نور الہدیٰ شاہ کا ڈرامہ جنگل
جنگل ڈراما سندھ کے جاگیردارانہ نظام کے خلاف ایک مضبوط آواز بن کر ابھرا جہاں وڈیروں کے خلاف بات کرنے کی کسی میں جرات نہیں تھی ان کے خلاف ایک عورت نے قلم اٹھا کر ثابت کیا کہ ظلم کی اندھیری رات کو مٹا کر حق کے اجالے پھیلانے کی طاقت عورت رکھتی ہے۔ اس ڈرامے میں سندھ کی تہذیب و روایات رسم و رواج کو دکھایا گیا جو کسی صحت مند انسانی معاشرے کی روایات نہیں ہو سکتیں۔ عورتوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنا، انہیں اپنی فرسودہ رسومات کے تحت چھوٹے بچوں کی بیویاں بنا دینا، جائیداد کا لالچ اور اس کی ہوس میں مدہوش مردوں کا اپنی بہن بیٹیوں کو کسی بھی انسان نما جانور کے ساتھ باندھ دینا، کمزور پر ظلم، ان کے حقوق کی پامالی تو جیسے ان وڈیروں پر واجب ہو جس کی قضا کسی صورت نہیں ہو سکتی، حق کی خاطر اٹھنے والی آواز کو خاموش کرانا یہ سب ظلم و زیادتیوں کا مشاہدہ اس ڈرامے میں بہت باریکی کے ساتھ دیکھنے کو ملے گا۔
اس ڈرامے کو نور الہدیٰ شاہ نے تحریر کیا اور ہدایات ہارون رند نے دیں۔ یہ ڈراما 1986 ء میں پی ٹی وی پر نشر کیا گیا۔ اس ڈرامے کے نشر ہونے کے بعد سندھ کے وڈیروں میں ایک کہرام تھا کیوں کہ آج ان کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں ہیں کل کو یہی آوازیں ان کی بلند و بالا دیواروں کو توڑ کر انہیں نوچ لیں گی ان کی اجارہ داری باقی نہیں رہے گی۔ اس کے بعد نور الہدیٰ شاہ کا سوشل بائیکاٹ بھی کیا گیا۔ ڈراما مظلوموں کی جاگیردارانہ نظام کے خلاف اٹھتی ہوئی آواز تھا۔
بہاول خان کا تعلق ایک رئیس خاندان سے ہوتا ہے جس نے تین شادیاں کیے رکھی ہیں پہلی بیوی صفیہ (ججی) سے جس سے ایک بیٹا مہران خان ہے دوسری شادی شہر کی پڑھی لکھی خاتون ( مہتاب) سے جس سے ایک بیٹی رابیل اور بیٹا سکندر ہے تیسری شادی اپنے گاؤں کی مچھیرن ( زرینہ) سے کرتا ہے جس سے ایک بیٹا ساون ہے۔ بہاول خان شہر والی اور مچھیرن کے ساتھ شادی کو سب سے چھپا کر رکھتا ہے۔ ساون کی ماں ( زرینہ) ساون کو پیدا کرنے کے بعد خود مر جاتی ہے زرینہ کی ماں اپنے نواسے کو اپنے بھائی کے پاس چھوڑ آتی ہے کیوں کہ وہ جانتی ہے بہاول کے آدمی اسے اور اس کے نواسے کو مار دیں گے۔
اور ایسا ہی ہوتا ہے زرینہ کی ماں صابل مائی کا وہ آدمی جو رزینہ سے شادی کرنا چاہتا تھا مگر زرینہ کی ماں نے شادی سے انکار کر دیا وہی اپنا بدلہ لینے کے لیے مائی صابل کو مار دیتا ہے۔ شہر والی شادی کی بات صفیہ ( ججی) کو معلوم ہو جاتی ہے صفیہ کے مائیکے والوں کے خوف اور چچا دریا خان کے کہنے پر بہاول سکندر کی ماں کو طلاق دے دیتا ہے اور ایک وقت آتا جب بہاول بیمار پڑ جاتا ہے گھر کی ذمہ داریاں میران خان سنبھال لیتا ہے اور اپنے چچا دریا خان کو کسی معاملے میں بولنے نہیں دیتا دریا خان کا بیٹا لکھ میر خان اور بیٹی حسنہ ہوتی ہے اور لکھ میر خان کی دو بیٹیاں، شہر بانو اور امیر زادی ہیں۔ دریا خان اپنی بیٹی حسنہ کی شادی میران خان کے ساتھ کر دیتا ہے اور اس سے ایک بیٹا نصیر ہوتا ہے۔
سکندر اپنی ماں سے ہمیشہ اپنے باپ کے بارے میں پوچھتا ہے مگر وہ کبھی سکندر کو نہیں بتاتی کہ اس کا باپ کون ہے بالآخر سکندر اس بات کا پتا لگا لیتا ہے کہ اس کا باپ بہاول خان ہے اور ایک رئیس خاندان سے اس کا تعلق ہے وہ جائیداد کے لالچ میں میران خان کے پاس جاتا ہے اور میران خان کو بتاتا ہے کہ میں تمہارا بھائی ہوں اور تمہاری ایک بہن رابیل ہے میران خان ایک لالچی انسان جو رابیل کو تو اپنی عزت اور غیرت کا نام دے کر قبول کر لیتا ہے مگر سکندر کو حویلی میں آنے کی اجازت نہیں دیتا کہیں وہ جائیداد میں حصہ نہ مانگنے لگے۔
رابیل اور سارنگ ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں سارنگ بڑے سائیں کے گاؤں کا رہنے والا ہے جو بہاول کے گاؤں کے ساتھ والا گاؤں ہے۔ سارنگ ہمیشہ سے کسی کے سامنے جھکنے کو انسان کی شان کے بر خلاف سمجھتا ہے۔ سارنگ کا رشتہ چچا کی بیٹی نازو سے طے کر دیا جاتا ہے اور سارنگ کی بہن سدوری کا رشتہ نازو کے بھائی پنل کے ساتھ طے کر دیا جاتا ہے سارنگ کی ایک بہن کی شادی بڑے سائیں کے ایک خاص بندے ( عورب) سے ہوتی ہے جو چھوٹے سائیں کے ساتھ مل کر قتل کی کئی وارداتوں میں ملوث ہوتا ہے اور اس کے بھڑکانے پر چھوٹا سائیں پنل کو قتل کر دیتا ہے اس کے ساتھ عورب بھی شامل ہوتا ہے عورب کے خلاف ایف آئی آر سارنگ اور اس کا باپ ( باپ راضی نہیں ہوتا مگر سارنگ کے زبردستی کہنے کے بعد ساتھ چلا جاتا ہے ) صوبیدار ایف آئی آر نہیں کاٹتا کیوں کہ وہ خود بڑے سائیں کے ٹکڑوں پر پلنے والا۔
سارنگ کو اس کی نوکری (اخبار میں بطور آڈیٹر کام کرتا تھا ) سے بھی نکال دیا جاتا ہے کیوں کہ وہ ہمیشہ ظالم کے خلاف ڈٹ کر کھڑا رہتا ہے اور وہ مزدودی کرنے لگتا ہے اور وہاں سے بھی اسے اسی جرم میں نکال دیا جاتا ہے کہ تمہاری باتوں سے مزدوروں کے ذہن بدل رہے ہیں۔ ساون کو ہمیشہ ایک یتیم کہہ کر پکارا جاتا تھا وہ اپنے نانا سے کئی بار پوچھتا میرے ماں باپ کون تھے مگر چچا منجھی کبھی اسے کچھ نہیں بتاتا اور ساون ناراض ہو کر گھر سے چکاث جاتا ہے نانا مارا مارا ڈھونڈتا ہے مگر نہیں ملتا اسے لگتا شاید پپڑی ( گاؤں کی ایک لڑکی جس سے ساون محبت کرتا ہے ) کے پاس ہو گا مگر ساون وہاں بھی نہیں ہوتا رات گے ساون گھر واپس پلٹتا ہے تب اس کا نانا اسے ساری بات بتاتا ہے کیسے اس کی ماں ماری گئی اس کی نانی کے قاتل کون ہیں اور اس کا باپ بہاول خان جو اسے اپنا بیٹا تسلیم نہیں کرتا۔ ساون کے دل میں انتقام کی آگ بھڑکنے لگتی ہے اس کی زندگی کا مقصد اپنی ماں، نانی اور اپنے اوپر ظلم کرنے والوں سے انتقام لینا بن جاتا ہے پھر سے ایک دن ساون غائب ہو جاتا ہے اور کئی دنوں تک اس کے بارے میں کوئی سراغ نہیں ملتا۔
