ابراہیم کی چڑیا کیا کہتی ہے!
کیا آپ کو پرندوں کی کہانی سننے میں دلچسپی ہے؟
شاید آپ نے اس چڑیا کی بابت سنا ہو کہانی کہنے والے کہتے ہیں کہ جب آتش نمرود بھڑکائی گئی (حضرت) ابراہیم کو بھسم کرنے کو تو اک چڑیا پانی کا قطرہ منہ میں لیے آگ بجھانے کو اڑی تھی اس سے دوسری چڑیا نے تمسخر سے پوچھا تھا :اک قطرے سے تو کتنی آگ بجھائے گی! چڑیا بولی وہی جو میری چونچ میں آنے والے قطرے ہیں اور پروں میں مکلف کی گئی نمی ہے اس سے۔ مجھے بس اپنے حصے کا کام کرنا ہے۔ وہ چڑیا آگ بجھاتے بجھاتے آگ کا ایندھن بن گئی۔ سنتے ہیں کہ ازل تا ابد بہشت کے باغ میں یہ چڑیا پھدکتی پھرتی ہے۔
اور شاید آپ نے ان چڑیوں کی بابت بھی سنا ہو جن کو چین میں یہ سوچ کر تلف کر دیا گیا تھا کہ وہ فصلیں اجاڑ دیتی ہیں اور اگلے ہی برس اس کے نتیجے میں شدید ماحولیاتی عدم توازن پیدا ہوا۔ نتائج اتنے تباہ کن تھے کہ قحط کی کیفیت پیدا ہو گئی فصلیں بالکل برباد اور کم ہوئیں پتہ چلا کہ یہ چڑیاں ضرر رساں کیڑے مکوڑے اور حشرات الارض اور جڑی بوٹیاں کھا جاتی تھیں نتیجۃ فیصلوں کی پیداوار کم ہو گئی جس سے قحط کی کیفیت پیدا ہوئی۔
باغ بہشت سے وہ ابراہیم کی چڑیا آپ سے پوچھتی ہے کہ کیا آپ کو کچھ خبر ہے کہ ارض مقدس کے پرندوں پہ کیا بیت چکی! کیا بیت رہی ہے؟
انھیں حقیر چیونٹیوں کی طرح مسلا جا رہا ہے۔ یہ پرندے اپنی چونچوں میں پیاس دبائے ہلکان ہیں۔ پینے کو کیچڑ ہے اور کھانے کو گھاس بھی نہیں ہے کیونکہ وحشیانہ بمباری سے وہ جل چکی ہے۔ یہ ننھے پرندے، یہ ننھی چڑیاں جن کے دل تو دھماکوں سے پھٹ جاتے ہیں مگر ان کی سماعتیں ان دھماکوں، قتل و غارت اور خون ریزی کے اتنے عادی ہوچکے ہیں کہ اب ان کی موجودگی میں بھی دھڑکنا سیکھ چکے ہیں مگر دشمن نے اب کہ ستم کی انتہا کردی ہے۔ ہرطرف خون ہے، آگ ہے، بھوک ہے، وحشت ہے اور ملبے تلے سسکتی لاشیں ہیں یا پھر چیتھڑے ہیں۔ پالتو اور آوارہ جانور ان لاشوں کو کھانے پہ مجبور ہیں کہ جہاں انسانوں کا پرسان حال کوئی نہیں وہاں ان پرندوں کو کون پوچھے۔
