مارکیٹ کبھی ڈیڈ نہیں ہوتی بلکہ کی جاتی ہے
تجارت اور تجارت کی ہلچل والی گلیوں میں، جب بازار سست پڑ جاتا ہے تو اکثر مایوسی کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ دکاندار خالی گلیوں کی طرف دیکھتے ہیں، تاجر سیلز میں کمی پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور طلباء مستقبل اور ملازمت کے مواقع کی کمی سے پریشان ہیں۔ تو ایک فقرہ ”مارکیٹ مر گئی (ڈیڈ ہو گئی) ہے“ ہر طرف سننے کو ملتا ہے۔
جملہ ”مارکیٹ مر گئی ہے“ یہ روایتی محاورہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عامیانہ اظہار کے طور پر کام کرتا ہے جو ایک ایسی صورتحال کو بیان کرتا ہے جہاں کاروباری سرگرمی کو بہت کم یا جامد محسوس کیا جاتا ہے۔ یہ معیشت یا مارکیٹ کی حالتوں میں مایوسی یا پشیمانی کا احساس دلاتا ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت مارکیٹ میں تقریباً کوئی حرکت، نمو یا موقع نہیں ہے۔ اگرچہ یہ ایک سرکاری محاورہ نہیں ہے لیکن یہ زد عام ہے، لیکن یہ جملہ ایک ایسا جذبہ یا تجارتی اشارہ ہے جو عام طور پر تاجر، سرمایہ کاروں یا کاروباری مالکان کی طرف سے معاشی تنزلی یا مارکیٹ کی غیر فعالیت کے دوران جس کا اظہار کیا جاتا ہے۔
اور یہ ایک ایک عام محاورہ بن جاتا ہے، جو معاشی جمود کی سنگین تصویر پیش کرتا ہے۔ سب سے بڑا ظلم ہے کہ ایسے جملوں کو نتیجے میں عام تو عام بلکہ اعلیٰ صلاحیتوں والے افراد بھی بے عملی کی کیفیت کے قائل نظر آتے ہیں کہ جب مارکیٹ ہی ڈیڈ ہے جب مارکیٹ میں کسٹمر ہی نہی ہے تو تو ہم جتنی مرضی کوشش کر لیں کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ آج کل کام نہیں ہے تو گھر سے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ طالب علم یہ رائے اگر بنا لے کہ ملازمت کی مارکیٹ کئی سالوں سے مندی جا رہی ہے اس لئے اب ڈگری لینے کا کیا فائدہ مارکیٹ سیر ہو گئی ہے یعنی ڈیمانڈ کم ہو گئی ہے اور سپلائی زیادہ ہو گئی ہے اور اس پر سب مایوس افراد غیر حقیقی اعداد و شمار بھی اکٹھے کیے ہوتے ہیں کہ فلاں شخص نے بھی یہ کام کیا تھا، یہ ڈگری گی تھی اور وہ ٹھوکریں کھا رہا ہے۔
فلاں کاروباری شخص نے بھی مال منگوایا تھا وہ بھی بک نہیں رہا۔ یہ تمام وہ زہر قاتل جملے جو مارکیٹ میں مزید کمزوری پیدا کرتی ہے اور اگر کسی کی جدوجہد سے مارکیٹ بہتر ہو سکتی تھی تو وہ ذریعہ بھی چھین لیا جاتا ہے تاہم ایسے وقت میں ایک خلا پید اہو جاتا ہو جس کو ایک سرمایہ کار محسوس کر کے اپنے سرمایہ و طاقت سے بسا اوقات مصنوعی طریقوں سے مارکیٹ میں تیزی لاتا ہے کہ ہر طرف اسی موقع کے لئے سر گرم نظر آتے ہیں مسجد سے لے کر مندر تک اسی موقع کو جائز کرنے اور اسے کے مخالف رائے رکھنے والوں کو جہنم اور نرگ راستہ دکھاتے نظر آتے ہیں اسی طرح پارلیمنٹ کے ایوانوں سے لے کر عدالتی کمروں تک سب اسی موقع کے لئے محفوظ راستہ مہیا کرنے میں لگے نظر آتے ہیں، سوشل میڈیا سے لے کر ٹی وی اداکار اپنی اداکاری اور فین فالوونگ کے ذریعے سب اسی موقع کو کامیاب بنانے کے حصہ دار نظر آتے ہیں اور پھر یہ سب مایوس تاجر، کاروباری افراد، ملازم پیشہ اور طلباء ایک دم تروتازہ اور پر امید نظر آتے ہیں اور بڑھ چڑھ کر کاروباری سرگرمیوں میں شامل ہوتے ہیں اور بالآخر جب وہ سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکالتا ہے اور اپنے تمام حصہ داروں کو منافع تقسیم کرتا ہے تو منافع جو مصنوعی انداز