ایک ملنسار مؤذن کا جنازہ

موت سے کس کو رستگاری ہے۔ نومولودگی، بچپن، لڑکپن، نوخیز جوانی، جوانی، ادھیڑ عمر اور بڑھاپا کسی بھی وقت نحیف ترین اور صحت مند بندے کو موت نگل سکتی ہے۔ موت اور زندگی کا تعلق صحت اور عمر کے ساتھ نہیں اس کا فیصلہ رب کائنات نے پہلے سے کر رکھا ہے۔ کبھی تندرست اور توانا انسان رخصت ہو جاتا ہے اور بیمار بیچارا پڑا رہتا ہے۔ بعض اوقات نو عمر داغ مفارقت دے جاتے ہیں اور بوڑھے آہیں بھرتے رہتے ہیں۔ محمد صادق کی زندگی میں مشکلات، افلاس اور پریشانیوں کا دروازے کھلا رہا۔
وہ اپنی عمر سے بھی بڑا لگتا تھا۔ اور ہر وقت تیز گام بنا رہتا تھا۔ اس کی دن بھر کی دوڑ دھوپ کی پیمائش اور گنتی کر لی جائے تو میلوں بنے گی۔ ان کی بیسیوں خوبیوں میں سے چند ایک جو راقم نے قلیل مدت میں گنتی کی ملاقاتوں میں اس کی ذات میں گویا طبیعت ثانی کے طور پر دیکھا۔ ان کے ساتھ زیادہ ملاقاتیں پریس کلب میں ہوئیں جبکہ چند ایک چوک چوراہے بیچ سڑک علامتی سلام دعا تک لیکن ہمیشہ خاطر تواضع کی عملی کوشش کرنے لگ جاتے تھے۔
خوش اخلاقی، ملنساری، ایمانداری، دین داری اور ذمہ داری میری دانست تئیں تو ان کی سرشت میں تھا۔ اخوت اور بھائی چارگی کا ثبوت یہ ہے کہ مخاطب کرتے ہوئے ہر ایک کے اسم میں بھائی کا سابقہ لاحقہ لگانا ان کی گویا عادت تھی۔ علما کرام کی محافل و صحبت کا یہ اثر تھا کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں کوئی کسر روا نہیں رکھتے تھے۔ عصر حاضر کے معاشی بحران اور مہنگائی کے طوفان میں پندرہ بیس ہزار ماہانہ کی اجرت پر ملازم تھے اور قناعت پسند تھے۔
ضرورت مندوں کی اعانت اور بے روزگاروں کے لیے وسیلہ روزگار کے سلسلے میں پریشان رہنے کے ساتھ انہیں روزگار دلوانے کی حتی المقدور سعی کرتے تھے۔ درد دل کے اور طاعت الہٰی کے واسطے پیدا ہوئے تھے۔ اللہ کے گھر سے عشق جنوں کی حالت میں تھا۔ اپنے محلے میں ایک خوبصورت مسجد کی تعمیر و تزئین کا خواب پورا کرتے کرتے جس نے مؤذن کے فرائض بھی بخوبی نبھائے۔ محمد صادق نے صبح صادق سے پہلے سحری کی منادی کی ہر دس منٹ بعد لاؤڈ اسپیکر پر جو اعلان کرتا رہا کہ ابھی ایک گھنٹہ باقی ہے۔ پچاس منٹ باقی ہیں۔ بیس منٹ باقی ہیں ایسے ہی موت کی گھڑی بھی باقی باقی کی ٹک ٹک لگائے ہوئے تھی صوم و صلوٰۃ کے پابند نے خود بھی سحری کی اور روزہ داروں کی بھی کرائی مسجد میں نماز کے لیے نمازیوں کو بلانے کی غرض سے اذان دی اور انہیں کیا معلوم تھا کہ اس اذان کے بعد ان کی نماز جنازہ ہوگی وہ پھر اذان دینے سے قاصر ہوں گے ۔ باجماعت نماز کی ادائیگی کے لیے صف اول میں امام کے پیچھے تکبیر پڑھی اور نماز قائم کی انہیں شاید یہ اندازہ نہیں ہو گا کہ اس نماز کے بعد وہ امام کے پیچھے نہیں بلکہ آگے ہوں گے اور ان کی نماز قائم کی جا رہی ہوگی۔
بس اچانک عصر حاضر کا موت کا سبب دل کا دورہ پڑا اور صدق دل سے داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ عین اسی وقت شہر کے امیر کبیر صاحب ثروت اور معروف ٹھیکیدار عبدالوحید خان سے بھی ملک الموت نے ملاقات کر لی یوں وہ بھی جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ اس دن شہر کے ایک گھر سے نہیں بلکہ کئی گھرانوں سے جن کی کفالت عبدالوحید خان کر رہے تھے ان کے کفیل کا بھی جنازہ اٹھ گیا۔ شہر بھر میں ایک مفلس مؤذن اور تونگر کی موت پر تعزیتی پیغامات اور گفتگو جاری تھی۔
