پنجاب یونیورسٹی کتاب میلہ اور تین کتابیں


موجودہ دور میں موبائل، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی نے لوگوں کے ذہنوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اگرچہ ای بک اور پی ڈی ایف سے بہت آسانی ہوئی ہے، مطالعے کے نئے نئے ذرائع متعارف ہو چکے ہیں اور لوگ ورقی کتب کی جگہ پی ڈی ایف کتابوں کے اسیر ہو رہے ہیں، لیکن پھر بھی پریس سے چھپی ہوئی کتابوں کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ مسلم ہے۔

ایکسپو سینٹر بک فیئر 2024، جو کہ فروری کے پہلے ہفتے میں منعقد ہوا تھا، کتاب دوست احباب کے لیے عید کا سماں تھا۔ اور پھر اس کے ایک ہی ماہ بعد مارچ کے دوسرے ہفتے میں ہی پاکستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی، پنجاب یونیورسٹی نے کتاب سے محبت کرنے والوں کو ایک بڑی خوشخبری دی اور ایک بڑا کتاب میلہ سجا دیا، میرا نہیں خیال کہ پاکستان میں اس سے بڑا کوئی کتاب میلہ سجا ہو۔ ایک ہی لائن میں سٹالز کی ایک لمبی قطار لگی تھی، جہاں مہنگائی کے اس دور میں بھی سستی اور معیاری کتابوں کا ایک ذخیرہ موجود تھا۔ میں نے لاہور میں آ کر محسوس کیا کہ کتاب اور ادب سے محبت کیا ہوتی ہے؟ جیسے لاہور واسیوں کے خمیر میں ادب گوندھ دیا گیا ہو۔

ان تین دنوں میں پنجاب یونیورسٹی کی طرف تو جیسے علم و ادب سے تعلق رکھنے والوں کا ایک سیلاب امڈ آیا اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ کتب خریدی گئیں، اتنے کم وقت میں اتنا بڑا میلہ سجانا یقیناً ایک قابل تعریف عمل ہے جس کے لیے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب ڈاکٹر خالد محمود صاحب، پنجاب یونیورسٹی کے چیف لائبریرین جناب ہارون عثمانی صاحب، ان کی پوری ٹیم اور یونیورسٹی کی باقی انتظامیہ خصوصی مبارکباد کی مستحق ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں سجنے والے اس تین روزہ کتاب میلے کے پہلے روز اورینٹل کالج اور سنگ میل پبلیکیشنز کے اشتراک سے شائع ہونے والی تین کتابوں ”نقش پائے خامہ، ریت اس نگر کی اور انجمن اردو کی روداد“ کی تقریب پذیرائی ہوئی۔

”نقش پائے خامہ اور ریت اس نگر کی“ بالترتیب اورینٹل کالج سے منسلک افسانہ نگاروں اور شاعروں کے تعارف اور تخلیق پر مشتمل کتابیں ہیں۔ جن کو اورینٹل کالج کے ہر دل عزیز استاد مشتاق احمد خان نے انتہائی محنت اور دلجمعی کے ساتھ مرتب کیا، جبکہ ”انجمن اردو کی روداد“ اورینٹل کالج کے ہونہار طالبعلم جمال الدین خان کا ایم اے کا مقالہ تھا جسے ادارے کی طرف سے بطور اعزاز شائع کیا گیا۔ اور یقیناً یہ ایک طالبعلم کے لیے اعزاز کی بات ہے۔

شعبہ اردو کے استاد ڈاکٹر ساجد صدیق نظامی نے گفتگو کرتے ہوئے انجمن اردو کے قیام اور اس کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا۔ اس کے بنیاد گزاروں کا تعارف کروایا اور وہ تمام نام گنوائے جو آج اردو ادب میں مستند حوالہ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

انجمن اردو کی موجودہ کاوشوں کو سراہتے ہوئے اورینٹل کالج کے سابق پرنسپل ڈاکٹر معین نظامی کی علمی اور ادبی خدمات کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ کہ ان کی ذاتی دلچسپی کے باعث اورینٹل کالج سے وابستہ شاعروں اور افسانہ نگاروں کے بارے میں دو کتابیں منظر عام پر آئیں، ان دونوں کتابوں کو انجمن اردو کے موجودہ نگران مشتاق احمد خان نے مرتب کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی نگرانی میں بی ایس اردو کے طالب علم جمال الدین خان نے انجمن اردو کے رجسٹر کی تدوین کا کام مقالے کی صورت میں مکمل کیا۔

ڈاکٹر ساجد صدیق نظامی نے جمال الدین خان کے اس تحقیقی کام کو خوب سراہا۔ انہوں نے اورینٹل کالج کی موجودہ پرنسپل ڈاکٹر نبیلہ رحمان کو مبارک باد پیش کی اور اس کامیاب تقریب کو علمی و ادبی سرگرمیوں میں تسلسل قرار دیا جو اورینٹل کالج کی پہچان ہے۔

