وہ بچھڑا کچھ اس ادا سے

تسخیر کائنات میں دنیا عارضی پناہ گاہ ہے۔ اس میں خدا نے انسان کو اشرف المخلوق پیدا کیا ہے۔
اسے عقل و فہم میں بلند پایا مقام عطا کیا ہے۔ تمام نسل انسانی فرزند آدم ہیں۔ روز اول سے یہ سلسلہ تواتر و تسلسل کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ انسان پردیسی اور مسافر ہے۔ یہ اس کا اصلی وطن نہیں ہے بلکہ اس کا اصلی وطن فردوس ہے۔ یہ دنیاوی دستور ہے کہ ہر انسان دنیا میں آنکھ کھولنے کے بعد تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ ہوتا ہے۔ اسے ماں کی گود میسر آتی ہے۔ وہ اپنی بے لوث محبت سے اسے آداب زندگی سکھاتی ہے۔ کیونکہ بچے کی پہلی درسگاہ اس کی ماں کی گود ہی ہے۔
باقی مراحل تو وقت کے ساتھ ساتھ طے ہوتے اور پروان چڑھتے ہیں۔ دنیا میں ہر انسان کی فطری صلاحیتوں کا ادراک ایک مشکل اور صبر آزما حقیقت ہے۔ کیونکہ قدرت نے ہر کسی کو جدا جدا اذہان و قلوب کی وسعت زرخیزی عطا کی ہے۔ یہ سوچ کا کرشمہ ہے کہ وہ اس کی آب و ہوا کا کیسا منظر پیش کرتی ہے۔ اگر انسان تاریخی، ثقافتی اور فطری طور پر اس بات کا مشاہدہ کرے تو معلوم ہوتا ہے کہ زندگی حاصلات و ثمرات کا ایک خزانہ ہے۔ انسان نے روز اول سے حالات سے جنگ لڑنا سیکھی ہے۔ دنیا میں انوکھی انوکھی دریافتیں کی ہیں۔ تہذیب و تمدن کو پروان چڑھایا ہے۔ انسانیت اور بھلائی کے کام کیے ہیں۔ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں۔
محبتیں بانٹی ہیں۔ دوسروں کے بوجھ کم کیے ہیں۔
مجھے آج جس شخصیت کے اعزاز میں حرف سخن کی توفیق ملی ہے۔ وہ نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ وہ نام جاوید اقبال ہے۔
وہ اپنی شخصیت میں کئی جہات کا چراغ جلائے ہوئے تھا۔ اپنے وصف و وزن میں عدل و انصاف کا ترازو اٹھائے ہوئے تھا۔ جب یہ خبر ان کے فرزند ارجمند ایڈووکیٹ ثاقب جاوید نے درد بھری آواز میں کہا کہ آپ کے دوست جہان فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ تو مجھے یہ سن کر دلی صدمہ ہوا۔ لہذا فروغ سخن واہ کینٹ کے اراکین تعزیت کے لیے ان کے گھر پہنچے۔ ان کے دونوں بیٹوں سے ملاقات کی۔ ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔ انہیں تسلی و تشفی دی۔ دوران گفتگو ان سے استدعا کی گئی کہ ان کی زندگی کے متعلق کچھ بنیادی معلومات اور حاصلات سے آگاہ کیا جائے۔ ایڈووکیٹ ثاقب جاوید نے ہماری درخواست پر فوراً ان کی حالات زندگی کی چیدہ چیدہ سرخیاں لکھ دیں۔ جس کی تشہیر کے لیے میں نے اپنے قلم کا سہارا لیا۔ حالات نے فرصت بخشی۔ میں ایک ترتیب و تدوین سے اپنے فرائض سرانجام دیتا گیا۔ جس کا مختصر خلاصہ اپ کے گوش گزار کیا جاتا ہے۔
وہ یکم جنوری 1959 کو چونگی امر سدھو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ( میٹرک) گورنمنٹ فتح الدین ماڈل ہائی سکول لاہور سے حاصل کی۔ ایف اے دیال سنگھ کالج لاہور سے پاس کیا۔
