اکرم بندہ
اکرم بندہ صاحب ایک با اصول مزدور یونین لیڈر تھے۔ میرا اور ان کا پچیس سال کا ساتھ تھا۔ پرانا جرنلسٹ ہونے کی وجہ سے وہ اکثر مختلف یونین کی تقریبات کی میڈیا کوریج کے لئے رابطہ کرتے رہتے تھے۔ میں بھی مکمل کوشش کرتا تھا۔ پاکستان ٹیلی ویژن میں نوکری کے دوران میں نے ایک مرتبہ ان سے کہا بھائی جان اپنے کسی بچے کو بھرتی کروا لیں۔ کہنے لگے اظہر حفیظ میں نے ہمیشہ یونین لیڈرز کے بچوں کی ادارے کے اندر بھرتی کی مخالفت کی ہے اپنے بچے کی نوکری کیسے کروا لوں۔ یہ بات ہمیشہ ہمارے بہترین تعلق کی وجہ رہی۔
پھر ان کا نیک اور فرمانبردار بیٹا نعمان بندہ پاکستان ٹیلی ویژن میں ملازم ہو گیا۔ مجھے حیرت ہوئی۔ میں اپنے ڈائریکٹر فخر حمید مرحوم کے پاس گیا ان کو پوری بات بتائی تو کہنے لگے یار بندہ صاحب سچے لیڈر ہیں۔ ان کے بیٹے کو مشتاق قادری صاحب نے بھرتی کروایا ہے اکرم بندہ صاحب کے نا چاہتے ہوئے بھی۔ نعمان بندہ نے بھی اپنے والد صاحب کی ہمیشہ لاج رکھی پانچ وقت کا نمازی، محنتی اور با ادب چھوٹا بھائی اور دوست ہے۔
ہماری تقریباً روزانہ ملاقات ہوتی ہے دین اور دنیا کے بعد اکرم بندہ صاحب کے بارے میں بات ہوتی رہتی ہے۔ بابا ایسے کہہ رہے تھے بابا یہ قانون بتا رہے تھے۔ بہت سے لوگوں کے علم میں نہیں ہے کہ اکرم بندہ صاحب کی طرح نعمان بندہ کو بھی سرکاری قانون سب زبانی یاد ہیں۔ اکرم بندہ صاحب کو مدد کے لئے بلانا نہیں پڑتا تھا وہ خود پہنچ جاتے تھے۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے اندر مزدور یونین کے بانی لوگوں میں سے تھے۔
کراچی کے فوٹو گرافر منصور صاحب کہتے ہیں میری نوکری کا مسئلہ بنا تو اکرم بندہ صاحب کا فون آ گیا میں ان کو نہیں جانتا تھا کہنے لگے آپ کے مسئلہ کا حل میرے پاس ہے ضرورت پڑے تو بتائیے گا۔
کوئی بھی مزدور یونین ہو واپڈا، سی ڈی اے ہر جلسے، احتجاج پر پہنچنا اکرم بندہ صاحب نے خود ہی اپنے اوپر فرض کر لیا تھا۔ ان کے بڑے بیٹے اس پر نالاں بھی ہوتے تھے۔ کچھ دن سے بندہ صاحب کی ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں مسئلہ تھا بستر پر لیٹ گئے تھے۔ لیکن ہمت میں تھے۔ میں اور نعمان ایک دن پی ٹی وی کے ساتھ والی بلڈنگ میں کافی پینے گئے تو نعمان کہنے لگا اظہر بھائی یہاں کی دنبہ کڑاہی بہت اچھی ہے منگل کو روزے شروع ہو جائیں گے پیر کو کھانے چلیں گے۔ جی بہتر۔
ہفتے کو فون آیا گھر پر ہیں میں آتا ہوں میں مصروف تھا معذرت کرلی کہ پیر کو ہی ملیں گے۔ پیر کو میں اکیلا ہی واک کرتا رہا نعمان بندہ نہیں آیا مجھے فکر ہوئی خیریت ہو۔ میں نے فون کیا یار خیریت ہے اکرم بندہ صاحب ٹھیک ہیں دل پریشان ہے کہنے لگا اظہر بھائی بابا ٹھیک نہیں ہیں۔ آپ کو ٹیسٹ بھیجتا ہوں۔ ٹیسٹ دیکھے تو دل پریشان ہو گیا فوراً اپنے بھانجے کا نمبر بھیجا جو سی ایم ایچ میں بون میرو سرجن ہے۔ ان سے رابطے کے بعد اس نے بتایا کہ درد بہت زیادہ ہے۔ ریڈی ایشن شروع کروانی ہے۔ وقت مل گیا ہے۔ میں درد کو مینج کرنے والے ڈیپارٹمنٹ کے بارے میں بتانے لگا۔
اب روزانہ میں اس سے بابا جی کے بارے میں پوچھتا رہتا۔ اکرم بندہ صاحب نے کبھی اپنی صحت کا خیال نہیں کیا ساری زندگی مزدور یونینز کے لئے وقف کیے رکھی۔ ان کی صحت کی صورتحال مناسب نہیں تھی۔ آخری درجہ کا کینسر تھا۔ میں ان کی صحت کے ساتھ ایمان والی زندگی کی دعا کرتا تھا۔ ہفتہ اتوار اسلام آباد دفاتر میں چھٹی ہوتی ہے اللہ نے بابا جی کے لیے ہفتہ 23 مارچ کا دن چنا اور وہ اللہ کو پیارے ہو گئے تاکہ مزدور کو ان کے جنازے میں آنے کے لئے چھٹی نہ کرنی پڑے۔ یہ وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو زندگی اور بعد از زندگی اللہ کو پیارے ہی رہے۔ شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب وہ مزدوروں کے حقوق کے لئے عدالتوں کے دروازے پر حاضری نہ دیتے ہوں مشورے تاحیات مفت ہی دیتے رہے۔ وہ ایسے حکیم تھے جن کے پاس مزدور کے ہر درد کا تریاق موجود تھا۔
مزدور کے حق کے لئے لڑتے لڑتے اس دنیا سے چلے گئے۔ آج سب مزدور حقیقت میں یتیم ہو گئے اور ان کے بچے یتیم اور مسکین ہو گئے ماں پہلے نہیں تھیں اب والد کا سایہ بھی سر پر سلامت نہ رہا۔ میری صحت اس قابل نہیں تھی کہ جنازے میں حاضر ہوتا۔ اس کے لئے دل سے شرمسار ہوں۔
سب احباب سے دعاؤں کی درخواست ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے لئے اگلے جہاں کے سب مراحل آسان فرمائے آمین اور جنت الفردوس میں وہ مقام عطا فرمائے جو اس کے پسندیدہ لوگوں کے لئے مقرر ہے۔ اللہ تعالیٰ ساری فیملی کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔


