ویجائنا میں رسولی!


نشتر ہسپتال پہنچ کر ہمارا وہی حال ہوا جو کھل جا سم سم کے بعد علی بابا کا ہوا۔ ہمارے سامنے نہ جانے کیا کچھ کھل گیا۔

صبح صبح وارڈ میں راؤنڈ ہوتا اور پھر پروفیسر عطا اللہ خان کے ساتھ او پی ڈی کی طرف چل پڑتے۔ وہ وہاں جا کر ایک بڑی میز کے پیچھے بچھی کرسی پر بیٹھ جاتے اور ہم سامنے بنے چار کیوبیکلز میں گھس جاتے۔

باہر ہال میں دور دراز گاؤں دیہات کی عورتیں ہاتھ میں پرچی تھامے قطار لگائے بیٹھی ہوتیں۔ او پی ڈی کی ماسی ان کو ایک ایک کر کے کیوبیکلز میں بھیجتی جاتیں۔

وارڈ نمبر سولہ میں سپیشلائز کرنے والوں میں لڑکیاں لڑکے دونوں شامل تھے۔ زیادہ تر کی عمر تیس برس سے کم تھی۔ لڑکوں میں اشرف، عمار، افضال اور حنیف جبکہ لڑکیوں میں روبینہ، روزینہ، مجاہدہ، شکیلہ، فرح، شیریں، ہنیہ اور سمیرا شامل تھے۔

سینئیر رجسٹرار ڈاکٹر ندرت، ڈاکٹر نصیر اور ڈاکٹر ناہید فاطمہ، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز، ایسوسی سیٹ پروفیسر ڈاکٹر سمیع تھے۔

ڈاکٹر عطا اللہ خان کے آس پاس پڑے صوفوں پہ ان میں سے موجود سینئیر بیٹھ جاتے، گپ شپ چلتی اور چائے پانی بھی۔

ہر کیوبیکل میں ایک معائنہ کرنے والی میز ہوتی، سامنے لائٹ، سائیڈ پہ اوزار، کیوبیکل کے سامنے پردہ۔ مریض میز پر لیٹ جاتی اور ایک یا دو ٹرینیز پہلے اس سے ہسٹری لیتے پھر معائنہ کرتے، سوچ کر تشخیص کی لسٹ بناتے اور پھر کمرے میں بیٹھے سینئیر ڈاکٹروں کے کان کھاتے۔

ہمارا اور ڈاکٹر فرح کا ساتھ اس زمانے سے ہی شروع ہوا۔ فرح ہسٹری لیتیں، ہم معائنہ کرتے، وہ پرچی پر سب کچھ لکھتیں اور ہم پرچی لے کر سیدھا پروفیسر عطا کے سر پر۔ پروفیسر عطا بہت ہی شفیق انسان، جن کے چہرے پر ہر وقت مسکراہٹ کھیلتی رہتی۔

ہم ان کے پاس جا کر مریض کی ہسٹری سنا کر بتاتے کہ معائنے میں ہم نے کیا دیکھا؟

وہ پوچھتے، سوچو یہ کیا ہو سکتا ہے؟ ہم دماغ لڑا کر جواب دیتے۔ کبھی ٹھیک ہوتا، کبھی غلط۔ پروفیسر عطا کبھی سر ہلا دیتے اور کبھی کہتے نہیں یوں نہیں، یوں۔

سر کرنا کیا ہے؟ ہم پوچھتے۔
سر جواب دیتے اور ہم ان کا جواب پرچی پر لکھنا شروع کر دیتے۔

ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم نے ان تین برسوں میں پروفیسر عطا سے جو کچھ سیکھا، اس کی جھلک آج ہمارے کام میں ہے۔ سر انگلستان میں طویل عرصہ کام کر کے آئے تھے، پڑھنے پڑھانے کے شوقین تھے۔ سو وہ ہمیں ویسے ہی بتاتے جیسے اپنے بچوں کو۔ جی یہ بتانا بھول گئے کہ سر کے بچے، بہو اور بیگم بھی ہمارے ساتھ ہی کام کرتے تھے۔ ہنیہ، یاسر، ڈاکٹر نگہت عطا۔ چراغ جلانے کا سلسلہ سر نے اپنے گھر سے ہی شروع کیا تھا۔