ان لاشوں کا مرنے سے پہلے ایک گھونسلہ ہوا کرتا تھا جہاں یہ ننھے پرندے بے فکر ہو کر تو نہیں مگر کسی نہ کسی طور زندگی کر ہی رہے تھے مگر اب دشمن نے شاید ٹھان لی ہے کہ ان کی نسل کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ قتل و غارت اور ظلم کی وہ انتہا ہے کہ جس کو بیان کرنے کو الفاظ بڑے بے بس ہیں۔ بھوک، بیماری، سردی، بارش ہے۔ خون ہے، لاشوں کی سڑاند ہے اور دانہ دنکا مہیا کرنے والوں کی عدم موجودگی میں یہ ننھے پرندے اس دنیا عالم کی طرف دیکھتے ہیں اور انچاس مسلم ممالک اور ان کی فوج سوتی ہے۔ سرحدیں لاک ہیں اور اناج اور دوا کے پہنچنے کی کوئی سبیل نہیں ہے۔
میری آنکھوں کے سامنے وہ ننھا سا معصوم پروں والا گڈا بار بار گھومتا ہے میلے، بوسیدہ کپڑے، چہرے پہ خراشیں آنکھ میں آنسو جو بھوک اور نیند سے نڈھال کسی دیوار کے ساتھ کھڑا کھڑا سوتا ہے اور گرنے کو ہے۔ وہ کون تھا شاید محمد، شاید یعقوب یا پھر عیسی۔ نام سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ابراہیم کی چڑیا دکھ کے نوحے گاتی ہے، روتی ہے۔ دونوں جانب ابراہیم کی اولاد ہے۔ کوئی یعقوب ہو، عیسی ہو یا محمد، وہ اب کہاں ہو گا؟ وہ یقیناً بھوک پیاس اور علاج سے محروم اب نہیں ہو گا۔ وہ پرندہ اب کسی ابدی بہشت کی جانب اڑ چکا ہو گا۔ یہ احساس مجھے اتنا بے چین کرتا ہے کہ میرا دل چاہتا ہے میں دھاڑیں مار مار کر روؤں اور پوچھوں ان پرندوں کی موت پہ تم سب کیسے بے حس، سکون کے ساتھ بیٹھے ہو۔
آپ نے وہ کہانی بھی شاید سنی ہوگی جس میں چڑیا سب سے مایوس ہو کر پہلے گائے کے پاس، پھر درخت کے پاس، اس کے بعد دریا کے پاس اور بعد ازاں ہوا کے پاس گئی تھی اور ہوا نے اس کی سن لی تھی۔ اور پھر پہیہ الٹا چل پڑا تھا۔
آپ آج نہیں سنتے، ٹھیک ہے پھر آپ انتظار کیجیے، یہ پرندے جو ختم ہو رہے ہیں مظاہر فطرت کو اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی داستان سنا کر جا رہے ہیں اور اب معاملہ کچھ اور ماورائی ہاتھوں میں جا رہا ہے اور پھر رب کا نظام لاگو ہو گا۔
کیا آپ کو اس بات پہ کوئی شک ہے کہ پرندوں اور مظاہر فطرت کا آپس میں کوئی تعلق ہے؟ یہ تعلق تو اب تو سائنس بھی ثابت کرتی ہے۔ سائنس پہ تو ایمان ہے نہ آپ کو ۔ آپ کی سائنس ہی بتاتی ہے کہ درختوں کا آپسی کمیونیکیشن سسٹم بہت پیچیدہ اور ماڈرن ہے۔
تو بس اک نسل معدوم ہونے کو ہے آپ بے حسی کی چادر تلے سوتے رہیے۔ اس کا جواب و حساب آپ سے کس نہ کسی طور تو لیا جائے گا وہ آپ دیکھ لیں گے۔
اس ارض مقدس پہ جو القدس کہلاتی تھی۔ یروشلم۔ امن و سلامتی کا شہر اور کیا ستم ظریفی ہے کہ صدیوں نے اس پر خون ریزی و بربادی ہی دیکھی ہے۔ ابراہیم کی چڑیا اس کی قدیم کہانی سناتی ہے اور بتاتی ہے کہ یہ جو ظالم ہاتھوں میں خونی ہتھیار اور موت لیے دعوی کرتے ہیں کہ یہ مقدس زمین تین ہزار سال سے ہماری ہے ہم اس کے اصلی وارث ہیں یہ ہماری پرومسڈ لینڈ ہے، یہ جھوٹے ہیں ان تین صدیوں میں محض ڈھائی سو برس فقط ڈھائی سو برس ان کی حکومت رہی۔
جب داؤد علیہ السلام نے باقاعدہ یہاں بسنے والے یبوسی قبیلے کے قدیم پرندوں کو شکست دے کر ایک حکومت قائم کی کہ اس سے پہلے یہیں ابو انبیاء ابراہیم علیہ السلام نے مسجد اقصی کی بنیاد رکھی تھی اور یہاں مختلف قبائل آباد تھے کوئی باقاعدہ حکومت نہ تھی۔ یہ سرسبز و شاداب وادی وافر پانی کی وجہ سے ایک معروف گزرگاہ تھی۔ داؤد علیہ السلام کے بعد شان و شوکت اور الوہی طاقتوں سے معمور تخت سلیمان تھا۔ کل ملا کر تین ہزار برسوں میں محض ڈھائی سو برس۔
پھر اس قوم نے مار ہی کھائی کبھی بخت نصر سے، کبھی رومیوں سے۔ عیسائی مذہب کی پیدائش کے بعد عیسائی کچھ اس طرح غالب آئے کہ ان کے مقدس مقامات کو کوڑا کرکٹ کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ یہ قوم جہاں خدا کی بہت چہیتی رہی جن پر انعام و اکرام کی انتہا کردی گئی وہیں لاڈلے بچے کی نافرمانیوں پہ ستم کی بھی انتہا بھی ہوئی۔ اس قوم کی نفسیات میں ایک عجیب بے ڈھبی ناشکری کی نحوست بار بار دیکھنے کو ملتی ہے کہ یہ بدنصیب قوم ایک طرف ارض مقدس کی حقیقی دعویدار بنتی ہے اور دوسری طرف تین صدیوں کی لمبی مسافت میں جس محسن نے ان کی حکومت قائم کی ان پہ ہی ان کی مقدس کتب میں انتہائی غلیظ الزام لگائے گئے۔ اک طرف ذہانت، فطانت، علم و دولت کی انتہا ہے اور دوسری طرف ایک عجیب نحوست کا جکڑاؤ ہے کہ جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔
اس کے بعد آتا ہے ہزار سالہ دور اسلام جب اس علاقے میں تینوں مذاہب جن کے اپنے اپنے الگ محلے تھے یہودی، عیسائی اور مسلم محلے۔ ان کے رشتے، کلچر، قبیلے مشترک تھے۔ باہم رشتے داریاں تھیں ان کے نام تک اتنے ملتے جلتے تھے کہ تفریق مشکل تھی۔ یہ عربی النسل عربی بولنے والے سفادی یہودی ہی اس زمین پہ صدیوں سے آباد تھے۔ یہ مسلمانوں کے ساتھ امن سکون سے بستے تھے آپس میں رشتے داریاں کرتے تھے مگر دور اسلام میں ان کی تعداد بہت کم رہ گئی تھی تو یہ یہودی کہاں گئے آخر!
