یوم پاکستان، ڈینگ ژیاؤ پنگ اور چین کی نیشنل سائنس کانفرنس


آج 23 مارچ ہے۔ ہم قرارداد لاہور کی یاد میں یوم پاکستان منا رہے ہیں۔ ہمارا خون گرمانے کے لئے ہمیں ٹی وی پر فوجی پریڈ دکھائی جا رہی ہے۔ فخر سے پاکستان کے بنے ہوئے ٹینک اور میزائل دکھائے جا رہے ہیں۔ پریڈ میں پاکستان کا بنا ہوا ٹینک ’حیدر‘ دکھایا گیا۔ اور ہمیں یہ خوش خبری سنائی گئی کہ اس ٹینک کا شمار دنیا کے جدید ترین ٹینکوں میں کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد پاکستان کا بنا ہوا خود ساختہ ٹینک ’الخالد‘ سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزارا گیا۔ اس کے بعد ایک اور قسم کے ٹینک نمودار ہو گئے۔

اس کے بعد ہمارے توپخانے کی توپیں دکھائی گئیں۔ ان سے فراغت ہوئی تو پھر بھرائی ہوئی آواز میں ہمیں بتایا گیا کہ یہ پاکستان کے بنے ہوئے راکٹ سسٹم فتح ون اور فتح ٹو ہیں جو خدا جانے کتنے کلومیٹر تک مار کر لیتے ہیں۔ پھر بتایا گیا کہ فتح تھری اور فتح فور بھی تیار ہو رہے ہیں۔ پھر ہوائی دفاع کے ریڈار اور ہتھیاروں کے سسٹم کی باری آ گئی۔

ایک لمبا سانس لے کر سکون سے سوچیں کہ ہم کس دن کی یاد منا رہے ہیں۔ قرارداد لاہور ایک سیاسی قرارداد تھی کوئی جنگ نہیں تھی۔ یہ ایک سیاسی جد و جہد کا آغاز تھا۔ اس میں کوئی طبل جنگ نہیں بجایا گیا۔ عزیز ہم وطن غور فرمائیں کہ اگر صرف فوجی ساز و سامان اور میزائلوں اور ایٹم بموں سے ملک محفوظ رہتے تو سوویت یونین آج تک قائم ہوتا۔ لیکن ہماری آنکھوں نے یہ تماشا دیکھا کہ عسکری برتری کے باوجود سوویت یونین سیاسی طور پر پگھل کر دنیا کے نقشے سے غائب ہو گیا۔ کمزور اقتصادی پالیسیوں نے اس ملک کو اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا۔

ذرا سوچیں اس وقت ہمیں فوری طور پر کن مسائل کا سامنا ہے۔ سب سے بڑھ کر اقتصادی طور پر دیوالیہ۔ سیاسی طور پر ایک دوسرے سے متصادم۔ ایک دوسرے سے بات کرنے کے روادار بھی نہیں رہے۔ جغرافیائی، قومی اور لسانی طور پر منقسم۔ اور مذہب کے نام پر بد ترین طور پر تقسیم اور دہشت گردی سے جھلسے ہوئے۔ علمی اعتبار سے ناخواندگی کا شکار۔ انتظامی طور پر یہ حال کہ ہمارے ادارے ہی ایک دوسرے سے متصادم رہتے ہیں۔ بنیادی حقوق کا احوال ان لوگوں سے پوچھیں جنہیں یہ بھی نہیں علم کہ ان کے پیارے مر گئے یا زندہ ہیں۔ ان میں سے کس مرض کا علاج ٹینکوں، راکٹوں اور میزائلوں سے ہو سکتا ہے۔ ہمارے امراض کچھ اور ہیں اور ہم علاج کسی اور مرض کا کر رہے ہیں۔

خاکسار چین کے نظام کا کچھ ایسا مداح نہیں لیکن عقل کی بات کہیں سے بھی ملے، اپنا لینی چاہیے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ 1966 اور 1976 کے درمیان کی دہائی میں برپا کیے جانے والے کلچرل انقلاب میں اس کے داعی گینگ آف فور نے چین کو اقتصادی اور معاشی طور پر تباہ کر دیا تھا۔ بڑے بڑے کمیونسٹ لیڈر بھی اس نام نہاد انقلاب کے اندھے جوش سے نہ بچ سکے اور انہیں رسوا کر کے منظر سے غائب کر دیا گیا۔ یہاں تک اس وقت وزیر اعظم چاؤ این لائی کے نائب ڈنگ ژیاؤ پنگ بھی زیر عتاب آ گئے اور انہیں تمام عہدوں سے برطرف کر دیا گیا۔ اس انقلاب کا ایک عجیب پہلو یہ بھی تھا کہ اس میں دانشوروں، مصنفوں اور سائنسدانوں کو بھی معاشرے کا ناسور قرار دیا گیا۔ اور انہیں انقلاب کا دشمن قرار دے کر طرح طرح کی سزائیں دی گئیں اور ان کی تذلیل کی گئی۔ انہیں تعلیمی اداروں سے نکالا گیا جس کے نتیجہ میں کئی کالج اور یونیورسٹیاں بند ہو گئیں۔ انہیں جیلوں میں ڈالا گیا۔ انہیں جلسوں میں کرسیوں پر کھڑا کر کے اور مزاحیہ ٹوپیاں پہنا کر جھک کر عوام سے معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا۔ ان کے سپرد بیت الخلا کو صاف کرنے اور بیروں کی طرح دوسروں کو کھانا کھلانے کے کام کیے گئے۔ ان حرکات جو نتیجہ نکل سکتا تھا وہ نکلا۔