شعبہ اردو کے ہی استاد ڈاکٹر ظہیر عباس نے اورینٹل کالج کے افسانہ نگاروں پر مرتب کی گئی کتاب نقش پائے خامہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ”کتاب کو مرتب کرنے والا یا مدون کرنے والا آزاد ہوتا ہے۔

مشتاق احمد کی اس کتاب پہ اعتراض کیا گیا ہے کہ انہوں نے عمر کے لحاظ سے افسانوں کو ترتیب دیا اور انہوں نے کسی افسانہ نگار کے قد کاٹھ کو مدنظر نہیں رکھا۔ میرے خیال سے اس کا جواب یہ ہے کہ اس لحاظ سے مشتاق احمد نے بہت عمدہ کام کیا ہے، عمر کے لحاظ سے افسانے مرتب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص اورینٹل کالج میں پہلے داخل ہوا اس کا افسانہ پہلے اور جو بعد میں داخل ہوا اس کا افسانہ بعد میں ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے یہ جو کام کیا ہے دراصل یہ ترتیب کا کام نہیں بلکہ تدوین کا کام ہے، انہوں نے کچھ رسائل کھنگالے، ایسی کتابیں جو منظر عام سے غائب ہو چکی تھیں ان تک ان کی رسائی ہوئی اور ان لوگوں کے جو افسانے انہیں بہترین لگے وہ اس کتاب میں انہوں نے شامل کیے۔ اور بہت ہی کم وقت میں اس قدر شاندار کتاب کو منظر عام پر لائے۔

اورینٹل کالج سے وابستہ شعبہ فارسی کے استاد ڈاکٹر شعیب احمد نے گفتگو کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود کا شکریہ ادا کیا اور اس کامیاب کتاب میلہ کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی، انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی پاکستان کے تعلیمی اداروں کا جھومر ہے اور اس کتاب میلہ کے انعقاد سے اس کے وقار میں اور اضافہ ہوا ہے۔ طلباء و طالبات کی بھر پور شرکت نے اس کی رونق میں اضافہ کیا ہے۔ طلباء و طالبات کے کتاب بینی کے شوق کو دیکھتے ہوئے ادارے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس طرح کے کتاب میلوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔

ڈاکٹر شعیب احمد نے اورینٹل کالج کو پنجاب یونیورسٹی کے ماتھے کا جھومر قرار دیا او اس کے اساتذہ کی علمی و ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اساتذہ کا متبادل کسی دوسرے ادارے کے پاس نہیں یہی وجہ ہے کہ سب اورینٹل کالج کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ شعبہ اردو کے استاد اور انجمن اردو کے نگران مشتاق احمد خان کے بارے میں انہوں نے کہا وہ انتہائی متحرک اور با صلاحیت استاد ہیں اور ایک وقت میں بے شمار جہتوں پر کام کر رہے ہیں جس کا ثبوت ان کی وہ سات کتابیں ہیں جو تحقیقی حوالے سے اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں۔

ان کی نئی کتاب ”ریت اس نگر کی ہے“ جس میں انہوں نے اورینٹل کالج سے وابستہ شاعروں کا تعارف اور ان کا کلام شامل کیا ہے ان کی تحقیقی کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشتاق احمد خان کی نگرانی میں انجمن اردو بہت فعال ہو گئی ہے اور انجمن اردو کے زیر اہتمام ہونے والی تقریبات میں رونق بڑھ گئی ہے۔

آخر میں اس خوبصورت تقریب کی مہمان خصوصی پرنسپل اورینٹل کالج ڈاکٹر نبیلہ رحمان نے مشاق احمد خان اور جمال الدین خان کی ان کتابوں کی صورت میں کی گئی محنت اور کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ چھوٹے جب بڑا کام کرتے ہیں تو انہیں سراہنا بنتا ہے۔ اور مزید کہا کہ جب آپ کو انتخاب کرنے کا سلیقہ آ جاتا ہے تو یہ آپ کا ایک اچھا نقاد بننے کی طرف قدم ہوتا ہے اور یقیناً نقش پائے خامہ اور ریت اس نگر کی ایک بہترین انتخاب ہے۔

اور ساجد صدیق نظامی اور شعیب احمد کی خواہش کو خوش آئند کہتے ہوئے میڈم صاحبہ نے وائس چانسلر صاحب کی طرف سے خوش گمانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وائس چانسلر صاحب جس قدر کتاب دوست اور کتاب شناس ہیں یقیناً یہ کتاب میلہ ہر سال اسی طرح سجا کرے گا۔

اس تقریب کی نظامت اورینٹل کالج کے شعبہ اردو سے تعلق رکھنے والے استاد ڈاکٹر محمد نعیم ورک صاحب نے انتہائی منظم اور خوبصورت انداز سے کی۔ اس تقریب میں اورینٹل کالج کی مختلف شعبہ جات کے طلباء و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

Facebook Comments HS