اسی طرح بی اے و ایم اے (معاشیات) ایم اے او کالج لاہور سے پاس کیا۔ ایل ایل بی پنجاب لاء کالج سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی سے پاس کیا۔ 1981 میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایچ ایم سی ( ہیوی مکینیکل کمپلیکس ) میں ملازمت اختیار کی۔ کچھ عرصہ ملازمت کے بعد سرکاری ملازمت سے مستعفی ہو گئے۔ انہوں نے اوائل عمری میں کچھ عرصہ فوج میں بھی ملازمت اختیار کی لیکن بوجہ مزاج و طبع کے خلاف ہونے کے مذکورہ ملازمت کو جلد خیرباد کہہ دیا۔
انہیں وکالت کے معزز پیشے سے پیدائشی لگاؤ تھا۔
اس پیشے سے انسیت نے انہیں وکیل بننے پر مجبور کر دیا۔ انہیں تعلیم و تربیت سے خاص محبت تھی۔ طبیعت علم کی طرف راغب تھی۔ تربیت میں کچھ بننے کی جستجو بھی شامل تھی۔
مزاج میں انسانیت، فطرت میں خوف خدا اور خوابوں میں عدل و انصاف کی رویا دیکھتے تھے۔ انہوں نے شوقیہ بنیاد پر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کا مشکل امتحان بھی پاس کیا۔ بعد ازاں سینٹرل سپیریئر سروسز یعنی ( سی ایس ایس) کا امتحان بھی پاس کیا۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ جو بندہ لکھنے پڑھنے کا عادی ہوتا ہے اسے شعر و ادب سے فطری طور پر انسیت ہو جاتی ہے۔ میں نے اس بات کو قریب سے دیکھا ہے کہ ان کی طبیعت میں ادبی رچاؤ، دانشوروں کے نظریات سے استفادہ، مشاہیر کے کارہائے، تحقیق کو جستجو سے قلبی لگاؤ، ظلم و ستم کے خلاف جہاد، حق گوئی کی بات کرنا، دلائل کی پیشرفت، غریبوں سے درد مندی اور انسان دوستی کے زبردست قائل تھے۔ اسی وجہ سے وہ حلقہ تخلیق ادب ٹیکسلا جو 1984 میں قائم ہوا۔
اس کے 15 برس تک جنرل سیکرٹری رہے۔ انقلابی شاعری اور نثر نگاری کے قائل تھے۔ وہ مذکورہ خصوصیت کے ساتھ ساتھ جامع، مرقع و مرسع شخصیت کے حامل انسان بھی تھے۔ وہ اعلی پائے کے خطیب، مقرر، لکھاری، وکیل، دانشور، شاعر اور ادیب تھے۔ وہ زندگی کے ہر مرحلے پر اپنے ہر رفیق کو انسان دوستی کا پیغام دیتے رہے۔ آج ان کا کلام بھی محفوظ ہے مگر صد افسوس! کہ ان کی حیات کے دوران کہیں اشاعت پذیر نہ ہو سکا۔ کچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر اگرچہ اپنے کلام کی اشاعت کے قدرے مخالف بھی تھے چونکہ ذات و شخصیت کی زیادہ تراویح و تشہیر کو ناپسند کرتے تھے۔
اگر میں ان کے عہدہ جات کی بات کروں تو وہ بھی قابل رشک ہیں۔ وہ اسٹینڈنگ کونسل فار پاکستان ڈپٹی اٹارنی جنرل فار پاکستان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کے عہدے پر براجمان رہے۔ غریبوں کے ہمدرد تھے۔ انہوں نے مشکل سے مشکل کیس بھی لڑے۔ اگر میں بیان کرنا چاہوں تو ان کی شناخت کے بہت سے پہلو ہیں۔ مگر اختصار کے لیے چند کافی ہیں۔ مثلاً ٹریڈ یونین اور رکشہ یونین کی بنیاد رکھنا، مزدوروں کی حوصلہ افزائی کرنا، خدا ترسی اور غریب پروری ان کے مزاج کا بنیادی و جزوی حصہ تھی۔
66 برس کی عمر میں انہیں موذی مرض پھیپھڑوں کا کینسر لاحق ہو گیا تھا۔ وہ بیماری سے زیادہ دیر جنگ نہ لڑ سکے۔ بالآخر 9 مارچ 2024 ء کو دار فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کی حیات پر ایک شعر پیش خدمت ہے۔
جانے والوں کی کمی پوری کبھی ہوتی نہیں
آنے والے آئیں گے لیکن خلا رہ جائے گا
آخر میں خالد شریف کے اس شعر سے اجازت چاہوں گا۔
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے جہان کو ویران کر گیا

