہیں۔ وزارت اطلاعات کی ذمہ داری بہت بڑی ذمہ داری ہوتی ہے اس کو احسن طریقے سے چلانا بھی ایک مشکل ترین ٹاسک ہوتا ہے۔ حکومت نے اب اپنے پاؤں جما لیے ہیں اب آنے والے دنوں میں اپوزیشن جماعت کی جانب سے ان دونوں وزراء کو کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان دونوں کا جس جماعت کے ساتھ مقابلہ ہے وہ صرف پروپیگنڈے کی بنیاد پر اپنی سیاست چلاتے ہیں پروپیگنڈے کا جواب صرف پروپیگنڈا ہی ہوتا ہے نا کہ پروپیگنڈے کا دفاع کرنا اور اس کا جواب دینا اس کا کبھی بھی حل نہیں رہا عطا تارڑ اور عظمی بخاری تجربہ کار وزراء ہیں۔ ان کے پاس وسیع معلومات ہیں وہ اپنی پارٹی قیادت کے فیصلوں پر پورا اترنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ان دونوں وزراء کو پروپیگنڈا ٹرولز کی جرم تراشیاں کے لیے ہر وقت خود کو تیار رکھنا پڑے گا کیونکہ جب تک ان ٹرولز کا وجود باقی ہے یہ شیطانی کرتے رہیں گے اور پاکستان میں افراتفری کا ماحول بنائے رکھیں گے۔

Facebook Comments HS