گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پاکستان کا بدلتا ہوا منظر نامہ


دنیا بھر میں گلوبل وارمنگ ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے جس کی وجہ سے زمینی حالات میں تبدیلی کا سامنا ہر جانب ہو رہا ہے۔ گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس 2018 کی رپورٹ میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پانچواں سب سے زیادہ خطرے والا ملک قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے بدلتا ہوا منظرنامہ دیکھنے کو مل رہا ہے جیسے کہ موسمی تبدیلی، برف باری میں کمی، زیادہ درجہ حرارت اور بڑھتی ہوئی آبی زندگی کی مشکلات شامل ہیں۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں موسمی تبدیلیوں کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں جیسے بڑھتا ہوا درجہ حرارت، مون سون کی تبدیلی، شمال میں گلیشیئرز کا پگھلنا اور موسمی موسم کے نظام میں تبدیلیاں یہ کچھ اثرات ہیں جنہوں نے پاکستان کو حالیہ برسوں میں مقابلہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔

پاکستان کے ساحلی علاقوں میں بحری سطح میں اضافہ کی وجہ سے سمندری سطح کا اضافہ ہو رہا ہے، جو بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی سمندری سرگرمیوں پر اثر انگیز ہو رہا ہے۔ سمندر کی سطح میں اضافہ اور بارشوں کی تبدیلیوں کی وجہ سے ساحلی علاقوں میں سیلاب کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے، جو انسانی زندگیوں کو بڑے خطرے میں ڈال رہا ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کی بات کی جائے تو 2022 میں پاکستان میں ہونے والے سیلاب نے اس موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے خطرہ ظاہر کیا ہے۔ 2022 میں جون اور جولائی کے درمیان ہونے والی موسلادھار بارشوں اور اچانک ہونے والے سیلاب نے ملک کا ایک تہائی حصہ بڑے پیمانے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے اثرات سے متاثر ہوا جس سے انسانی جانوں، املاک، زراعت اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ لگ بھگ 33 ملین لوگ متاثر ہوئے، اور 20.6 ملین افراد کو زندگی بچانے والی امداد کی ضرورت ہے، جن میں سے نصف بچے تھے۔ مجموعی طور پر، 7.9 ملین لوگ بے گھر ہوئے، کم از کم 664,000 افراد ریلیف کیمپوں اور غیر رسمی مقامات پر منتقل ہوئے۔

حکومت پاکستان نے 84 اضلاع کو ’آفت زدہ‘ قرار دیا، جس کا سب سے زیادہ اثر ملک کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں محسوس ہوا۔ معاشی اثرات سندھ میں سب سے زیادہ نمایاں تھے، جس نے ملک کے مجموعی نقصانات اور نقصانات کا 70 فیصد برداشت کیا۔ پنجاب، بلوچستان، اور خیبر پختونخوا (کے پی) صوبے کم متاثر ہوئے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) کے مطابق سیلاب نے 2.3 ملین سے زیادہ گھروں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کیا اور 1.7 ملین ہیکٹر ( 4.4 ملین ایکڑ) فصلوں کا صفایا کر دیا، جب کہ 800,000 سے زیادہ مویشی ہلاک ہوئے، جس سے 80 لاکھ سے زیادہ لوگ غربت میں دھکیل گئے۔ مزید یہ کہ 30,000 سے زیادہ اسکولوں اور 2,000 صحت کی سہولیات کو نقصان پہنچا ہے اور انہیں مرمت یا مکمل طور پر دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔

موسمیاتی تبدیلیوں کی بہت سی وجوہات ہے جن میں جنگلات کی کمی، زمینی حالات میں تبدیلی، اور گاڑیوں اور فیکٹری سے نکلنے والی آلودگی کی بڑھتی شرح شامل ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات زمینی حالات پر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان تیزی سے شدید موسمی واقعات کا سامنا کرے گا۔ پاکستان کو ان موسمی واقعات کا سامنا کرنے کے لیے اور ان موسمی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لئے نہ صرف حکومت بلکہ عوام دونوں کو مل کر مشترکہ کارروائیاں کرنی ہوں گی۔ پاکستان کو گلوبل وارمنگ کے خلاف محفوظ بنانے کے لئے ہمیں جمعی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ان میں اضافہ کاربن کی مقدار کو کم کرنے کے لئے اقدامات، زرعی زمینوں کی بحالی، اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف اقدامات اٹھانے ہو گے۔

گلوبل وارمنگ کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کو بھی مسلسل کارروائیاں کرنی ہوں گی تاکہ زمینی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت آنے والے موسمی واقعات کا سامنا کرنے اور انسانی زندگیوں کو اس خطرے سے بچانے کے لیے کون سے اقدامات کرتی ہیں

Facebook Comments HS