جب کلچرل انقلاب کے لیڈر یعنی گینگ آف فور گرفتار کر لیے گئے اور یہ ہڑبونگ اور افراتفری ختم ہوئی تو دوبارہ ڈنگ ژیاؤ پنگ کو تنہائی سے نکال کر ان کے عہدے بحال کیے گئے کہ مائی باپ اب آپ ہی کچھ کریں۔ شروع ہی سے جو شعبے ان کے سپرد تھے ان میں تعلیم سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے بھی تھے۔ لیکن وہ کرتے تو کیا کرتے اکثر سائنسدان اور دانشور تو طرح طرح سزائیں بھگت رہے تھے۔ کوئی جیل میں تھا۔ کوئی بیت الخلا صاف کر رہا تھا۔ کسی سے مزدوری کرائی جا رہی تھی۔

انہوں اقتدار میں بحال ہونے کے بعد ایک پہلا کام یہ کیا کہ چین بھر سے زیر عتاب چوٹی کے سائنسدانوں اور انجینئروں کو سزاؤں کے شکنجے سے نکال کر بیجنگ میں ایک کانفرنس پر جمع کیا۔ یہ کانفرنس مارچ 1978 میں منعقد ہوئی تھی۔ اس موقع پر اپنی تقریر میں ڈنگ ژیاؤ پنگ نے ماضی کی غلطیوں اور زیادتیوں کا اعتراف کیا۔ اور کہا کہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتے۔ اور یہ اعتراف بھی کیا کہ کمیونسٹ پارٹی کی قیادت اس میدان میں اپنی جہالت کی قیدی ہے۔ یہ تھا نقطہ آغاز جس کے ساتھ اس زیر عتاب طبقہ سے مشورے مانگے گئے کہ آپ بتائیں کہ اب ہمیں اپنی علمی، سائنسی اور صنعتی حالت کو بہتر بنانے کے لئے کیا کرنا چاہیے۔ اس ایک قدم سے اس سفر کا آغاز ہوا۔ اور اس کے جو نتائج نکلے وہ ہم ملاحظہ کر رہے ہیں۔

کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس یوم پاکستان سے ہم دنیا بھر سے پاکستانی ماہرین اقتصادیات کو جمع کرتے کہ آپ قوم کی راہنمائی کریں کہ اب ہم آگے کس طرح بڑھ سکتے ہیں۔ اور ان میں وہ ماہرین بھی شامل ہوتے جنہیں عقائد یا کسی اور بنا پر پہلے مردود حرم قرار دیا گیا تھا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس یوم پاکستان کے موقع پر سائنسدانوں کو جمع کیا جاتا کہ اپنی رائے دیں کہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی میں کس طرح ترقی کر سکتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ آج مورخین اور دانشور اپنی آرا کا اظہار کرتے کہ ہم اپنی موجودہ حالت کو کس طرح درست کر سکتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا آج کے دن سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جاتا اور ناراض سیاسی جماعتوں کو حکومت کے ساتھ ایک میز پر بٹھانے کی کوشش کی جاتی کہ مل کر منصوبہ بنائیں کہ آئندہ کسی انتخاب پر دھاندلی کے منحوس بادل نہ منڈلائیں۔ آج بار بار سعودی وزیر دفاع کی تصویر دکھائی جا رہی تھی کہ وہ سٹیج پر رونق افروز ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا آج بلوچستان کے ناراض سیاسی گروہوں کے قائدین کو سٹیج پر بلایا جاتا۔ کچھ ان کی باتیں سنی جاتیں کچھ حکومت اپنی باتیں سناتی تا کہ اختلافات کی یہ خلیج ختم ہو۔ پاکستانی معاشرے کو بری طرح مذہبی عقائد کی بنا پر تقسیم کیا گیا ہے اور اس کے نتیجہ میں برپا ہونے والی دہشت گردی نے ہمیں دنیا میں تماشا بنا دیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان مذہبی گروہوں کی نمائندے سٹیج پر موجود ہوتے اور حکومت کے ساتھ مکالمہ کرتے کہ ملک میں یہ کدورت کی فضا کس طرح ختم کی جا سکتی ہے یا کم از کم اس سمت میں پہلا قدم کس طرح اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ کیا جا سکتا تھا مگر نہیں کیا گیا۔ ہم اس طرز پر یوم پاکستان کب منائیں گے؟

اگر مناسب سمجھیں تو ذیل کے لنک پر کلک کیجئے اور ڈنگ ژیاؤ پنگ کے چار ایسے نظریات معلوم کیجئے جنہوں نے عوامی جمہوریہ چین کی کایا کلپ کر دی

https://news.cgtn.com/news/3d4d544f7a556a4d/share_p.html

Facebook Comments HS