سزائی کارا کوچ


” ادیب تجدید نو“ اور ”شاعر رستخیز“ کے نام سے مشہور سزائی کارا کوچ معروف ترک مصنف، شاعر، ادیب، سیاستدان، دانشور اور مفکر ہیں جن کا اصل نام ”احمد سزائی کارا کوچ“ تھا۔

جدید ترک ادب میں ان کا نام اور اہمیت مسلمہ ہے۔ خاص طور پر ان کے اشعار و افکار آج بھی زبان زد خاص و عام ہیں۔ انہوں نے ادب کے بہت سے شعبوں میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں جیسے شاعری، فلسفہ، تھیٹر، سوانح حیات، کہانیاں، تحقیق، مقالہ جات، تراجم اور دیگر افکار پر مشتمل تحاریر وغیرہ وغیرہ۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق سزائی کارا کوچ 22 جنوری 1933 ء کو ترکیہ کے شہر دیار بکر کے قصبے ارگانی میں ایک متوسط تاجر یاسین کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ امینہ خاتون ایک گھریلو عورت تھیں۔

انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم ارگانی، دیار بکر سے ہی حاصل کی اور اپنا بچپن بھی یہی گزارا۔ مڈل سکول ترکیہ کے شہر ماراش اور ہائی سکول تک تعلیم غازی انتپ شہر سے مکمل کی۔

اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے انہوں نے انقرہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف پولیٹیکل سائنسز میں داخلہ لے لیا اور یہیں سے 1955 میں فیکلٹی کے شعبہ فنانس سے گریجویشن مکمل کی۔ اس دور میں لازمی سروس کی وجہ سے انہیں وزارت خزانہ میں جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ٹریژری کے فارن ڈسبرسمنٹ بیلنس سیکشن میں تعینات کیا گیا۔

کچھ عرصے بعد انہوں نے اس ملازمت سے استعفی دے دیا اور تجدید نو یا رستخیز ”دیرلیش“ کے نام سے میگزین نکالا جہاں ان کی تحریریں چھپتی تھیں۔ انہوں نے ”دیرلیش“ کے نام سے سیاسی جماعت بھی قائم کی۔

سزائی کارا کوچ زمانہ طالب علمی ہی سے مشہور ترک ادیب، دانشور اور مفکر استاد نجیب فاضل قیصا کورک کے خیالات و افکار سے بہت متاثر تھے۔ وہ ان سے ملنے استنبول گئے اور پھر اس کے بعد دونوں اکثر اکٹھے ہی رہے۔

سزائی کارا کوچ کا انتقال عارضہ قلب کی وجہ سے 88 سال کی عمر میں 16 نومبر 2021 ء کو ہوا۔ ان کی وفات کی خبر کو ”خبر غم“ کے طور پر ترکیہ کے تمام اخبارات نے شہ سرخی کے ساتھ شائع کیا۔ ان کا مزار استنبول میں ہے۔ ان کی یاد میں ”سزائی کارا کوچ لائبریری برائے طلباء و طالبات“ استنبول میں قائم کی گئی۔

ترک ادب میں سزائی کارا کوچ کو دیومالائی، صوفی، فلاسفر اور تجدید نو کے ادیب کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ اسلام کی تاریخ، ادب اور تصوف کے افکار و نظریات سے بہت متاثر تھے۔ انہوں نے فرانسیسی ادب سے بھی استفادہ کیا۔ انہوں نے اپنی شاعری اور تحریروں سے نوجوان نسل کو بہت متاثر کیا۔ وہ فلسفہ مابعد طبیعات کے بھی قائل تھے۔

انہوں نے مولانا جلال الدین رومی، یونس ایمرے، محمد عاکف ارصوئے، یحییٰ کمال بیاتلی اور استاد نجیب فاضل قیصا کورک کا بڑی گہرائی سے مطالعہ کیا اور ان کے خیالات و افکار اور نظریات سے بہت متاثر ہوئے جس کا اثر ہمیں ان کی تحریروں میں واضح نظر آتا ہے۔

تصانیف
سزائی کارا کوچ کی 60 سے زائد تصانیف ہیں جن میں زیادہ تر شعری مجموعے ہیں۔
ان کی مشہور تصانیف میں درج ذیل شامل ہیں ؛
شاعری
مونا روسا
شہ رگ۔ خلیج۔ صدائیں
خضر کے ساتھ 40 گھنٹے
آئینے۔ چشمے
لیلیٰ و مجنوں
رقص آتش
پشیمانی پہ لکھی ساعت
دن نکلنے سے پہلے (کلیات)
کہانیاں
میدان میں نکلتے وقت
خاکے
فلسفیانہ مباحث پر مشتمل کتب
موجود کی جنگ
کہکشاؤں میں ضیافت
روح کی تجدید نو
عصر اور الہام ( 4 جلدیں )
انسانیت کی تجدید نو
نسل تجدید نو
اسلام کی تجدید نو
اسلامی معاشرے کا معاشی ڈھانچہ
تھیٹر
ارمغان
مقالہ جات/ مضامین
مولانا جلال الدین رومی
یونس ایمرے
محمد عاکف ارصوئے
اعزازات
علمی و ادبی خدمات پر آپ کو درج ذیل اعزازات سے نوازا گیا ؛
ایوارڈ برائے فن و ثقافت از وزارت ثقافت و سیاحت ترکیہ
صدارتی ایوارڈ برائے فن و ثقافت

Facebook Comments HS

اسلم بھٹی

اسلم بھٹی ایک کہنہ مشق صحافی اور مصنف ہیں۔ آپ کا سفر نامہ ’’دیار ِمحبت میں‘‘ چھپ چکا ہے۔ اس کے علاوہ کالم، مضامین، خاکے اور فیچر تواتر سے قومی اخبارات اور میگزین اور جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ آپ بہت سی تنظیموں کے متحرک رکن اور فلاحی اور سماجی کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔

aslam-bhatti has 45 posts and counting.See all posts by aslam-bhatti