ڈاکٹر ضابطہ شنواری، جامعہ اردو کے باضابطہ شیخ الجامعہ
االلہ اللہ کر کے وفاقی جامعہ اردو کے لیے پنج سالہ شیخ الجامعہ کا تقرر عمل میں آیا۔ ڈاکٹر ضابطہ شنواری اسم بامسمٰی یعنی نام کی طرح شخصیت بھی منفرد۔ عبدالحق کیمپس تشریف لائے اور سیمینار ہال میں اساتذہ سے غیر رسمی خطاب کیا۔ اساتذہ کے سوالوں کے جواب دیے، تجاویز اور اقدامات کو سراہا اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کرانے کے ساتھ ساتھ وہ وعدے بھی نہیں کیے جنہیں فی الحال ترجیہی بنیادوں پر توجہ دینا ممکن نہیں تھا۔
جب بھی نئے شیخ الجامعہ اساتذہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہیں تو بعد میں ان کے بارے میں اندازے لگانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ ان کے خطاب کو زبان و بیان کے مختلف پیمانوں میں، ان کے انداز گفتگو کو شخصیات کے تناظرات میں، کچھ پچھلے کسی وائس چانسلر (شیخ الجامعہ ) سے موازنہ کریں گے، کوئی رد کرے گا کہ ارے نہیں ان جیسے نہیں بلکہ وون جیسے ؛ یہ آرا کچھ معروضی زیادہ تر موضوعی، رائے کا اظہار کرنے والے کے اپنے معیارات غرض وہ دن اساتذہ کے درمیان سنجیدہ و ہلکی پھلکی گفتگو کا الگ نوعیت کا ہی دن ہوتا ہے۔ اندیشہ ہائے دوردراز میں مبتلا اساتذہ نے اسے اپنی ذہنی و جسمانی صحت کے لیے مقرب ٹانک سمجھا کہ توقعات وابستہ کی جائیں، کام کرنے کا موقع دیا جائے اور رائے فیصلوں کے آنے تک موخر کی جائے کہ حتمی رائے عہدے دار کے فیصلوں کی بنیاد پر ہی قائم کی جانی چاہیے اور اسی مثبت نوٹ پر یہ گوسپ اختتام پذیر ہوئی۔
میرا شیخ الجامعہ کو سننے کا مقصد شخصیت کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ اگرچہ کہ سب سے آخر میں پہنچنی تھی۔ سیمینار ہال بھرا ہوا تھا۔ میں سر جھکا کر داخل ہوئی، مجھے لگا کہ جیسے میں کسی کے قریب سے گزری ہوں، زمیں پر اسی شخص کا سایہ پڑ رہا تھا لیکن میں کسی سمت دیکھے بغیر سب سے آخری قطار میں کرسی پر جاکر بیٹھ گئی اور پھر نظر اٹھا کر جو دیکھا تو پتا چلا کہ بادامی رنگ کے سوٹ میں وہ شیخ الجامعہ ہیں۔ دراز قد، کھلتی سفید (پٹھانی) رنگت، ہلکی سنہری داڑھی اور بے تکلف انداز گفتگو۔
جس سے ہمیں بھی تھوڑی ڈھارس ملی اور ایک ہلکا پھلکا فقرہ اچھال دیا، وہ وی سی صاحب تک بھی پہنچا لیکن درست طور پر شاید سن نہیں سکے، جب انہوں نے دوبارہ استفسار کیا تو میں ہنس کر اور کچھ نہیں سر کہہ کر خاموش ہو گئی اور خود کو تنبیہ کی کہ اب نہیں بولنا۔ مجھے وی سی صاحب کا غیر رسمی انداز ان کے چناؤ کی ایک بڑی وجہ لگا۔ شاید یہ کھلا ڈلا انداز سیاسی گمبھیرتا کو سلجھانے اور کثیف فضا کو لطیف بنانے میں زیادہ معاون ہو۔
یہ مزاج جو فطری ہوتا ہے، بنایا نہیں جاسکتا، کسی ایسے ادارے میں جہاں مسائل گنجلک ہو گئے ہوں، سہولت سے لوگوں کو وقت دینے اور مسائل کے حل کے لیے وقت لینے میں مدد دیتا ہو۔ ایسی شخصیت جو افراد کے دباؤ کو ہنس کر سہ سکتی ہے، جہاں لوگ بھی پھر ہنس کر رخصت ہوجائیں گے کہ وی سی صاحب بات تو سنتے ہیں، ان سے سہولت سے ملا تو جا سکتا ہے۔ اس طرز عمل سے طویل مدتی منصوبہ بندی کے لیے ہنسی خوشی کچھ وقت گزارا جاسکتا ہے، لیکن کچھ ہی وقت۔