سے ایک خاص سطح تک پہنچایا جاتا ہے وہ دھڑام سے نیچے آ جاتا ہے اور یہی سادہ (بظاہری) لوگ جو حقیقت میں لالچی، بظاہری انجان لیکن حقیقتاً جاہل لوگ، غیر سیاسی و غیر کاروباری صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں اپنی بے شعوری و خود غرضی کی وجہ سے کئی لوگوں کو تباہی میں دھکیلنے والے ہوتے ہیں اور مارکیٹ کو تباہ کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں، اپنا سرمایہ تو یہ اس بڑے سرمایہ دار کے اشاروں پر فوری نکال لیتے ہیں اور ایک کثیر تعداد کو ان کم ظرف، ظالم خونخوار بھیڑیوں کے آگے ڈال دیتے ہیں جو اپنے کاروباری ظلم سے ان عام اور سادہ فہم لوگوں کو نوچتے ہیں اور تباہی کا ایسا بازار گرم کرتے ہیں کہ کمپنیاں تو کمپنیاں ملکوں کے ملک تباہ ہو جاتے ہیں جس کا کوئی والی وارث نہیں عدالتیں بھی چپ، میڈیا بھی چپ، پیر بھی چپ، مسجد و مندر بھی چپ حتیٰ کہ اس کٹھن وقت میں کوئی بھی ان کا پرسان حال نہیں ہوتا سونے پہ سہاگہ اس پسے ہوئے طبقہ کو مقدر کا ایسا درس دیا جاتا ہے کہ آئندہ تین نسلوں تک تو وہ ایسے جملوں کی پرچار کرتا نظر آتا ہے کہ ”آپ کے برے اعمال کی نحوست ہی آپ کے مستقبل کو کھا گئی“ ، ”آپ خود پر توجہ دو، خود کو ٹھیک کر لو سب ٹھیک ہو جائیں گے“ ۔
جبکہ اصل میں اس سب کے ذمہ دار وہ ادارے ہوتے ہیں جو کہ ان بڑے سرمایہ داروں، کمپنیز اور اداروں پر نگرانی کا سسٹم رکھنے کے پابند ہوتے ہیں۔ عربی کو مقولہ ہے کہ ”لوگ اپنے خلفاء کے ایمان پر ہوتے ہیں“ جیسے ادارے یا لیڈرز شپ کی حکمت عملی ہوگی ویسے نتائج آئیں گے۔ اگر تو ادارے اپنا کردار ادا کریں تو دریا کہ کنارے کبھی کوئی کتا بھی پیاسا نہیں مرتا۔ یعنی ریاست ان تمام طاقتوں کو دور کرنے کی پابند ہے جو ایک کتے کو پانی نہیں پینے دیتی۔ جس کی طرف امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ نے اشارہ فرمایا۔
ممکنہ حل: اگر ریاست اور اس کے ادارے چاہے تو ایسے تمام عناصر کو وقت سے پہلے پکڑ سکتی ہے جو معاشرے میں کاروباری ظلم کا بازار 77 سالوں سے گرم رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن اس سرمایہ دار، ملٹی نیشنل کمپنیز کا اداروں میں اتنا اثر و رسوخ ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ کے فلور سے لے کر یہ تھانہ کچہری تک سب کو اپنے تحت مینیج کیے ہوتے ہیں۔ اگر کسی ادارے یا شعبہ میں ملک و قوم یا مذہبی جذبہ سے سرشار کوئی فرد ہو تو اس کو وقت سے پہلے اس منظر سے ایسے غائب کیا جاتا ہے جیسے مکھن سے بال کو نکالا جاتا ہے۔
ایسے بظاہری نیک کام کی طرف بھیجا جاتا ہے کہ اس نیک آدمی کے وہم و گمان میں بھی نہیں کہ اس کی نیکی کے عوض کتنا طبقہ اس مفلسی میں چلا گیا جس سے نبی ﷺ نے بھی پناہ مانگی اور فرمایا کہ ”قریب ہے کہ مفلسی انسان کو کفر تک لے جائے“ ۔ اس لئے بزرگ فرماتے ہیں کہ شیطان اور شیطان کی حامل قوتیں انسان کو صرف نیکی سے گناہ پر راغب نہیں کرتی بلکہ شیطان اس انسان کو تھوڑے کم درجے کی نیکی پر مائل کرتا ہے جس سے بڑی نیکی جاتی رہتی ہے۔
جس سے شیطان کا مقصد انسان کو ذلیل کرنے کا پورا ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں مقتدرہ قوتوں کو، کمپنیوں کے مالکان کو اپنے چھوٹے گروہی مفادات سے ہٹ کر اپنی قوم و ملک کے لئے اعلیٰ مقاصد کے حصول اور دائمی حل کی طرف جانا چاہیے۔ بڑا سرمایہ دار اپنے مقاصد کو حل کرنے کے لئے بھوک مسلط کرتا ہے، جنگ مسلط کرتا ہے