اس کا جواب نہیں ملتا۔ قصے کہانیاں آپ کو بہت ملیں گی مگر اس سوال کا تسلی بخش جواب تل ابیب کے ہسٹری کے قدامت پسند یہودی پروفیسر شلومو سینڈ دیتے ہیں کہ نئے مذہب کی پیدائش پہ وہ تو مسلمان ہو گئے تھے۔ کیا خوب لطیفہ ہے یہ دیکھ لیجیے ابراہیم کی چڑیا سچ ہی کہتی ہے نا کہ معاملہ اب کچھ اور ہاتھوں میں جاتا جا رہا ہے۔ اس خطے کو لے کر جو پیشین گوئیاں کی گئی تھیں یوں لگتا ہے کہ وقت تیزی سے اسی جانب دوڑ رہا ہے کہ اصل مقابلہ ایمان والوں اور منکروں میں ہو گا اور ایمان والے اچھے مسلم، اچھے یہودی اچھے عیسائی کچھ بھی ہو سکتے ہیں اور مقابلے میں برے بد لوگ جن کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو سکتا ہے۔
یہ تو کارخانہ قدرت کی ادا رہی ہے نا کہ ”بت کدے سے مل گئے پاسباں حرم کی پاسبانی کے لیے“ تو یہ پروفیسر شلومو سینڈ ایک ایمان والا قدامت پسند یہودی صہیونیوں کے ناپاک عزائم کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑ رہا ہے۔ ابراہیم کی چڑیا خوشی سے چوں چوں کرتی ہے شلومو سینڈ نے اپنی چونچ میں اپنے حصے کا جو قطرہ اٹھایا ہے وہ اس آگ میں جل کر بھسم ہو کر میرے ساتھ ہی رہے گا۔
سلیمان کے دربار کا ہدہد آپ کو ایک دور دیس کا قصہ سنا رہا ہے وہ بھی سن لیجیے ہزار سال پہلے ملک کازار جو کہ آج کا آرمینیا جارجیا ہے وہاں کے بادشاہ نے ملک میں بڑھتی اخلاقی بے راہ روی کے باعث مذہب کو اپنانے کا فیصلہ کیا اور ملک کی سرحدوں و سیاست کو مدنظر رکھتے ہوئے قرعہ فال یہودی مذہب کے نام نکل آیا۔ اس وقت بے شمار لوگ یہودی مذہب میں داخل ہوئے۔ یوں اشک نازی یہودیوں کا جنم ہوا جو ہزار سال ادھر ادھر بھٹکتے پھرے۔
اپنی سازشوں بداعمالیوں کے باعث مار کھاتے رہے اور پھر راج برطانیہ نے ان سے نجات پانے کو امت مسلمہ کی پیٹھ میں خنجر اتارنے کو عرب ریاستوں کے درمیان ارض مقدس میں مثل خنجر ہی ایک ناجائز ریاست کی صورت آج سے بہتر سال پہلے جنم دیا اور یہودیوں کی قلیل مقدار کو توازن دینے کے لئے اشک نازی یہودیوں کو یورپ و دیگر ممالک سے گھیر گھیر کر یہاں لا پھینکا۔
اور یہی اشک نازی یہودیوں یا صہیونیوں کی حکومت ہے جو فلسطینیوں کی نسل کشی پہ کسی جنگی جنون کی طرح مامور ہے۔ وہ مختصر علاقہ جو فلسطین کہلاتا ہے بار بار کی جنگوں کے باعث بہت مختصر رہ گیا ہے۔ یہاں کوئی باقاعدہ حکومت نہیں ہے، اصل راج پاٹ اسرائیل کا ہے کہ معاش، خارجہ، داخلہ پالیسی سب اسرائیل کے ہاتھ میں ہے۔ محمود عباس کو بس ایک کمزور سا مئیر سمجھ لیجیے۔
یہ ہے وہ منظر نامہ، وہ بھیانک خونی منظر نامہ جہاں ایک قوم ایک نسل کو بہت ظالمانہ ڈھٹائی سے ختم کیا جا رہا ہے اور عالمی ضمیر بد مست نیند سو رہا ہے۔
اس کا آخر کوئی تو حل ہو گا؟ کوئی تو حل ہونا چاہیے؟
