ایک کروڑ سولہ لاکھ طلبا پر قیامت صغری


ملک پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد قائد اعظم سمیت تمام راہنماؤں کی دلی خواہش تھی کہ جلد از جلد پاکستان کو ایک مضبوط آئین دیا جائے تاکہ اس پر عملدرآمد کرتے ہوئے پاکستان ترقی کی منازل طے کر سکے۔ 1948 اور 1956 کے آئین کے بعد بالآخر 1973 میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان اور پاکستانی عوام کو جامع اور مضبوط آئین دیا، جو آج تک نافذ العمل ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ سیاسی راہنماؤں اور اشرافیہ نے اپنے ذاتی مقاصد کے لیے اس کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اپنے فوائد حاصل کیے۔

پاکستان کے آئین کی شق نمبر 25 کے تحت پانچ سال سے سولہ سال تک تمام بچوں کو مفت تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جس پر ہر حکومت نے اپنا حصہ ڈالتے ہوئے ناخواندگی کی شرح کم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ 2007 میں وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے بچوں کی فیس 20 روپے کرتے ہوئے گورنمنٹ سکولز کے تمام طلباء کو مفت کتابیں دینے کا اعلان کیا۔ جس پر 2023 تک عمل جاری رہا، لمحہ فکریہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف ( آئی ایم ایف ) کی تجاویز پر عملدرآمد کرتے ہوئے تقریباً 20 ہزار سکولز کو پرائیویٹ کر کے پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF) کے حوالے کرتے ہوئے تقریباً ایک لاکھ اساتذہ کی آسامیاں ختم کی گئی۔

دانش سکول سسٹم سے گورنمنٹ سکولز کی ساکھ متاثر کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ پاکستان تحریک انصاف نے آفٹر نون سکولز پروگرام کے تحت تقریباً ایک لاکھ پچیس ہزار آسامیاں کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اساتذہ کو معمولی سی تنخواہ پندرہ ہزار روپے پر تعینات کر کے تذلیل کی گئی۔ ان سب ناقص پالیسیوں کے باوجود سرکاری اساتذہ نے بہت اچھے نتائج کے ساتھ ساتھ سکولز میں داخلہ مہم کو کامیاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

حکومت کے تمام اہداف کو بغیر فنڈز کے حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ تمام ناقص پالیسیوں اور منفی ہتھکنڈوں کے استعمال کے باوجود اساتذہ بچوں کو مفت تعلیم دینے میں سرگرم ہیں۔ این ایس بی (NSB) کے فنڈز کو کم ازکم کر دیا گیا، اتنا کم کر دیا گیا کہ بجلی کے بلز ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ ایس ٹی آر (STR) کے مطابق اساتذہ کی اب بھی ایک لاکھ پچیس ہزار آسامیاں خالی ہیں۔

نظام دین، عدالتی نظام اور سیاسی جماعتوں کی کشمکش میں غریب آدمی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ بچوں کی تعلیم کے حوالے سے وہ کسی حد تک بے فکر تھا کہ ماہانہ بیس روپے سے اس کے بچے مفت تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اس بار تقریباً ایک کروڑ سولہ لاکھ طلباء کو مفت کتابیں فراہم کرنے سے پنجاب حکومت انکاری ہے۔ غریب عوام کے لیے یہ خبر 30 مارچ کو قیامت صغری ہوگی۔ جب نتائج کا اعلان کرتے سرکاری سکولز کے اساتذہ والدین کو کتب نہ ہونے کی بری خبر سنائیں گے۔

پنجاب حکومت کا فنڈز کی کمی کا رونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اپنی عیاشیوں کے لیے فنڈز کی کمی نہیں ہے۔ عوام کے ٹیکسوں سے ان کے بچوں کو سال میں ایک بار مفت کتابیں دینے سے ہچکچاہٹ محسوس کر رہی ہے۔ مفت کتابیں کی پرنٹنگ جون جولائی میں شروع ہو جاتی تھی اور ستمبر میں ہر تحصیل کی کتب وئیر ہاؤس میں کتب بذریعہ ٹرک بھیج دی جاتی تھی۔ اس بار نگران حکومت نے اس طرف توجہ نہ دی اور سترہ سال بعد بچوں کو پرانی کتب سے گزارا کرنا پڑے گا یا پھر بازار سے خریدنی ہو گی۔

حکومت پنجاب نے باقاعدہ ایک نوٹیفکیشن جاری کیا۔ جس میں طلباء سے کتب واپس لے کر سکول میں بک بنک ( Book Bank) بنا کر جمع کرنے کا حکم صادر کیا گیا تاکہ یہ کتب پھر نئی کلاس کے طلباء کو دی جائیں گی۔ اگر یہ فیصلہ تعلیمی سال کے شروع میں کیا جاتا تھا تو شاید اس کے نتائج کچھ بہتر ہو سکتے تھے۔

یہ بات تو اب واضح ہو چکی ہے کہ تعلیم کو تباہ کرنے میں ہمارے حکمران کا مکمل کردار ہے۔ مستقل پالیسی بنانے کی بجائے ہر حکومت اپنی پالیسی متعارف کرواتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی پالیسی ”یکساں قومی نصاب“ متعارف کروائی تو اس کو عملدرآمد کروانے میں ناکام رہی تھی۔ پاکستان میں ہر مافیا کی طرح ایجوکیشنل مافیا بھی بہت زیادہ مضبوط ہے۔ پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن اس معاملے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بلکہ ہمارے حکومتی نمائندے خود بڑے بڑے سکولز کے مالک ہوتے ہیں۔

