پاکستان نے افغانستان کو واخان پر قبضے کی دھمکی کیوں دی؟


جس طرح بچہ اکیلا پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اپنے ساتھ والدین بھی پیدا کر دیتا ہے، اسی طرح ممالک اکیلے نہیں بنتے، اپنے ساتھ نئے ہمسائے بھی پیدا کر دیتے ہیں۔ پاکستان بنا تو ان سارے ممالک نے پاکستان کو تسلیم کر لیا جن کے ساتھ برطانیہ اور امریکہ کے اچھے تعلقات تھے۔ پاکستان کے ہمسایہ میں افغانستان واحد ملک تھا، جس کے برطانیہ کے ساتھ تعلقات اچھے تھے نہ اس کے بعد پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات بنے۔ افغانستان ایک لمبے عرصے تک روس اور برطانیہ کے درمیان سینڈوچ بنا ہوا اس موقع کا منتظر رہا، کہ کب برطانیہ واپس جائے، اور وہ اپنی ضعف کے باوجود اپنے تاریخی دعاوی کا تکرار شروع کردے۔ دوسرا پاکستان کے ساتھ ملحقہ صوبے میں موجود پختون قوم پرست جماعتوں نے بھی اسے آسرے میں رکھا، اور تیسری طرف بین الاقوامی طاقتوں نے بھی یہ طے کر دیا تھا کہ ان کی فیصلہ کن جنگ افغانستان کے اندر منعقد ہوگی۔ اس نے بھی پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات بہتر نہیں ہونے دیے۔

ہندوستان پر قابض ہونے کے بعد جب انگریز پختونخوا یعنی اس وقت کی سرحد پر پہنچ گئے، تو یہاں سے آگے بڑھنے کی خواہش کے باوجود یہ ان کے لئے بہت مشکلات کا باعث بن گیا۔ ایک طرف لوکل پختون قبائل ان کے سامنے سد سکندری بنے ہوئے تھے، تو دوسری طرف، افغانستان پر دو دفعہ فوج کشی کے باوجود دونوں دفعہ ناکامی ملی۔ دوسری برٹش افغان جنگ میں تو برطانوی فوج کی اتنی تباہی ہوئی کہ 16000 کی فوج میں صرف ولیم بریڈن نام کا ایک ڈاکٹر واپس سلامت پہنچا۔ جس کی بنائی ہوئی ایلزبتھ بٹلر کی پینٹنگ تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی تباہی کی دوسری یادگار، مردان میں توپو چوک کے نام سے مشہور ہے۔ اس موضوع پر لکھی گئی، میری مارگریٹ کایا کی دی فار پویلئین نامی ناول پڑھنے اور اس پر اسی نام سے بنی فلم دیکھنے کی لائق ہے۔ اس جنگ میں پیچھے چھوڑی ہوئیں، انگریز عورتوں میں کچھ سے تو افغانوں نے شادیاں کر لیں اور کچھ بعد میں واگزار کر دی گئیں۔

روس اور برطانیہ کے درمیان 1907 معاہدہ ہوا جس کے تحت افغانستان ایک بفر سٹیٹ کی حیثیت سے برطانوی استعمار اور سوویت یونین کے درمیان موجود رہے گا۔ 1893 کے برطانیہ اور افغانستان کے درمیان سرحدی حدبندی کے بندوبست کے ذریعے افغانستان کا رقبہ شمال کی طرف ایک شاخ کی صورت میں برطانیہ اور سوویت یونین کے درمیان اس غرض سے تسلیم کیا گیا تاکہ ان کے درمیان براہ راست سرحد موجود نہ رہے۔ اس بڑھائی ہوئی سرحد کو واخان کوریڈور کہتے ہیں، جو افغانستان کے تین ہمسایوں پاکستان، چین اور تاجکستان کے ساتھ لگتا ہے۔ جو پرانے سوویت یونین، افغانستان اور برٹش انڈیا کے درمیان کھینچی گئی سرحد تھی۔ اگر آپ افغانستان کا نقشہ دیکھیں، تو آپ کو افغانستان کا نقشہ کسی فرائی فین کی طرح لگے گا، اور واخان اس فرائی فین کا دستہ ہے۔

