استاذالاساتذہ پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا


دنیائے اردو ادب کے ممتاز اور بین الاقوامی شہرت و مقبولیت کے حامل معروف محقق، ادیب، نقاد، مفکر، مدون، مولف، مصنف، ماہر اقبالیات، ماہر امجدیات، ادیب اور استاذ الاساتذہ جناب پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب کی تاریخ ولادت پاکستان سے ہم رشتہ ہے اور قیام پاکستان سے جڑی ہوئی ہے۔ 23 مارچ 1940 یوم قرارداد پاکستان بھی ہے اور پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب کا یوم ولادت بھی۔

سید فخرالدین بلے کی قائم کردہ ادبی تنظیم قافلہ کے ماہانہ اور خصوصی پڑاؤ کے مستقل شرکاء میں سے ایک جناب ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب بھی ہیں۔ مجید امجد کی یاد میں بھی جتنے پڑاؤ ڈالے گئے یا سید فخرالدین بلے کے قائم کردہ اشاعتی ادارے معین اکادمی کے زیراہتمام جب ڈاکٹر وزیر آغا کی کتاب مجید امجد کی داستان محبت کی اشاعت کا اہتمام بھی معین اکادمی نے کیا اور قافلہ کا ایک خصوصی پڑاؤ بھی مجید امجد کی داستان رفاقت کی رونمائی کے لیے ڈالا گیا تو اس میں بھی ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب نے بھرپور انداز میں شرکت فرمائی۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب کی منفرد زاویوں اور مختلف موضوعات پر فکر انگیز گفتگو دیگر شرکائے قافلہ کو اپنے سحر میں لیے رکھتی۔ محترمہ صدیقہ بیگم کہا کرتی تھیں کہ جے ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب نے مجید امجد ول نہ تکیا ہوندا تے مجید امجد تے رل جاندا۔ ہفت روزہ آواز جرس کے مدیر اعلی جناب سید فخرالدین بلے شاہ صاحب تھے اور راقم السطور ظفر معین بلے بحیثیت مدیر آواز جرس خدمات انجام دینے والوں میں سے۔ آواز جرس نے دو مرتبہ مجید امجد کو خراج پیش کرنے کے لیے اشاعت خاص کا اہتمام بھی کیا۔ جب آواز جرس کی ادارت کے ساتھ ساتھ ادب لطیف کے بھی مدیر کی ذمہ داریاں محترمہ صدیقہ بیگم نے ہمارے ناتواں کاندھوں پر ڈال دیں تو فراغت کے لمحات بمشکل تمام ہی میسر آتے تھے۔ بعض اوقات ادارت کے امور کے حوالے سے یا آواز جرس اور ادب لطیف میں اشاعت کے لیے موصول ہونے والے مواد کے حوالے سے یا کسی اشاعت کے معاملے میں مشاورت اور راہنمائی کی ضرورت ہوتی تو میں بلا جھجک جناب ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب سے رجوع کرتا۔ وہ ہر ممکن راہنمائی فرماتے تو اس کے ساتھ یہ ہدایت بھی فرماتے کہ آپ جناب سید فخرالدین بلے صاحب سے بھی مشورہ کر لیجے بلکہ میری تجویز کے تناظر میں پوچھ لیجے ممکن ہے آپ کے لیے مزید کوئی بہتر صورت سامنے آ جائے۔ بے شک انہوں نے ہمیشہ بہت قیمتی مشوروں سے نوازا اور ہر فام اور ہر مرحلے پر دل کھول کر حوصلہ افزائی فرمائی۔ میں نے ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب کو ہمیشہ ہر قسم کی ادبی گروہ بندی سے لاتعلق اور منکسرالمزاج، ہمدرد اور مخلص ہی پایا۔ کبھی کبھار ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب کی جناب سید عارف معین بلے صاحب سے بھی (کہ جب وہ قافلہ پڑاؤ میں موجود ہوتے اور ملتان سے تشریف لائے ہوئے ہوتے ) مختلف ادبی موضوعات پر مفصل اور دلچسپ گفتگو سننے کو ملی۔

ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب کی بے مثل خدمات کے اعتراف میں انہیں قومی اعزاز تمغۂ حسن کارکردگی بھی دیا جا چکا ہے۔ ان کی تصانیف اور تالیفات کی فہرست بہت طویل ہے لیکن اس طویل فہرست میں شامل چند کتب کا تذکرہ یہاں کرنا از حد ضروری ہے۔

اردو کی قدیم اصناف شعر
نئے پرانے خیالات (تنقیدی مضامین،
اردو کتابیں (فہرست مصادر
اردو میں قطعہ نگاری (تحقیق و تنقید،
پریم چند کے بہترین افسانے (تنقید / انتخاب،
اقبال کا ادبی مقام (تنقید
ان گنت سورج (انتخاب کلام مجید امجد

اکبر الہ آبادی: تحقیقی و تنقیدی مطالعہ (مجلس ترقی ادب لاہور، 1980 ء) ، اس کتاب پر 1980 ء کا داؤد ادبی انعام برائے تحقیق و تنقید دیا گیا۔

کلیات مجید امجد مع غیر مطبوعہ کلام (سن وار ترتیب)
کلیات حفیظ جالندھری (مرتبہ)
کلیات عدم (مرتبہ)
انتخاب زریں : اردو نظم
اقبالیات۔ چند نئی جہات
شرح بانگ درا
شرح بال جبریل
(برائے غیر ملکی طلبہ)
آشوب (شعری مجموعہ)
Urdu for Beginners

جہاں 23 مارچ 1940 کو مسلمانان متحدہ ہندوستان نے ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے حصول کا عزم کیا وہیں اسی مبارک دن اور تاریخ کو رب العالمین نے اردو ادب کو جلا بخشنے کے لیے اردو ادب کے مان اور گوہر نایاب جناب خواجہ محمد زکریا صاحب کی ولادت کی خوشی عطا فرمائی۔ اللہ کریم ان کا سایۂ رحمت ہم سب پر اور اردو ادب پر ہمیشہ قائم رکھے۔ آمین۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب سے ہمارا حد درجہ تعظیم و تکریم کا تعلق رہا اور انہوں نے بھی ہمیشہ ہمیں گویا کہ فرزندان سید فخرالدین بلے کو اپنی شفقت، خلوص، محبت اور قدردانی کا گرویدہ بنائے رکھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب کو ہمیشہ جناب سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کا حد درجہ احترام کرتے دیکھا۔ اس حوالے سے ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا صاحب نے ایک مضمون ”سید فخرالدین بلے۔ بڑے حلم و آبرو والے“ لکھا۔

نوٹ : زیر نظر مضمون استاذ الاساتذہ پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا میں شامل ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کے مصورانہ شاہکار پروفیسر آکاش مغل صاحب کے تخلیق کردہ ہیں اور انہوں نے بطور خاص ہم سب کے لیے عطا کیے ہیں

Facebook Comments HS