عبدالوحید خان فیاضی اور محمد صادق کی ملنساری کے تعریفی کلمات سماجی رابطوں کی مختلف ایپس پر جاری ہو رہے تھے۔ اور دونوں کی نماز جنازہ کا اعلان بھی کر دیا گیا کہ اگرچہ دونوں کے دنیاوی مراتب میں زمین آسمان فرق تھا ایک طرف امارت تو دوسری طرف غربت، بہت ساری باتوں میں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتے ہیں دونوں طرز حیات مختلف ہو گا، دونوں کے مشاغل اور امور دنیا مختلف ہوں گے دونوں کا حلقہ احباب مختلف ہو سکتا ہے لیکن کیا ہی مشترک انعام پایا کہ ماہ صیام میں موت کا ذائقہ چکھا ہے اور دونوں کی موت میں چند منٹوں کا فرق ضرور تھا لیکن نماز جنازہ کا وقت اور افراد میں بال برابر بھی فرق نا آیا یہ جنازہ دیکھ کر مجھے ایک اور تاریخی جنازہ یاد آ رہا ہے جو لکھنؤ کے درزی کا تھا ہوا کچھ یوں تھا کہ لکھنؤ بازار میں ایک غریب درزی کی دکان تھی جو ہر جنازے میں شرکت کے لئے دکان بند کر دیا کرتا تھا۔ لوگوں نے کہا کہ
”اس طرح روز روز جنازے پر جانے سے آپ کے کاروبار کا حرج ہوتا ہو گا؟“
کہنے لگا کہ ”علماء سے سنا ہے کہ جب کوئی شخص کسی مسلمان کے جنازے پر جاتا ہے تو کل کو اس کے جنازے پر بھی لوگوں کا ہجوم ہو گا۔ میں غریب ہوں، نہ زیادہ لوگ مجھے جانتے ہیں تو میرے جنازے پر کون آئے گا۔ اس لیے ایک تو مسلمان کا حق سمجھ کر پڑھتا ہوں اور دوسرا یہ کہ شاید کل کو مجھے بھی کوئی کاندھا دینے والا مل جائے!“
.
”اللہ پاک کی شان دیکھیں کہ 1902 ء میں مولانا عبدالحئی لکھنوی صاحب کا انتقال ہوا۔ ریڈیو پر بتلایا گیا، اخبارات میں جنازے کی خبر دی گئی، جنازے کے وقت لاکھوں کا مجمع تھا، پھر بھی بہت سے لوگ ان کا جنازہ پڑھنے سے محروم رہ گئے۔ جب جنازہ گاہ میں ان کی نماز جنازہ ختم ہوئی تو اسی وقت جنازہ گاہ میں ایک دوسرا جنازہ داخل ہوا۔ اور اعلان ہوا کہ
”ایک اور عاجز مسلمان کا بھی جنازہ پڑھ کر جائیں!“
قارئین! یہ دوسرا جنازہ اس درزی کا تھا۔ مولانا کے جنازے کے سب لوگ بڑے بڑے اللہ والے، علمائے کرام سب نے اس درزی کا جنازہ پڑھا اور پہلے جنازے سے جو لوگ رہ گئے تھے وہ بھی اس میں شامل ہو گئے۔ اس غریب درزی کا جنازہ تو مولانا کے جنازہ سے بھی بڑھ کر نکلا، اللہ پاک نے اس درزی کی بات پوری کر کے اس کی لاج رکھی۔ اور اس قول میں جو صداقت کہ
”آج تم کسی کا خیال کرو گے تو کل کو لوگ تمہارا خیال کریں گے۔“
کوٹ ادو کے میونسپل اسٹیڈیم میں مرحوم عبدالوحید خان کی میت کے بعد محمد صادق کی میت لائی گی اور دونوں کے نماز جنازہ کی امامت معروف عالم دین بزرگ ہستی مرحوم مفتی عبد الجلیل رحمتہ اللہ کے فرزند مولانا اشفاق احمد قاسمی نے کرائی جہاں اندورن اور بیرون شہر سے سیاسی، سماجی، مذہبی، علمی، ادبی اور کاروباری شخصیات کے علاوہ ہر خاص و عام نے شرکت کی۔ جنازے سے قبل مختصر بیان میں مولانا صاحب نے محمد صادق کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ابھی جوانی سے تھوڑا سے اوپر گزرے ہی تھی کہ موت نے گلے لگا لیا اور عبدالوحید کے بارے میں کہا کہ کئی خاندانوں کی کفالت کرنے والے آج ان کی وفات کا صدمہ نا صرف ان کے گھر بلکہ ان گھرانوں میں بھی ہے اور امید کرتے ہیں کہ ان کے بیٹے اپنے والد کے نقش قدم پر چل کر ان گھرانوں کا سہارا بنیں گے۔