ہندوستان کی تقسیم کے بعد برٹش انڈیا کی بجائے افغانستان اور پاکستان ہمسائے بنے، تو افغانستان نے کبھی بھی دونوں ممالک کے درمیان موجود سرحد کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی اور ملکی کتابوں اور اخبارات میں بھی اس سرحد کو سیدھی طرح پاک افغان سرحد کہنے کی بجائے ڈیورنڈ لائن کہا گیا، جو ابھی تک جاری ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے، کہ پاکستان کے ہندوستان کے ساتھ کشمیر میں متنازع لائن آف کنٹرول کے علاوہ، دوسری کسی سرحد کا کوئی مخصوص نام نہیں، ماسوائے پاک افغان سرحد کے۔ پاکستان کی دوسری باہمی سرحدوں کو ایران پاکستان سرحد، پاک چین سرحد اور پاک انڈیا سرحد کہا جاتا ہے، جبکہ افغانستان کے ساتھ موجود سرحد کو آج تک ڈیورنڈ لائن کا نام دیا جاتا ہے۔

جب تک سوویت یونین موجود تھا، پاکستان کو مغربی ممالک کی دوستی کی وجہ سے اس سے شدید خطرات کا لاحق تھے، جس کی وجہ سے پاکستان واخان کی پٹی کو اپنے لیے تحفظ کی دیوار چین سمجھ رہا تھا۔ اسی سوویت خطرے کی وجہ سے پاکستان کئی وعدوں کے باوجود چترال ٹنل نہیں بنا رہا تھا، بلکہ وہاں جانے والی سڑک بھی اس حالت میں رکھی گئی تھی، کہ حملے کی صورت میں کوئی بڑی ٹریفک برداشت نہ کرسکے۔ گویا پاکستان نے چترال کی قیمت پر باقی پاکستان کو بچانے کی سٹریٹیجی اپنائی ہوئی تھی۔ جب سوویت یونین نہیں رہا تو اس کے بعد چترال کی سڑک بہتر کی گئی اور پھر چترال ٹنل بھی بنائی گئی۔

وجوہات کچھ بھی ہوں، افغانستان پچھلے چالیس سال سے ہمسایہ ممالک کی مداخلتوں جنگوں اور انقلابات کی وجہ سے عدم استحکام کا شکار ہے، جس کی وجہ سے سنٹرل ایشیا میں پیدا ہوئے تجارتی اور سفارتی مواقع سے پاکستان نے کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں کیا۔ لیکن شاید اب پاکستان سمجھتا ہے کہ اس کے اور سنٹرل ایشیا کی تجارت کے درمیان افغانستان ایک دیوار بنا ہوا ہے۔ پاکستان نے چند دنوں پہلے 16 ٹرکوں کے ذریعے سرگودھا کا کینو چین سے ہوتا ہوا روس پہنچایا۔ لیکن لگتا یوں ہے کہ یہ پاکستان کی تجارت سے زیادہ سٹریٹیجک موو تھی۔ قارئین کو یاد ہو گا، کہ طالبان کو لانچ کرنے سے پہلے جنرل بابر نے اکتوبر 1994 میں بھی اسی قسم کے پھلوں سے بھرے ہوئے این ایل سی کے ٹرک افغانستان کے راستے ترکمانستان بھیجے تھے۔ جس کے بعد افغانستان میں بڑی تبدیلیاں آنی شروع ہوئیں، جس کا اختتام افغانستان سے امریکہ کے حالیہ انخلا پر ہوا۔

چین سی پیک کو انڈیا اور سنٹرل ایشیا تک پہنچانا چاہتا ہے، لیکن انڈین پاکستانی تعلقات، اور پھر پاک افغان چپقلش، اور خصوصاً پاکستان کی بے لچک فارن پالیسی اسے ایسا کرنے نہیں دیتی۔ کسی ستم ظریف نے لکھا تھا کہ پاکستان انڈیا، چائنہ اور سنٹرل ایشیا کے درمیان سڑک پر پڑا ہوا ایک بھاری پتھر ہے۔

