ہائبرڈ نظام حکومت، ناکام تجربہ
پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں کبھی بھی آئیڈیل تو درکنار خالص جمہوریت بھی نہیں رہی کبھی لولی لنگڑی جمہوریت، کبھی حقیقی جمہوریت، کبھی پارلیمانی آمریت، کبھی مکمل آمریت اور اب ہائبرڈ جمہوریت نے یہاں کے عوام کو اصل جمہوریت سے ناآشنا رکھ کر جمہوریت سے متنفر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ مگر آج ہم باقی کو چھوڑ کر گزشتہ دس سال سے جاری ہائبرڈ نظام پر ایک نظر ڈالتے ہیں کہ جمہوریت اور ریاست کی خدمت کے نام پر مفادات کے لئے سر کو خم کرنے کی بجائے سجدہ ریز ہونے کے باوجود یہ نظام کامیاب کیوں نہیں ہوتا ہے۔ اور اسٹیبلشمنٹ نئی بوتل میں پرانی شراب ہی ڈال کر ناکام تجربات سے سبق کیوں نہیں لیتی ہے؟
نواز شریف اور زرداری کی یاری، سیاسی بلوغت اور سول سپر میسی کے عزم کے بعد تیسری قوت (عمران خان) کو لانے کے لئے 2011 سے 2018 تک آئین کو بالائے طاق رکھ کر ڈنکے کی چوٹ پر جو ڈرامے کیے گئے وہ اب بچے بچے کو زبانی یاد ہے۔ ہائبرڈ نظام کے تحت عمران خان کی نیم سویلین حکومت بنی۔ اس نظام میں دو سال تک سرکاری اداروں کے سربراہان تو درکنار وزرا تک عمران خان کی مرضی کے بغیر تبدیل ہوتے رہے۔ اور بے چارہ عمران خان ہر صبح اپنے سرہانے لگے ٹیبل سے کاغذ اٹھا کر دن بھر طوطے کی طرح اس کاغذ کے الفاظ (پالیسی) کو دہراتا رہا۔ مجبوری کی انتہا دیکھئے کہ انھوں نے ایک آئین شکن جرنیل کو جمہوریت کا چیمپئین اور قوم کا باپ بنا دیا مگر اس کے باوجود ہائبرڈ نظام ڈیلیور نہ کر سکا۔ اور حاکم اور محکوم کی یہ یاری زیادہ دیر نہ چل سکی۔
اسکے بعد دو صوبوں میں ایک سال سے زیادہ اور وفاق میں تقریباً چھ مہینے آئین سے ماورا زبردستی کی نگران حکومت قائم رہی۔ نگران حکومتیں چونکہ براہ راست فوج کی سرپرستی میں قائم ہوئی تھیں، فوج، اس کے تمام ذیلی ادارے اور باقی محکمے حکومت کے ہر حکم کی تعمیل پر مجبور تھیں۔ اس لیے انھوں نے سمگلنگ کی روک تھام، بجلی چوری، افغانیوں کی واپسی آئی ایم ایف سے ڈیل، پرائیوٹائزیشن اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری جیسے بڑے بڑے فیصلے بے دھڑک کر دیے مگر تمام سیاسی جماعتوں سمیت کسی کو چوں و چراں کی ہمت تک نہیں ہوئی۔
اسی عرصے میں جیسے تیسے انتخابات کرائے گئے۔ یا منیج کرائے گئے وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ یعنی پنجاب میں نواز شریف اور جہانگیر ترین کے قریبی ساتھی ہارتے ہیں مگر شہباز شریف اور ان کے ساتھی جیت جاتے ہیں۔ پختونخوا میں مولانا فضل الرحمن، حیدر خان ہوتی، ایمل ولی خان، میاں افتخار، سردار بابک، آفتاب شیرپاؤ، سکندر شیرپاؤ، سراج الحق، عنایت اللہ خان، تیمور جھگڑا، کامران بنگش ہار جاتے ہیں مگر نور عالم خان، ملک طارق، ارباب زرق خان اور افغان شہری جلال خان جیت جاتے ہیں۔ پختونخوا میں علی امین گنڈا پور کو کمزور کابینہ مگر مضبوط حکومت دیتے ہیں۔ تاکہ وہ پرویز خٹک کی طرح بانی کی ہدایات کے بغیر من پسند حکومت کر سکے۔ مگر پنجاب میں شہباز شریف کو مضبوط کابینہ اور کمزور حکومت دیتے ہیں تاکہ تجربہ کار کابینہ مسائل حل تو کر سکے مگر مسائل پیدا نہ کر سکے۔
شہباز شریف کی ہائبرڈ حکومت بھی غریب کی چادر ہے۔ پاؤں چھپائے تو سر ننگا ہوتا ہے سر پر ڈالے تو پاؤں ننگے ہو جاتے ہیں۔ جس حکومت کا وزیر خزانہ اور وزیر داخلہ اپنا نہ ہو۔ جو سپیشل انوسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے فیصلے ماننے پر مجبور ہو جو پی سی بی کے چئیر مین کو نہ ہٹا سکے اور جو دو دن میں دو بڑے فیصلوں ( ممبر ارسا کی تعیناتی اور قومی اقتصادی کونسل کی تنظیم نو) میں تبدیلی پر مجبور ہو جائے۔ اس حکومت کی کامیابی کس کی کامیابی ہوگی اور ناکامی کا ذمہ دار کون ہو گا؟
شہباز شریف صاحب۔ یاد رکھیے ملک میں 2018 کے ہائبرڈ نظام کا تجربہ 2024 میں ایک مرتبہ پھر دہرایا گیا۔ فرق صرف یہ ہے کہ 2018 میں عمران خان کٹھ پتلی بنے اور 2024 میں آپ۔ لیکن یاد رکھیے کہ نہ وہ کامیاب ہوئے نہ آپ کی حکومت ملک و قوم کو اس دلدل سے نکال سکتی ہے۔ کیونکہ جہاں اختیار ایک کے پاس ہو اور ذمہ داری دوسرے کے پاس، وہاں کامیابیاں نہیں ملتی۔ جو لوگ اختیارات استعمال کرتے ہیں انہیں سامنے آ کر ناکامی کی ذمہ داری بھی لینی ہوگی۔ نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم سب ایک اور ناکام تجربے کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔ اور کچھ نہیں۔