اگر یہ وقت طول پکڑ گیا تو پھر ملازمین میں بے چینی شروع ہو جائے گی، بے چینی جو تیزی سے پھیلنے کی واحد اور توانا خصوصیت رکھتی ہے، جتنے منہ اتنی باتیں والا ماحول، اساتذہ کی سیاسی انجمنیں متحرک ہوجائیں گی، پھر ان سے ملاقاتوں میں بحث مباحثہ اور افہام و تفہیم میں وقت کٹے گا، کچھ اساتذہ خاموش، کچھ کبیدہ خاطر، کچھ احتجاج کی مجسم صورت، افواہیں جگہ پائیں گی، یونی کی فضاؤں میں گردش کرتی پھریں گی، اور ہم جیسے سوچیں گے کہ کیا یہاں ابھی کچھ نہیں بدلنے والا؟
جامعہ اردو پاکستان کی طرح اپنی پیدائش سے مسائل کا شکار ہے اور جس طرح لشتم پشتم پاکستان چل رہا ہے، یہ بھی چل رہی ہے۔ لیکن جس نئے بحران کا یہ شکار ہے وہ ہے ملازمین کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی میں تاخیر جو مزید تاخیر میں بدل رہی ہے، بس یہاں ہماری قسمت وزرا ء کی قسمت سے میل نہیں کھاتی، باقی تو سب کچھ ایک جیسا اور ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا۔ اس بحران سے جس طرح نمٹا جا رہا تھا اس سے ملازمین میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے بلکہ اب لفظ تشویش بھی صورت حال کی درست عکاسی نہیں کر رہا، تشویش کے نام کا اگر کوئی دیو تصور کر لیا جائے تو یوں سمجھیں گے جامعہ پر کسی دیو کا سایہ ہے جس کا نام تشویش ہے۔
جامعہ اردو کو اس بھنور سے مستقل بنیادوں پر کوئی مستقل شیخ الجامعہ ہی نکال سکتا ہے۔ اس ادراک کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جامعہ کے اساتذہ کی انجمنیں جامعہ کے وسیع تر مفاد اور بہتری اور اپنے گزشتہ تجربات کو ملحوظ رکھتے ہوئے دانش مندی سے آگے بڑھیں گی۔ وی سی صاحب کو وقت دیں گی۔ وہ لائحہ عمل جو ملازمین کو مطمئن کر سکتا ہے وہ پوری تنخواہ کی وقت پر ادائیگی ہے۔ اس ادارے میں وہ اچھا وقت بھی یہاں کے ملازمین نے دیکھا کہ تنخواہیں مہینہ ختم ہونے سے پہلے آجاتی تھیں، طبی سہولیات میسر تھیں، بیمار پڑنا ذہنی پریشانی میں اضافہ نہیں کرتا تھا (بلکہ آغا خان ہسپتال جیسی سہولیات کی وجہ سے ہم تو بیماری کو صبر اور شکر سے ہی نہیں بلکہ راضی بہ رضا خوشی خوشی ویلکم کرلیتے تھے، ڈاکٹر کہتا داخل ہونا پڑے گا، ہم کہتے سو بسم اللہ، یہ ٹیسٹ وہ ٹیسٹ، نو فکر، صفائی ستھرائی تو جیسے محلے میں ہم رہتے تھے اس سے بہت اعلیٰ، کھانا بھی ایسا کہ جو ملنے آئے وہ فیملی کے ساتھ کینٹین سے بچوں کو کھانا کھلا کر ہی جائے، اچھی خاصی تفریح نہ بھی کہوں تو چینج تو مل ہی جاتا تھا) اب وہ وقت کہاں؟ ، ہمیں تو اس ادارے نے عیدی بھی دی ہے ؛پھر وقت نے پلٹا کھایا، تنخواہ ہی قسطوں میں آنے لگی، طبی سہولیات محدود ہوتے ہوتے ختم ہو گئیں (اور ہم نے خود کو سمجھا لیا کہ خبر دار جو بیمار پڑے ) ۔
وی سی صاحب ہم! ہنسا سیکھ گئے ہیں اور ہنسنا بھولنا نہیں چاہتے۔ لیکن اس ادارے کو سنبھالا دینا اس ادارے کی ہی نہیں بلکہ خود آپ کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ ایک کامیابی ہے جو آپ کی منتظر ہے۔