ابراہیم کی چڑیا کہتی ہے یہ سب ابراہیم کی اولاد ہیں، یہ سب اس کے بچے ہیں یہ علاقہ یہ ارض مقدس تینوں مذاہب کے پیروکاروں کے لیے بہت اہم ہے جس کی روحانی، مذہبی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ اہل یہود کی، صہیونیوں کی تمام تر سفاکی کے باوجود سچ اور حق یہی ہے کہ اس زمین کے چپے چپے پہ ان کی نشانیاں موجود ہیں۔ عیسائی مت نے یہاں جنم لیا اور مسلمانوں کا قبلہ اول، پیغمبروں کی زمین، محمد ﷺ کا مصلی یہیں ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ تمام مقدس مقامات کو فری لینڈ قرار دے دیا جائے اور تینوں مذاہب کے صلح جو بڑے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی ان مقام مقدسہ کی دیکھ بھال کریں اور زائرین سے ہونے والی آمدنی کو تینوں گروہوں میں آپس میں تقسیم کر دیا جائے۔ یہاں دو ریاستی تصور کو فروغ دے کر ایک جائز جمہوری حکومت قائم کی دی جائے جس کا نام باہمی مناسبت سے رکھ لیا جائے۔ نام اسرائیل بھی ہو تو یہ امر مانع نہیں کہ اسرائیل (حضرت یعقوب ) بھی سب کے لیے بہت مقدس ہیں۔
چڑیا کی سن لی آپ نے؟ اب کچھ میری بھی سن لیجیے۔
میری ریاست پاکستان سے اپیل ہے کہ فوری جنگ بندی میں اپنا سیاسی سفارتی رول نبھائے اور شام اور مصر پہ زور ڈالا جائے کہ وہ اپنے لاک بارڈر کھول دیں تاکہ امداد پہنچ سکے۔ کیونکہ معصوم پرندے، ننھے پروں والے فرشتے، بے گھر، لاشوں میں گھرے بھوک پیاس سے نڈھال، زخمی پرندے فریاد کرتے ہیں۔ کچھ کیجیے اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
میرا آخری سوال اپنے وطن کی ماؤں سے ہے اتنا خون، ننھے بچوں پر دیکھ کر وہ کیسے رات کو سو جاتی ہیں؟ یہ ننھی جوان لاشیں کیا اس بات کی بھی مستحق نہیں کہ تم مائیں ماتم کرتی سینہ پیٹتی باہر نکلو اور آہوں سے ایوانوں کو ہلا دو ۔ وہ ماں جو گھر میں پرندوں کے گھونسلے کی نگہبانی کرتی ہے، پالتو جانوروں کی بھوک پیاس کا خیال کرتی ہے وہ ماں جانتی ہے کہ نو ماہ کوکھ دکھ اٹھاتی ہے تو بچہ جنم لیتا ہے۔ وہ ماں اس ارض مقدس کے ان معصوم پرندوں کی آہوں سے انجان کیوں ہے کیا یہ ننھی لاشیں اس امر کی متقاضی بھی نہیں کہ ان پر جی بھر کر آہ و بکا اور سینہ کوبی کی جائے۔ ماتم ؛آنسو یا چیخ بھی تو احتجاج کا ایک رنگ ہوا کرتا ہے۔ احتجاج جو ضمیر کے دروازے پہ ایک دستک ہوا کرتا ہے۔ احتجاج جس سے ظالم خائف بھی ہوا کرتا ہے۔
میں نے اپنی بے بساط چونچ میں اشک بھر پانی کی بوند بھرنے کی کوشش کی ہے کسی ان دیکھی جنت کے لالچ میں نہیں صرف اس خوف میں کہ مکافات عمل کی چکی کہیں ہمارے گھونسلوں کا رخ نہ کر لے۔
اے ماؤ اٹھو کہ تم بخوبی جانتی ہو کہ نو ماہ کوکھ کے گھونسلے میں پرندہ تخلیق ہوتا ہے جسے یہ مرد جنگ میں جھونک دیتے ہیں۔ اتنا چیخو اتنی دستک، اتنا شور اتنی پکار ہو کہ جنگ کے شعلوں پہ اثر کر جائے۔ شاید کچھ ننھی چڑیاں بچ جائیں۔ ابراہیم کی چڑیا سوال کرتی ہے کیا چڑیاں معدوم ہو رہی ہیں کیا کوئی اپنی چونچ میں اپنے مقدر و مقدار کا قطرہ لے کر نہیں اڑے گا آگ بجھانے کو ؟


