اچھے، برے اور نمک حرام طالبان
اچھے طالبان کی کہانی افغان جہاد سے شروع ہوتی ہے جب اسی کی دہائی میں امریکہ کی مدد سے پاکستانی ایجنسیز نے روس کو شکست دینے کے لیے مجاہدین کا ایک ٹولہ باقاعدہ تیار کیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس جنگ کو امریکہ بہادر کی سربراہی میں جہاد کا نام دیا گیا۔ نوے کی دہائی میں روس افغانستان کو چھوڑ کر چلتا بنا اور اپنے پیچھے ایک عظیم خلا چھوڑ کر گیا جو کہ بعد میں مجاہدین اور لبرل خیالات کے حامی شمالی اتحاد کے مابین سول وار کی صورت میں افغانیوں کو بھگتنا پڑا۔
حالات مجاہدین کے لیے سازگار ہوئے اور انہوں نے افغانستان میں اپنی حکومت قائم کرلی۔ پاکستان کی ایجنسیوں نے بھی جشن منایا کہ اب ہمارے ہی بچے افغانستان کے حکمران ہیں۔ پاکستان مجاہدین۔ ٹرنڈ۔ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے میں بھی آگے آگے تھا۔ پاکستانی ایجنسیوں کا بہت پرانا خواب بھی اس طالبان حکومت کے بننے سے پورا ہوا جسے سٹریٹجک ڈیپتھ کہا جاتا ہے اور مانا یہ جاتا ہے کہ ہندوستان کے مقابلے میں دوستانہ افغان حکومت پاکستان کے لیے سٹریٹجک ڈیپتھ کا کام کرے گی۔
بہرحال، وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ نائن الیون کے بعد اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکہ نے افغانستان کا نقشہ خراب کر دیا اور اس میں پاکستان نے دل پر پتھر رکھ کر امریکہ بہادر کا ساتھ دیا۔ یہ وہ موڑ تھا جہاں پر پاکستان کو اپنے ہی لوگوں کے خلاف فوجی آپریشن کرنے پڑے اور اس کے ردعمل میں برے طالبان وجود میں آئے۔ برے طالبان اپنے آپ کو تحریک طالبان پاکستان کہلواتے ہیں اور یہ پاکستان کے وجود کے ہی مخالف ہیں۔
برے طالبان ایک اسلامی ریاست بنانے کے خواہاں ہیں، اور یہ لوگ پاکستانی فوج کو امریکہ کا غلام قرار دیتے ہیں۔ برے طالبان کے خلاف پاکستانی ریاست نے بے شمار آپریشن کیے ہیں لیکن ان برے طالبان کی کامیابی کی وجہ وہ حمایت ہے جو ان کو ان کے کزن، جو کہ کبھی اچھے طالبان ہوتے تھے، افغانستان میں پناہ کی صورت میں دیتے ہیں۔
اچھے طالبان کی حکومت نائن الیون کے بعد افغانستان میں ختم ہو گئی تھی جو کہ دوبارہ دو ہزار اکیس میں امریکی انخلا کے بعد قائم ہوئی ہے۔ برے طالبان نے پچھلے دو سالوں سے افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشتگردی کے بے شمار واقعات سرانجام دیے ہیں اور یہ سب اچھے طالبان کی مدد کے بغیر ناممکن ہے۔ پاکستانی ریاست اپنے پرانے بچے اچھے طالبان سے برے طالبان کی حوالگی کا مطالبہ کرتے دکھائی دیتی ہے اور اچھے طالبان کو نمک حرامی کا طعنہ بھی دیا جا رہا ہے لیکن اب لگتا ہے کہ چار دہائیوں بعد اچھے طالبان اپنے فیصلے پاکستانی ریاست کے مشورے کے بغیر کرنے لگے ہیں۔ اور یہ وہی پاکستانی ریاست ہے کہ جس نے ان کو آج اس مقام تک پہنچایا ہے کہ آج وہ باقاعدہ طور پر ریاستی طاقت کے طور پر دنیا میں تسلیم ہونے کے بہت قریب ہیں۔ اس کو وقت کی ستم ظریفی کہیں یا کچھ اور، اس ساری کتھا میں پاکستانی ریاست نہ جانے کہاں، کب اور کس کس کی جنگ لڑتی دکھائی دیتی ہے؟