اس لیے ان کی پالیسیاں پرائیویٹ سکولز کو مضبوط اور مالدار کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ کتب فروخت کرنے والے ادارے ان پرائیویٹ سکولز سے اربوں روپے کا بزنس کرتے ہوئے نفع کماتے ہیں۔ میرے علاقے میں ایک پرائیویٹ سکول ایک بک ڈپو سے کتب کی مد میں سالانہ 12 لاکھ روپے وصول کرتا ہے۔ سیالکوٹ کے ایک مالک کے چار سکولز ہیں اور اس نے ڈھائی کروڑ کی کتب کی خریداری کی ہے۔ اس میں تقریباً 50 فیصد منافع ضرور شامل ہو گا۔ سرکاری سکولز کے طلباء کو کتب نہ دینے میں ان کتب فروش اداروں کا کردار لازمی ہو گا۔

یہ ادارے اب غریب عوام سے پھر اربوں روپے بٹورنے کے لیے سرگرم ہیں۔ پاکستان میں صحت اور تعلیم دونوں شعبوں کو منافع بخش کاروبار سمجھا جاتا ہے جبکہ دوسرے ممالک میں ریاست ان شعبوں کو خدمت سمجھ کر عوام کو ہر مقام پر یہ سہولیات دینے کے ہر ممکنہ اقدامات کرتی ہیں۔ پاکستان کے آئین کی شق نمبر 25 پر عملدرآمد کرنے میں سابقہ حکومتیں نے جو احکامات کیے لیے تھے ان سب پر پانی پھیرتے ہوئے اس حکومت نے انوکھے فیصلے کیے ہیں۔

جس میں کتب نہ دینے کا فیصلہ، ریشنلائزیشن، NSB فنڈز میں کمی سر فہرست ہیں۔ ایک کروڑ کے قریب بچے پہلے ہی سکولز سے باہر ہیں۔ مہنگائی کے وجہ پہلے ہی کروڑ بچے سکولز جانے کی بجائے روزگار کی تلاش میں ہے۔ ان بچوں کو سکولز میں لانے کی بجائے مزید طلباء پر کتب کے اخراجات ڈال کر تعلیم سے دور کرنا ہے۔ حکومت کو ایک مستقل پالیسی بنانے کی اشد ضرورت ہے اور یہ پالیسی تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی باہمی مشاورت سے تشکیل دی جائے تاکہ کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہونے کے باوجود اس پالیسی پر عملدرآمد کیا جائے۔

پاکستان مسلم لیگ کی حکومت میں ہونے کے باوجود بزنس مین پارٹی ہے۔ اس کی ترجیحات تاجر برادری کو نفع دینا ہے۔ ان ترجیحات کی بنیاد پر کتب فروش مافیے کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک منافع بخش کاروبار ہے اور موجودہ حکومت بھی بزنس مین سیاستدانوں سے بھری پڑی ہوئی ہے اس لیے ان کی ترجیحات غریب عوام اور طلباء کی بجائے پیسہ ہے کہ اس کو کیسے غریب عوام کی جیب سے نکالا جائے۔ عام آدمی کے لیے ان کے منشور میں کچھ بھی نہیں ہے۔

اس کے باوجود بھی طلباء کو تعلیم سے محروم کرنے کی اس کوشش سے ان کی ترجیحات واضح ہوتی ہے۔ ہر بجٹ میں تعلیم کے لیے بجٹ آٹے میں نمک کے برابر ہوتا ہے۔ اب اس نمک سے بھی کٹوتی کی جا رہی ہے۔ پنجاب حکومت کے اس فیصلے سے داخلہ مہم متاثر ہونے کے ساتھ کتب کی خریداری کے لیے پیسے نہ ہونے پر مزید طلباء سکول چھوڑنے پر مجبور ہوں گے ۔ اس طرح پنجاب حکومت کے لیے سکولز کی نجکاری کی راہ ہموار کرنے کی سازش کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔

اس حوالے اساتذہ تنظیموں کے قائدین کو اہم کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ سرکاری اساتذہ کی تحریک کے دوران مریم نواز وزیر اعلی پنجاب نے ان قائدین سے نجکاری نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ان قائدین کو فوراً وزیر اعلی پنجاب سے ملاقات کرنی چاہیے اور نجکاری اور کتب جیسے سنگین نوعیت کے معاملات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے قائل کرنا چاہیے کہ ان اقدامات سے غریب طلباء پر منفی اثرات مرتب ہو گے۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کو اس حوالے سے سنجیدگی سے سوچنا چاہیے اور تعلیم دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر کتب کی فراہمی بنانے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے، مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تعلیم اس پارٹی کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔

میرے خیال سے اگر رمضان راشن کی جگہ کتب کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا تو اچھا تھا۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ 30 مارچ کو ایک بار پھر پاکستان کے آئین 25 کو توڑا جائے گا اور عوام کو آئین توڑنے کے جرم میں اپنے بچوں کو تعلیم سے دور رکھنے پر مجبور کیا جائے گا۔ اس ساری صورت حال میں سرکاری اساتذہ طلباء کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنے کی کوشش تو ضرور کریں گے مگر مخیر حضرات کو بھی اپنے علاقے کے سرکاری سکولز میں کتب کے حوالے سے اپنی حیثیت کے مطابق مدد ضرور کرنی چاہیے۔

Facebook Comments HS