اب پاکستان کی طرف سے واخان کو قبضہ کرنے کی خواہش کی بازگشت بڑے دنوں سے مختلف فورمز ہر سنائی دی رہی ہے۔ تازہ یاد دہانی بلوچستان کے سابق وزیر اطلاعات نے کرائی ہے، جبکہ وزیر دفاع خواجہ آصف بھی مختلف الفاظ میں اس قسم کی بات کر چکے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کے آرمی چیف جنرل آصف منیر بھی ”ایک پاکستانی کی خاطر پورے افغانستان کو لتاڑنے“ کی دھمکی دے چکے ہیں۔ علاوہ ازیں افغانستان کے مہاجرین بھی واپس اپنے وطن بھیجے جا رہے ہیں۔

آئیے! دیکھتے ہیں، پاکستان کیوں اچانک واخان کی پٹی میں دلچسپی لینے لگا ہے؟ کیا افغانستان واقعی پاکستان اور سنٹرل ایشیا کے ممالک کے درمیان تجارت کے خلاف ایک دیوار بنا ہوا ہے؟ پاکستان کے پاس سنٹرل ایشیا میں بیچنے کے لئے ایسی کون سی مصنوعات یا زرعی پیداوار موجود ہے، جس کی وجہ سے اسے ایک ہمسایہ ملک کے کسی حصہ پر قبضہ کیے بغیر کوئی چارہ نہیں؟ کیا افغانستان اور پاکستان کے درمیان موجود سرحد افغانستان نے بند کی ہے یا پاکستان کی خواہش پر بند کردی گئی ہے؟

مندرجہ بالا سوالات میں سے پہلے سوال کا جواب آخر پر رکھتے ہیں، اور بقایا سوالات کا باری باری جواب ڈھونڈتے ہیں۔ دوسرے سوال کا جواب نفی میں ہے، کیونکہ افغانستان، پاکستان اور سنٹرل ایشیا کے ممالک کے درمیان دیوار بنا ہوا نہیں ہے، بلکہ وہ تو چاہتا ہے کہ پاکستان ان ممالک کے ساتھ باہمی تجارت جاری رکھے اور وہ اس سے مالی فوائد حاصل کرتا رہے۔ پھر اس وقت افغانستان، سنٹرل ایشیائی ممالک کے ساتھ ساتھ روس سے بھی بہترین تعلقات رکھتا ہے۔ تیسرے سوال کا جواب بھی نفی میں ہے۔ پاکستان کے اندر اس کی خراب مالی حالت اور مہنگی انرجی اور انرجی کرائسز کی وجہ سے اس کی زرعی اور صنعتی مصنوعات اتنی وافر مقدار میں تیار ہی نہیں ہوتی کہ وہ اسے کسی ہمسایہ ملک کے کسی حصے پر قبضہ کیے بغیر سنٹرل ایشیا کے ممالک بھیجنے پر مجبور ہو گیا ہو۔ پھر سنٹرل ایشیائی ممالک کے ساتھ پاکستان کی کوئی ایسی تجارت موجود ہی نہیں تھی، جو اب افغانستان کے ساتھ پاکستان کے خراب سفارتی تعلقات کی وجہ سے بھاری نقصان سے دوچار ہو گئی ہو۔ چوتھے سوال کا جواب بھی نفی میں ہے، کیونکہ پاک افغان سرحد پاکستان کی طرف سے دونوں اطراف کے قبائل اور گاڑیوں کے لئے روایتی طریقے کی آمد و رفت کے لئے بند کر دی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے جنوبی پختونخوا کے تجارت پیشہ لوگ مہینوں سے چمن میں احتجاجی دھرنے میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ افغانستان تو چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحد کھلی رہے تاکہ دونوں ممالک باہمی تجارت بھی جاری رکھے اور افغانستان کی ٹرانزٹ ٹریڈ بھی بحال رہے۔