میران خان کو جب علم ہوتا کہ سارنگ اور رابیل دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور شادی کرنا چاہتے ہیں تو وہ رابیل کو زبردستی حویلی لے آتا ہے۔ اور اس کی شادی اپنے چچا زاد لکھ میر خان سے کر دیتا ہے لکھ میر خان رابیل سے عمر میں بہت بڑا ہوتا ہے جس کے گھر میں اپنی دو جوان بیٹیاں کنواری بیٹھی ہیں ان کی شادی فقط اسی لیے نہیں کی گئی تاکہ کوئی اور مرد ان کی جائیداد میں حصہ نہ مانگے۔ کوئی اور مرد ان کی بگڑی تک نہ پہنچ سکے۔
یہ ان کی غیرت اور عزت پر وار ہو گا کوئی غیر ان کے سروں تک پہنچے۔ لکھ میر اور میران خان دونوں ہی انتہائی لالچی قسم کے انسان ہیں لکھ میر خان اپنی بیٹی شہر بانو کی شادی میران خان کے سات سالہ بیٹے کے ساتھ اس شرط پر طے کر دیتا ہے کہ وہ رابیل کو جائیداد میں سے اس کا حصہ اسے دے گا۔ شہر بانو اپنے اوپر ہوتے اس ظلم کو برداشت نہیں کر سکی اور زہر کھا کر مر گئی۔ لکھ میر خان اپنی بیٹی کی موت کا سبب رابیل اور میران خان کو ٹھہراتے ہوئے رابیل کو بہت پیٹتا ہے میران خان کو جب خبر ہوتی ہے تو وہ اپنی بہن رابیل کو اپنے ساتھ اپنے گھر رکھتا ہے۔ دونوں کے درمیان دشمنی تب بڑھنا شروع ہوتی ہے جب میران خان رابیل سے اپنے حصے کی جائیداد سے دستبردار ہونے کے لیے دستخط کروا لیتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے قتل پر آمادہ موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں۔
دوسرے گاؤں کے بڑے سائیں کے ایک بندے کو ساون دریا کے کنارے پڑا نظر آتا ہے اور اسے اٹھا کر اپنے گھر لے جاتا ہے۔ ساون اسے ساری بات بتاتا ہے وہ اسے بڑے سائیں کے ڈاکوں کے ساتھ کام کرنے کو کہتا ہے اور ساون راضی ہو جاتا ہے مگر وہاں کام کرتے ساون محسوس کرتا ہے بڑے سائیں کا خاص آدمی میرل خان ہر قتل کے الزام میں اسے پھنسا رہا ہے تو وہ اپنے دوست سجن کے ساتھ وہاں سے فرار کر جاتا ہے اور سجن ساون کو لیے اپنے پرانے دوست یوسف خان کے پاس آتا ہے جو لکھ میر کا خاص بندہ رہ چکا ہے اور اب بھی اس کے لیے کام کر رہا ہوتا ہے۔
لکھ میر خان اسے بلا کر میران خان کو قتل کرنے کا کہتا ہے جس پر یوسف خان لکھ میر کو بتاتا ہے کہ ساون جو خود کو بہاول خان کا بیٹا کہلواتا ہے وہ بھی میران خان کو قتل کرنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف موقع ملتے ہی میران خان بڑے سائیں کے پاس جا کر لکھ میر کو قتل کروانے کا کہتا ہے۔ سارنگ شہر واپس جا کر ایک اخبار میں بطور آڈیٹر کام کرنے لگتا ہے اور ”جنگل“ ناول لکھتا ہے جس کے بعد اسے بڑے بڑے لوگوں کی مخالفت کا سامنا رہتا ہے۔ اس ناول کو شائع نہ کرنے کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے مگر سارنگ پیچھے نہیں ہٹتا۔
بڑے سائیں کے آدمی لکھ میر خان کو قتل کر دیتے ہیں میران خان اب ساون کے قتل کے منصوبے بنا رہا تھا تب دریا خان میران خان کو بہت سمجھاتا ہے کہ اس آگ کو مت بھڑکاؤ ورنہ اس آگ میں ہم سب جل جائیں گے مگر میران خان ایک نہیں سنتا ایک روز ساون میران خان کا قتل کر دیتا ہے رابیل اور حسنہ دونوں ہی بیوہ ہو جاتی ہیں۔ دریا خان ججی سے اجازت لے کر رابیل کو اس کے گھر واپس شہر بھیج دیتا ہے۔ سکندر اپنے کیے پر شرمندہ اپنی بہن کا سامنا کرنے سے عاجز ہو جاتا ہے سارنگ ابھی بھی کبھی کبھار سکندر سے ملنے گھر آتا تھا اور اس روز جب گھر آتا تو رابیل کو سفید لباس میں بیوہ بنے دیکھ لیتا ہے۔
