پاکستانی دلہن


فیس بک پر گزشتہ روز میں نے اپنے استاد محفوظ علی خان کی ایک پوسٹ پڑھی۔ جس میں انہوں نے بپسی سدھوا کا ناول پاکستانی دلہن پڑھنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس پوسٹ میں مذکورہ  ناول کے موضوع کے  بارے میں بھی بتایا گیا تھا جس نے مجھے متوجہ کیا اور اسی وقت میں نے مذکورہ ناول کی پی ڈی ایف ڈاؤن لوڈ کر لی۔

بپسی سدھوا پاکستانی مصنفہ ہیں جو اس وقت امریکہ میں رہتی ہیں، وہ بین الاقوامی شہرت یافتہ مصنفہ ہیں جنہیں کئی بین الاقوامی اعزازات مل چکے ہیں۔ اس نے امریکن بریٹ، کریکنگ انڈیا، اور پانی جیسے ناول بھی لکھے ہیں۔ ان کی تخلیقات کا متعدد دیگر زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ بپسی سدھوا خود کہتی ہیں کہ گیارہ سے اٹھارہ سال تک وہ مسلسل کتابیں  پڑھتی رہتی  تھیں کیونکہ  مذہبی پابندیوں کی وجہ سے ان کے اسکول جانے پر پابندی تھی۔ ان پابندیوں کی جھلک ان کی تحریروں میں بھی بھی نظر آتی ہے اور اسی وجہ سے بپسی سدھوا نے حقوق نسواں کے موضوعات لکھنے پر توجہ مرکوز رکھی مذکورہ ناول جو 30 ابواب پر مشتمل ہے اس کی بہترین مثال ہے جو 1983 میں شائع ہوا تھا۔

اس ناول میں خواتین کے حقوق، متحدہ ہندوستان کی تقسیم، قبائلی رسم و رواج ، شہری اور دیہی زندگی، بے جوڑ جوڑے، تشدد، درد، جدوجہد، اداسی، قبائلی پدرانہ معاشرے میں صنفی مسائل، ثقافتی اختلافات، مردانہ بالادستی اور بہادری جیسے موضوعات  پر قلمرازی کی گئ ہے  ۔

اس ناول کے اہم کرداروں میں سے ایک کردار قاسم کا یے قاسم دس سال کا لڑکا تھا جب اس کے والد ارباب نے اسے کہا کہ وہ اس کے ایک مقروض شخص ریشم خان کی بیٹی سے شادی کر کروا رہا ہے ۔ جو غربت کی وجہ سے قرضہ واپس نہیں کر پا رہا تھا اس لیے وہ اپنی بیٹی افشاں کو قرض میں دے رہا تھا۔ یہ رواج پاکستانی معاشرے میں خاص طور پر پشتون معاشرے میں اب بھی رائج ہے۔

بپسی سدھوا 1947 میں ہندوستان کے تقسیم کے منصوبے، سرحدوں کی تقسیم، اور پاکستان اور ہندوستان کی سرحد کے پار لاکھوں لوگوں کی نقل مکانی کے بارے میں بھی بات کرتی ہیں۔ وہ ان واقعات کی تصویر کشی کرتی ہے کہ کس طرح ہجرت کے دوران اور فرقہ وارانہ فسادات میں لاکھوں لوگ مارے گئے۔

یہ ناول لاہور میں ہیرا منڈی کے نام سے مشہور کوٹھے پر بھی روشنی ڈالتا ہے جہاں موسیقی، رقص، سیکس اور شراب نوشی کا ماحول عشروں سے چوبیس گھنٹے دستیاب ہے ۔ اس کے علاوہ بپسی سدھوا نے شادی کی رسومات ، خواتین کے اتن (رقص)، نکاح کی تقریب وغیرہ کی بھی تصویر کشی کی ہے۔

زیتون اس ناول کا مرکزی کردار ہے جس کی عمر صرف 5 سال تھی جب اس کے والدین مارے گئے تب سے قاسم نے اسے اپنی بیٹی کے طور پر گود لیا۔ زیتون کی عمر اب 16 سال ہے اور قاسم چاہتا ہے کہ زیتون کی شادی پہاڑی علاقوں میں اپنے کزن مصری خان کے بیٹے سخی کے ساتھ  کرے۔ جبکہ قاسم کے دوست نیکا کی بیوی مریم اسے روکنے کی کوشش کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ لاہور میں پرورش پانے والی لڑکی سفاک، وحشی اور جاہل لوگوں کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہے؟ جو عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا نہیں جانتے۔ ادھر قاسم اپنے قبیلے کے لوگوں کو ایسے برے الفاظ میں پکارتے ہوئے  انہیں خفگی کا احساس ہوتا ہے۔ مزید براں مریم قاسم سے کہتی ہے کہ زیتون وہاں غلام کی طرح رہے گی۔ مریم ان پر گرجتی ہے اور قاسم پر الزام لگاتی ہے کہ اس نے کچھ پیسوں اور بکریوں کے عوض اپنی لڑکی بیچ دی ہے۔