پاکستان میں واخان قبضہ کرنے کی بازگشت کے سلسلے میں، مندرجہ بالا چیک لسٹ کے بعد ، جو واحد وجہ میری سمجھ میں آ رہی ہے، وہ پاک افغان بارڈر ہے، جس کو بین الاقوامی طور پر ڈیورنڈ لائن کہا جاتا ہے، اور جسے ماضی میں ظاہر شاہ، داود، ترکئی، کارمل، نجیب اللہ، حکمت یار، احمد شاہ مسعود، ربانی، مجددی، ملا عمر اور اب ملا ہیبت اللہ نے بھی باہمی بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے کی بجائے روایتی افغان بیانیے سے جوڑا ہے۔

اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان بارڈر، بقول افغانستان کے، بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحد نہیں بلکہ (بقول افغان حکام) ایک فرضی لکیر ہے، تو پھر واخان بھی اسی فرضی لکیر کا حصہ ہے، جہاں پر افغانستان کی فوجی موجودگی صفر کے برابر اور عسکری لاجسٹک سپورٹ اس سے بھی کم ہے۔ افغانستان میں روس کی مخالفت، حکمت یار کی حمایت اور مدد، پھر طالبان کی لانچنگ، اس کے بعد امریکہ کی مدد اور اب طالبان کی دوبارہ آمد کے وقت سیرینا کابل میں قہوہ کی پیالی کے ساتھ نمایاں تصویر کی، بہت ساری مالی، تکنیکی، اسلحہ جاتی اور تزویراتی فوائد کے علاوہ بنیادی سبب یہی تھا کہ افغانستان میں کوئی ایسی حکومت آ جائے جو پاکستان کے ساتھ بیٹھ کر باہمی بارڈر کے مسئلے کو پاکستان کی خواہش کے مطابق حل کر دے، لیکن، کمیونسٹ تھا، مجاہد تھا، ملا تھا یا طالب، کسی نے بھی پاکستان کے ساتھ بیٹھ کر، اس مسئلے پر، اس کی خواہش کے مطابق، معنی خیز مذاکرات کیے، نہ معاہدہ کیا۔ یہ اظہار میں پہلے بھی کر چکا ہوں، کہ جب تک حکومت نہ ملی ہو، افغان کمیونسٹ، مجاہد، ملا یا طالب، کچھ بھی ہو سکتا ہے، لیکن حکومت ملنے کے بعد وہ افغان ہوتا ہے۔

افغان حکومت کی بین الاقوامی عدم پذیرائی، افغان مہاجرین کی واپسی، پاکستان کے ساتھ باہمی تعلقات کی خرابی، تجارت کی بندش، بارڈر پر پابندیاں، ایک دوسرے پر دہشت گردی کے الزامات، اور پاکستان کی جانب سے حالیہ ہوائی حملے، اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں، کہ پاکستان نے مناسب حالات میں افغانستان کے ساتھ، ایک محدود اور کنٹرول جھڑپ کا ارادہ کر لیا ہے۔ افغانستان کے پاس ہوائی فوج ہے، نہ ریڈار، اور نہ جنگی جہاز، وہ اس جھڑپ کی صورت میں اندرونی دہشت گرد کارروائیوں کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا، جس کی پیش بندی کے طور پر پاکستان، اپنے ملک سے افغان مہاجرین کو پہلے سے نکالنے کی شروعات کر چکا ہے، جس کا آخری مرحلہ عید کے بعد مکمل ہو جائے گا۔ اس مختصر جھڑپ میں پاکستان کوشش کرے گا، کہ وہ واخان کی پٹی پر فوری قبضہ کردے، اور وہاں بیٹھا رہ کر بین الاقوامی جنگ بندی قبول کردے۔ اور امن و صلح کی خاطر مذاکرات کے دوران، بین الاقوامی اداروں اور ممالک کے موجودگی میں، وہ اس شرط پر واخان سے واپسی کا ارادہ ظاہر کرے، اگر افغانستان، پاکستان کے ساتھ باہمی سرحد کو بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحد تسلیم کردے اور پاکستان کے کسی بھی علاقے پر اپنے سارے دعاوی سے ہمیشہ کے لئے دستبرداری کا معاہدہ کرے۔

شازار جیلانی

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 127 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments