باپ
باپ جنت کا دروازہ یہ تو سب جانتے ہیں مگر باپ دنیا میں ایک گھنا سایہ ایک بے لوث بے غرض محبت کا ایسا چشمہ ہے جس سے ہر موسم میں ٹھنڈا میٹھا پانی بہتا رہتا ہے۔
باپ وہ چھت ہے جو سخت گرمی خود برداشت کرتا ہے مگر اپنی اولاد کو مکمل سایہ فراہم کرتا ہے موسموں کی سختی یا زمانے کی بے رخی اپنوں کی بے حسی یا غیروں کی خودغرضی سب چپ چاپ سہتا ہے مگر اپنی اولاد کو تحفظ کا یقین ایمان کی حد تک پختہ دیتا ہے۔
میں نے باپ سے زیادہ اولاد کی کامیابیوں پر کسی کو خوش ہوتے نہیں دیکھا۔ باپ دنیا کی واحد ہستی جو دل سے چاہتا ہے کہ اس کی اولاد اس سے زیادہ کامیاب ہو۔
جب تک باپ کا سایہ سلامت ہے اولاد کو ایک ڈھال کا احساس رہتا وہ دنیا سے لڑ سکتی ہے ہر ایک سے مقابلہ کر سکتی ہے کیونکہ اسے یقین اور اطمینان ہوتا ہے میرا باپ میری پشت پر کھڑا ہے مجھے گرنے نہیں دے گا مجھے ہارنے نہیں دے گا۔
مگر جب باپ دنیا سے رخصت ہو جائے تو جانو کائنات ختم ہو گئی زندگی کا مفہوم ہی بدل جاتا ہے۔ زندگی بس گزر جاتی ہے بنا باپ بسر نہیں ہوتی زندہ ہوتے ہوئے بھی بس سانسیں چلتی ہیں باقی احساسات ہوتے ہیں بس خوشی کا احساس نہیں ہوتا آنکھیں سب دیکھتی ہیں بس سپنے نہیں دیکھتی کہ وہ تعبیریں لانے والا باپ تو منوں مٹی کے نیچے سو گیا۔ باپ نہیں جاتا دنیا سے بس دنیا ہی چلی جاتی ہے پھر چاہے ہم لاکھوں کروڑوں کے مالک ہوں ہماری جنبش ابرو پہ ہر چیز حاضر ہو مگر وہ باپ سے ضد کر کے کوئی معمولی سی خواہش کرنے کا مزہ وہ لطف دنیا کی دولت بھی اس کا بدل نہیں۔ باپ ایک اکیلا انسان نہیں وہ ایک دنیا ہے وہ نہیں تو پھر کیسی دنیا اور کیسی زندگی۔ بس وقت ہے پل ہے گھڑیاں جو گزر رہی ہیں گزر ہی جائیں گی۔ ہم باپ کے بنا زندہ رہیں گے بس جی نہیں پائیں گے۔ اللہ سب کے باپ سلامت رکھے جو چلے گئے ان کی مغفرت کرے جنت الفردوس میں اعلی ترین مقام سے نوازے۔ آمین ثمہ آمین