مصنفہ نے اپنے ناول میں قدرتی مناظر کی بھی تصویر کشی کی ہے۔ وہ بار بار چٹانوں، سیاہ  ہمالیہ جیسے سخت پہاڑوں، تیز ہوا، میدانی علاقے، دریاے سندھ، ندی، سطح مرتفع اور سورج  کے بارے میں بات کرتی ہے۔ جس سے پڑھنے والوں  کا ذوق بڑھتا ہے اور ناول کو پڑھنے میں  مزید دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے۔

اس ناول میں شہری اور دیہی طرز زندگی کے بارے میں بھی بات کی گئ ہے کہ  کس طرح  شہری ماحول میں پرورش پانے والی لڑکی دیہی علاقوں میں زندگی  نہیں گزار سکتی؟ بپسی سدھوا پشتون ثقافتی ضابطوں اور رسم و رواج  جنہیں پشتونوالی کہا جاتا ہے کے بارے میں بھی بات کرتی ہیں  خاص طور پر قبائلی علاقوں کے ، جو کبھی پاکستان میں فاٹا کہلاتے تھے۔ جس کو مصنفہ کوہستان کہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ برطانیہ وہاں کے باسیوں کو محکوم بنانے میں ناکام رہا۔

اداسی Melancholy اس ناول کا ایک اہم موضوع ہے۔ افشاں جو کہ ایک غریب باپ کی بیٹی تھی کو قاسم کے ساتھ زبردستی قرض کے بدلے شادی کرنی پڑی  کیونکہ اس کے والد نے قاسم کے والد سے قرض لیا تھا۔ ایک اور افسردہ پہلو قاسم کی زندگی ہے جس نے چیچک کی بیماری کی وجہ سے اپنا پورا خاندان کھو دیا تھا۔ اس ناول میں 1947 کی تقسیم کے دوران ہونے والے خونریزی کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ زیتون کی زندگی شروع سے ہی دکھی ہے جب وہ 5 سال کی تھی تب اس کے والدین کا انتقال ہوگیا۔ کیرول کی شادی کا غمگین پہلو بھی اس ناول میں اداسی کی عکاسی کرتا ہے جبکہ نیکا اور مریم جو بے اولاد تھے بھی ناول میں اداسی میں اضافہ کرتے ہیں۔

مصنہ نے ناول کو دلچسپ بنانے کے لیے اس میں سیکس کے بارے میں  بھی بات کی ہے۔ وہ لاہور کے رنڈی خانے جسے ہیرا منڈی کہا جاتا ہے کے بارے میں بتاتی ہیں ۔ وہ زیتون اور سخی کی پہلی رات کے جنسی تعلقات کے بارے میں بھی بات کرتی ہے۔

اس ناول میں زیتون اور سخی اور کیرول اور میجر مشتاق جیسے بے جوڑ جوڑوں کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے۔ مثلاً زیتون اور سخی کا رشتہ روز اول سے مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ بے تہاشا مسائل، سختیوں اور ظلم کا سامنا کرنے کے بعد زیتون گھر چھوڑ کر بھاگ جاتی ہے۔ جبکہ کیرول جو کہ ایک غیر ملکی ہیں جس نے میجر مشتاق سے شادی کر لی ہوتی ہے اسکا بھی اپنے شوہر سے اچھے تعلقات نہیں رہے اور کہتی ہیں کہ میجر مشتاق بھی خواتین کو عزت نہیں دیتے اس لیے وہ اسے چھوڑ کر واپس امریکہ چلی جاتی ہیں۔ یہ عناصر ایک مردانہ معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ ایک اچھا موضوع رکھنے والا ناول ہے جو بنیادی طور پر حقوق نسواں پر بات کرتا ہے۔ بپسی سدھوا نے مردانہ معاشرے میں خواتین کے استحصال  کو خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ میرے نزدیک اس ناول کو مختصر فلم کا موضوع بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس کا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔

Facebook Comments HS