شانگلہ اور کوئلہ کان
کوئلہ کو کالا سونا بھی کہا جاتا ہے۔ اس کالے سونے کو نکالنے والے مزدور فقیروں کی زندگی گزارتے ہیں اور اس کوئلہ کان کے مالک بادشاہوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔
اگر پاکستان میں کوئلہ کی بات کی جائے اور ضلع شانگلہ کے مزدوروں کی بات نہ کی جائے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ضلع شانگلہ خیبرپختونخوا کا پہلا اور پاکستان کا دوسرا پسماندہ ضلع ہے۔
کول مائنز ورکر ایسوسی ایشن کے مطابق ضلع شانگلہ میں 70 فیصد آبادی کوئلہ کانوں میں مزدوروں کرتے ہیں۔ اور اس میں 15 سال کے بچے بھی غربت کی وجہ سے اپنی برباد جوانی گزارتے ہیں۔
55 اور 60 سال کے بزرگ بھی اپنے خاندان اور بچوں کے لیے رزق حلال کمانے کے لیے اس کا رخ کرتے ہیں۔ اور ہر سال شانگلہ کے سینکڑوں افراد اس میں مرتے ہیں۔
ضلع شانگلہ میں روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ اس جان لیوا کام سے وابستہ ہیں۔
اکثر مزدور پھیپھڑوں کے مریض ہوتے ہیں۔
یونائیٹڈ یوتھ آرگنائزیشن کے مطابق کوئلے کی کان میں سپائنل کارڈ ٹوٹنے کی وجہ سے معذور ہونے والے نوجوانوں کی تعداد 370 سے زیادہ ہے۔
جبکہ کئی مزدور ہاتھ پاؤں سے محروم ہو چکے ہیں۔
منتظر نامی مزدور نے بتایا کہ کانوں میں حفاظتی اقدامات کا فقدان ہے۔ جس کی وجہ سے حادثات ہوتے ہیں۔
دوسری جانب مزدورں کو اغوا کیا جاتا ہے اور پیسوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن مزدوروں کے ہاں اتنے پیسے کہاں ہوتے ہیں اغوا کاروں کو پیسے نہ ملنے کی صورت میں مزدوروں کی لاشیں ملتی ہے۔
2021 کو بلوچستان کے دکی میں 11 مزدوروں کو مسلح افراد نے اٹھایا اور بعد میں اس کی لاشیں ملی جو شانگلہ کو روانہ کیا گیا۔
روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق 24 مارچ 2024 کو دکی میں ایک اور واقع سامنے آیا جس میں مسلح افراد نے شانگلہ کے 3 غریب مزدوروں کو اٹھایا۔
حکومتی سطح پر اس مزدورں کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔
25 اپریل 2022 کو ضلع شانگلہ کے ایم پی اے اور صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے افسر افغان کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ مجھے شانگلہ کے مزدوروں کا پتہ نہیں ہے۔ پاکستان مسلم لیگ کے صوبائی صدر اور قومی اسمبلی کے رکن امیر مقام نے بھی اس کے لیے آج تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔
اس لیے مزدورں کے بچے تعلیم حاصل کرنے کی بجائے کوئلہ کان جاتے ہیں۔ تعلیم کے لیے سکول نہ ہونے کے برابر، کالجوں کی تعداد نہایت کم اور یونیورسٹی کا تو خیر خیریت۔ باہر کے یونیورسٹیوں میں اس مزدوروں کے بچوں کے لیے کوئی کوٹہ سسٹم نہیں کہ وہ اپنا تعلیم جاری رکھ سکیں۔
نتیجہ یہ ہوا کہ غربت عروج پر پہنچ گئی ہے۔ کانوں میں شانگلہ کے مزدور سب سے زیادہ، خواندگی شرح سب سے کم، معذور سب سے زیادہ، پھیپھڑوں کے مریض سب سے زیادہ۔


