چرسی ڈھولا ڈاھڈا تنگ کریندا
کہا جا رہا ہے کہ اخباری صحافت مکمل طور پہ زوال پذیر ہو چکی ہے البتہ چند اخبارات نے ویب سائٹ پہ شفٹ ہو کر خود کو بچا لیا ہے۔ ریڈیو اور روایتی ٹی وی بھی زوال پذیر ہو چکے ہیں اور سیٹلائٹ نیوز چینلز بھی دو سال بعد زوال میں چلے جائیں گے۔ مستقبل صرف ڈیجیٹل میڈیا کا ہو گا۔ ڈیجیٹل میڈیا میں بھی وہی چینلز اور ویب سائٹس سروائیو کریں گے جن کے پیچھے تربیت یافتہ سٹاف، تازہ اور تصدیق شدہ درست معلومات اور بڑی کمپنیوں کا سرمایہ ہو گا۔ خیر۔
ریڈیو کے زوال اور موبائل فون کے عام ہونے سے پہلے ریڈیو ملتان اور ریڈیو بہاول پور خطوط کے ذریعے کی جانے والی فرمائش پہ ایک سرائیکی گیت اکثر نشر کرتے تھے۔ ”مست ملنگ چا کیتا ای۔ ساڈا دل تنگ چا کیتا ای“ (میرے محبوب! تم نے اپنی محبت میں مجھے مست ملنگ بنا دیا ہے۔ میرا دل تمہاری محبت میں بہت بے چین ہے ) ۔ ”کوٹھے تے کھلوتی آں۔ متھے تے ٹکا لا۔ تیرے پچھے ہوئی ہاں ہنڑ تاں میں تباہ“ (میرے محبوب! سرسبز لہلہاتی فصلوں کے درمیان ہمارا گھر ہے جس کی چھت پہ کھڑی ماتھے پہ جھومر سجائے میں تو تیرا راہ تک رہی ہوں۔ کیا تمہیں اندازہ ہے کہ تمہاری محبت نے مجھے بدنام اور تباہ کر دیا ہے ) ۔ ”سوہنڑا یار میری توبہ توبہ“ (بس میرے محبوب! اب میں نے تم سے وفا کی امید رکھنے سے توبہ کر لی ہے ) ۔
اس گیت کو عوامی گلوکار احمد خان ملنگ نے گایا تھا لیکن مقبول عام ہو جانے کے بعد نورجہاں اور دیگر کچھ گلوکاروں نے بھی شاعری اور مصرعوں کی تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ گایا۔
معاشرے کے فرسودہ سسٹم، لوگوں کے منفی رویوں، دولت اور جائیدادیں بنانے کی ہوس، حسد، معاشی عدم مساوات، وسائل کا صرف چند خاندانوں کے ہاتھوں میں ارتکاز، عورت کا حق صرف دو وقت کی روٹی اور ایک چھت ملنے تک محدود کرنے والا انسان دشمن رویہ، نام نہاد تقدس کی آڑ میں ہڈ حرام قوتوں کا عام آدمی کی کمائی سے اپنا ”حصہ“ وصول کرنے اور خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے والوں کا مائنڈ سیٹ استحصالی قوتوں کی طرف سے ایسا بنا دینا کہ وہ اپنی غربت اور بالا تر طبقوں کی عیاشیوں کو تقدیر سمجھ کر صبر کریں وغیرہ کو درج بالا سرائیکی گیت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں تو احساس ہوتا ہے کہ رات ابھی تھوڑا طویل ہے۔ جب صبح ہو گی تو جانے ہم بھی ہوں گے یا نہ ہوں گے۔ خیر۔
احباب! پاکستان کی آبادی اگر پچیس کروڑ کو چھو چکی ہے تو ہمسایہ انڈیا ایک ارب چالیس کروڑ کی آبادی تک پہنچ گیا ہے۔ ان دونوں ممالک میں بیس سال قبل جس مڈل کلاس کا وجود سامنے آیا تھا وہ گزشتہ تین سالوں میں آنے والی خوفناک مہنگائی کے ہاتھوں اپنا مڈل کلاس کا درجہ کھو کر واپس خط غربت کی طرف جا رہی ہے۔ حالت یہ ہے کہ وسائل کی کمی کا شکار بھی ہو چکے ہیں لیکن اپنی سفید پوشی کی وجہ سے وہ کسی کے آگے ہاتھ بھی نہیں پھیلا سکتے۔ جن قوتوں کے ذمہ عام آدمی کو ریلیف دلانا تھا وہ ریاست کے وسائل اپنی عیاشیوں پہ تو خرچ کرتے ہیں لیکن عام آدمی کے استحصال کو روکنے کے لیے پہلے سے بنائے گئے قوانین کو عملی طور پہ نافذ کرنے میں پس و پیش سے کام لیتے ہیں۔ خیر۔