آج اس تمہید کی ضرورت یوں پیش آئی کہ نشتر کے کیوبیکلز یاد آ گئے۔ جہاں ہم نے ایسے ایسے مریض دیکھے جو بعد میں کم ہی دیکھنے کو ملے۔ نشتر ہسپتال میں آنے والے جنوبی پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے دور دراز کے لوگ تھے جو مقامی ڈاکٹرز سے مایوس ہو کر نشتر کا رخ کرتے تھے اور یہاں پروفیسر عطا اللہ جیسے ڈاکٹر موجود تھے جو او پی ڈی سے ڈھائی بجے ہمارے ساتھ رخصت ہوتے۔ وقت کے مطابق سرکاری ہسپتال میں بیٹھنے کی یہ عادت پروفیسر عطا کی ایک نایاب خوبی تھی جس نے ہمیں بہت کچھ سکھایا۔

غریب حلیے بشرے کی بے حال خواتین آتیں جن کی بنیادی شکایات ماہواری میں ناہمواری، جنسی تعلق کے بعد خون آنا، ویجائنا سے بدبو دار لیس دار مادہ کے اخراج ہوتا۔

ہم جونہی ان کی ویجائنا میں اوزار ڈال کر دیکھتے۔ ویجائنا ایک عجیب و غریب، خون / پیپ سے بھری رسولی سے بھری ہوتی۔ ایسے معاملات میں ہم فرح سے کہتے، سر کو بلاؤ۔ وہ بھاگی جاتیں، سر اٹھ کر آتے اور دیکھ کر سر ہلاتے ہوئے کہتے، cauliflower like growth ہے بھئی۔

پہلی بار سن کر ہم چونک کر کہہ بیٹھے۔ گوبھی جیسی؟
سر بولے۔ ہاں گوبھی جیسی لیکن گوبھی ہے نہیں، یہ سروکس کا کینسر ہے جو ویجائنا میں پڑا نظر آ رہا ہے۔

ہمارا دل دھک سے رہ جاتا۔ اوہ یہ بے چاری کینسر کا شکار عورت جو سٹیج تھری تک پہنچ چکا ہے۔ کیا ہو گا اب؟

سر بائیوپسی کے لیے داخل کرنے کا کہتے۔ بائیوپسی کا نتیجہ وہی ہوتا جو سر نے دیکھتے ہی بتا دیا تھا۔ ویجائنا میں گوبھی کا پھول یعنی کینسر سروکس۔

اب تک آپ جان ہی چکے ہوں گے کہ بچے دانی کے منہ کو سروکس کہتے ہیں۔ یہ وہی منہ ہے جو زچگی کے دوران کھلتا اور پھر بند ہو جاتا ہے۔

سروکس کا کینسر غریب اور کم آمدنی والے ملکوں میں بہت عام ہے اور پاکستان میں یہ تیسرا بڑا کینسر ہے جو عورتوں کو موت کے منہ میں لے جاتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق 2020 میں پوری دنیا میں ساڑھے چھ لاکھ مریض رپورٹ ہوئے جن میں سے ساڑھے تین لاکھ نے موت کو گلے لگایا اور ان میں زیادہ تر تعداد پسماندہ ملکوں کی عورت کی تھی۔

اس کینسر کو ہونے سے پہلے پکڑا جا سکتا ہے اگر عورتیں ہر دوسرے برس ایک ٹیسٹ کروانا نہ بھولیں جسے پیپ سمیر کہتے ہیں۔ ویجائنا کے راستے سروکس سے برش کی مدد سے کچھ سیل لیے جاتے ہیں جنہیں مائیکروسکوپ کے نیچے دیکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی کینسر سیل موجود ہو تو اسی وقت علاج شروع ہو جاتا ہے۔

مشکل یہ ہے کہ پاکستان میں پڑھے لکھے مریضوں سے بھی اگر پوچھا جائے کہ پیپ سمیر کروایا ہے کبھی تو وہ منہ کھول کر پوچھیں گے، وہ کیا ہوتا ہے؟

آپ بتائیے کہ ہم کیا کریں؟

Facebook Comments HS