مگر اس کی شادی ایک مہینے بعد نازو کے ساتھ ہونی ہوتی ہے اور سارنگ رابیل کو بیوہ دیکھ کر اسی سے شادی کرنے کو ترجیح دیتا ہے مگر رابیل اس بات پر راضی نہیں ہوتی کہ وہ کسی اور عورت کے خواب اس سے چھین کر اپنا گھر آباد کرے۔ دریا خان اپنے بھائی بہاول کے درد کو دیکھ کر دن رات خون کے آنسو روتا ہے ڈاکٹر کہتا بہاول جو چاہتے ہیں وہ سب پورا کیا جائے ان کے آس پاس محبت بھرا ماحول بنائیں تبھی ٹھیک رہ سکتے ہیں ورنہ سانس کی ڈوری کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے دریا خان ججی سے اجازت لیتا ہے تاکہ سکندر اور رابیل کو حویلی میں لے آئے ججی کے کہنے پر دریا خان شہر جاکر رابیل اور سکندر کو واپس لے آتا ہے اور ساری جائیداد سکندر کے حوالے کر دی جاتی ہے۔
کردار
بہاول خان
رئیس خاندان کا بیٹا جس نے اپنی خواہشات کے تحت دو عورتوں کی زندگی تباہ کی جن میں سے ایک تو موت کے گھاٹ اتر گئی۔ اور ایک تن و تنہا اپنے بچوں کو پالتی رہی۔ جس نے اپنے گھر کے ماحول کو بدلنے کے بجائے اسے وہی جاگیردارانہ نظام کی روایات کے تحت بنایا جس کے اثرات اس کے سارے خاندان کو لے ڈوبے۔ ایسی عورتیں آپ کو آج بھی اس سماج میں نظر آئیں گی۔ جو اس ظلم کا شکار ہو جاتی ہیں
میران خان
امیر زادہ جس کے لیے عزت اور غیرت سے بڑھ کر کچھ نہیں پھر اس عزت اور غیرت کے نام پر چاہے بہنوں کو موت کی گھاٹ اتارنا ہو، ان کو اپنا غلام بنا کر رکھنا ہو یا کسی کمزور کو مارنا ہو، کسی کی جائیداد ہتھیانی ہو ساری برائیاں میران جیسے کردار میں نظر آئیں گی۔
ساون
ایسا کردار جس نے زندگی ماں اور باپ کی شفقت کے بغیر گزاری۔ باپ رئیس مگر ساون غربت کی زندگی کاٹتا ہوا ایک معمولی کردار مگر اس ڈرامے میں ایک اہم کردار رہا جس نے ان سب ظالموں کا جو اس کے اور اس کی ماں کے ساتھ ساتھ کئی مظلوموں پر ظلم کرنے والے تھے ان سب کو ختم کر دیا۔
رابیل
پڑھی لکھی لڑکی مگر بھائی کے آگے بے بس اور لاچار جو بھائی کی عزت اور غیرت کی خاطر خود سے بڑے ادھیر عمر کے شخص ساتھ اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکی ہے معاشرے میں آج بھی ہم ایسی لڑکیاں دیکھتے ہیں جو اپنے بھائیوں کی غیرت اور عزت کی خاطر گھٹ گھٹ کر زندگی گزار رہی ہوتی ہیں
سارنگ
معاشرے کا ایسا کردار جو ظلم کے خلاف ہر حال میں ڈٹ کر کھڑا رہتا ہے پھر چاہے اسے کتنی ہی مشکلات کیوں نہ اٹھانی پڑے کتنے خواب پیروں تلے روند دیے جاتے اور سارنگ بھی اپنے کئی ٹوٹتے خوابوں کے ساتھ ظلم کے خلاف کھڑا رہتا ہے
سکندر
جائیداد کا لالچ جس کے تحت اپنے ہی کئی نقصان کرواتا ایک کردار سکندر کا ہے۔ مگر آخر اپنی غلطیوں کا پچھتاوا کرتا ہے جس اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا پاتا۔
لکھ میر خان