گاؤں چلے جانے کی وجہ سے ابرار جوگی کے ٹی اسٹال پہ چند دن نہ جا پاؤں تو وہ فون کر کے آنے کا اصرار کرتا ہے۔ وہاں ابھی چائے کا کپ ہونٹوں کو لگاتا ہوں اور بھکاریوں کی آمد شروع ہو جاتی ہے۔ درجنوں نہیں سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں عورتیں، مرد، بوڑھے بچے سب بھیک مانگ رہے ہیں۔ جس سڑک پہ چلے جاؤ جس گلی سے گزر رہے ہیں آپ کا سامنا کسی نہ کسی بھکاری سے ہو جاتا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں بھکاریوں کے سامنے آنے کی وجہ غربت اور روزگار کے وسائل کی عدم دستیابی ہے یا ہڈ حرامی؟
اچھا، مہنگائی تو اپنی جگہ لیکن ہمارے عوام شادی بیاہ اور مرگ کے نام پہ ہونے والی کئی فضول رسموں کو چھوڑنے کو تیار نہیں چہ جائیکہ ان پہ آنے والے اخراجات کی وجہ سے وہ مقروض ہو جاتے ہیں۔ خاندان میں کوئی مر گیا ہے تو سوئم، سات جمعراتیں، چالیسواں اور برسی وغیرہ کے نام پہ کھانے کی دیگیں پکتی رہیں گی جن کا حکم نہ قرآن پاک کی کسی آیت مبارکہ میں دیا گیا نہ حدیث میں۔
ماضی میں شادی کے نام پہ چند فنکشن مہندی، بارات اور ولیمہ ہوتے تھے لیکن کیا آپ یقین کریں گے کہ اب سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک کی مہربانی سے ایک ہی شادی کی تقریبات اور ان کے نام پہ دیے جانے والے اجتماعی کھانوں کی تعداد آٹھ تک جا پہنچی ہے۔ انڈیا میں مکیش امبانی جیسے دولتمند خاندانوں کی طرف سے مایوں بٹھانا اور مہندی سے پہلے بھی کچھ نئے فنکشن اور کھانوں کی تقریبات متعارف کرانے کے بعد دیکھا دیکھی یہ سب کچھ اب انڈیا اور پاکستان کی مڈل کلاس میں بھی شروع ہو چکا ہے۔ دلہن کا لہنگا جی اڑھائی لاکھ روپے کا دلہن کا میک اپ جی چالیس ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے کا ۔ خیر۔
اکبر شیخ اکبر کا اس بلاگ کے ذریعے عام آدمی کو پیغام ہے کہ جاری سسٹم چرسی ڈھولا بن کر آپ کو تنگ کرتا رہے گا۔ اس میں مثبت تبدیلی کب آئے گی اور استحصالی طبقوں سے آپ کی جان کب چھوٹے گی؟ فی الحال کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ بہتر ہے اپنی مشکلات اور پریشانیوں کو کم کرنے کے لیے اپنے غیر ضروری اخراجات کو کم کریں۔ اپنی زندگی میں سادگی لائیں۔ نمود و نمائش کی رسمیں آپ پہ معاشی بوجھ ڈالتی ہیں ان کو ترک کر دیں۔ گھروں کی تعمیر میں سادگی رکھیں۔ گاڑی بھی بہت زیادہ مہنگی نہ خریدیں۔ کبھی کبھار ہوٹلنگ کر لیں لیکن اپنی خوراک بھی سادہ رکھیں۔ روزانہ باربی کیو اور تیز مصالحے والی مرغن غذائیں، برگرز، شوارمے اور پیزا کھانے کو اسٹیٹس نہ بنائیں اس سے آپ صرف ڈاکٹروں اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے بنک اکاؤنٹس بھرتے ہیں۔
کسی سے حسد نہ کریں۔ کسی کا برا نہ چاہیں اس سے آپ کا اپنا قلبی اور ذہنی سکون خراب ہو جاتا ہے۔ رات گئے اپنے گھر کا گیٹ کھلوانے کے لیے اپنی گاڑی کا ہارن بار بار نہ بجائیں۔ آپ کے ہمسایہ میں کوئی بیمار ہو سکتا ہے کسی نے صبح صبح بیدار ہو کر اپنے کام پہ جانا ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے وہ آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے لیکن دل ہی دل میں آپ کو بد دعا تو دے سکتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی سچائی ہے کہ بد دعا کا اثر ہوتا ہے۔