ایک لالچی، ظالم اور سنگدل انسان جو اپنی بیٹیوں کی شادی فقط اسی وجہ سے نہیں کرواتا کیوں کہ اس طرح کسی اور خاندان کا مرد ان کی جائیداد میں حصے دار بن جائے گا۔ ایسے کردار آج بھی کہیں نا کہیں ہمارے معاشرے میں نظر آئیں گے مگر انداز کچھ الگ ہے بیٹیوں کی شادی کی جاتی ہے مگر جائیداد کا حصہ نہیں دیا جاتا جس کی سزا عورت سسرال کے طعنوں اور شوہر کی مار کی صورت میں ملتی ہے۔
میر زادی اور شہر بانو
باپ کے ظلم کا شکار بے بس بیٹیاں جو اپنے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ اور زندگی بھر زبان سے ایک لفظ بھی اپنے باپ کے خلاف نہیں بول سکیں اور نہ ہی اپنے حق کے لیے لڑ پائیں۔
صفیہ (ججی)
رئیس خاندان کی بیٹی جس کے لیے اپنے آبا و اجداد کی روایات سب سے زیادہ اہم ہیں عورت ہوتے ہوئے بھی جو عورت کے دکھ اور درد کو سمجھنے سے قاصر کردار ہے۔ اپنی خواہش کی خاطر کسی اور عورت کا گھر تباہ کر دیا۔
گاؤں کے لوگ
ظالم سے ڈرنے والے بزدل لوگ جو مل کر بھی ایک ظالم کے خلاف بولنے کی طاقت نہیں رکھتے اور اپنے بڑوں کی طرح غلامی کو قبول کرتے ہوئے سر جھکائے ہوئے ہیں اور اسے اپنی وفاداری کی علامت تصور کرتے ہیں۔ آج ہمارے سماج کا بھی یہی حال ہے ہم سب مل کر بھی اپنے اوپر ظلم کرنے والے کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے
مکالمے
مائل صابل: تم نے آنے میں بہت دیر کر دی سنا تم نے میری بیٹی مر گئی ہے۔ اپنی باندی بھی بنا کر نہیں رکھ سکے
بہاول : میں مجبور تھا مائی صابل
مائی صابل: جب زرینہ کے ساتھ نکاح کیا تھا تب کوئی مجبوری نہیں تھی وہ مر گئی اب اس کا بیٹا ہے لے جاؤ یہاں سے اب تو یوں سمجھو زرینہ کے ساتھ میں بھی مر چکی ہوں میں اسے کہاں اپنی لاش کے ساتھ ماری ماری پھروں گی
………………..
سارنگ : کیا سوچ رہی ہو؟
رابیل : کچھ نہیں
سارنگ ؛ تو پھر اس اداسی اور خاموشی کی وجہ؟
رابیل: تم اچھی طرح جانتے ہو۔
سارنگ : رابیل میں نہیں چاہتا تم بھی ان مسائل کی چکی میں پسو اور تمھارا ہر خواب پورا ہونے سے پہلے ہی دم توڑ دے۔
رابیل : میرے خواب ریت کے گھروندے نہیں ایک ہی خواب ہے میرا تمھارے ساتھ جینے کا۔
…………….
سارنگ : تمھیں میرے ساتھ رپوٹ لکھوانے تھانے چلنا ہی ہو گا بابا
سارنگ کا باپ : بیٹے ہو سکتا وہ کہیں چلا گیا ہو بڑے سائیں سے میں نے کہہ دیا ہے انہوں نے وعدہ کیا ہے میرے ساتھ
سارنگ : کچھ نہیں کریں گے تمھارے بڑے سائیں اور ایک بات اور سن لو وہ کہیں نہیں گیا قتل کر دیا ہے اسے اور تم جان بوجھ کر انجان بن رہے ہو ڈرتے ہو اپنے کمزور عقیدوں سے تم لوگ۔ اپنے دل سے پوچھو بابا اس کو قتل کیا گیا ہے یا نہیں؟
سارنگ کا باپ : پاگل ہوا ہے تو بھی۔ بھلا پنل کی کسی کے ساتھ کیا دشمنی
سارنگ : کسی کے ساتھ کیا دشمنی؟ عورب کی دشمنی اس کے ساتھ ڈھکی چھپی چیز ہے۔
سارنگ کا باپ: آہستے بول تیری بہن اس کے گھر تنکوں کا گھر ہے تیری بہن کا مت آگ لگا اپنی بہن کے گھر کو
سارنگ : اس آگ کو ایک دفعہ لگنا ہے بابا میرے ہاتھوں نہ سہی عورب کے ہاتھوں سہی۔ اب میرے ساتھ زیادہ بحث نہیں کرو بابا اٹھو تمہیں تھانے چلنا رپورٹ لکھوانے۔





