کیا ہم کوئی غلام ہیں؟
جنوبی ایشیا میں غلامی کی روایت بہت قدیم ہے۔ ہم لوگ نفسیاتی طور پر اتنے کمزور ہیں کہ ہر آنے والے کے سامنے ادب سے لیٹ جایا کرتے ہیں۔ لیکن غلامی کے بھی آخر کار کچھ معیارات ہونے چاہئیں۔ کچھ اصول ہونے چاہئیں کہ جن کو مدنظر رکھ کر غلام کو جینے کا حق دیا جائے۔
اکیسویں صدی میں بھی مملکت خداداد پاکستان اپنے لیے وہ فیصلے بھی نہیں کر سکتی جو اس کے قومی مفاد بلکہ قومی سلامتی کے ضامن ہوں۔ اس جدید غلامی میں نہ تو کوئی فوج ہمارے ملک پر قابض ہے، اور نہ ہی کوئی وائسرائے یہاں پر حکمرانی کر رہا ہے لیکن پھر بھی آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور اس طرز پر قائم بین الاقوامی اداروں سے مختلف ممالک کو ایک خاص ڈگر پر چلایا جا رہا ہے۔ امریکہ بہادر کی سربراہی میں کام کرنے والے یہ ادارے ان ممالک پر پابندیاں لگانے میں ذرا برابر بھی دیر نہیں کرتے جو امریکہ بہادر کی پالیسیوں کے خلاف جانے کی جرات کرتے ہیں چاہے وہ اقدامات ان ممالک کے لیے زندگی موت کا مسئلہ ہی کیوں نہ ہوں۔
ایران پاکستان گیس پائپ لائن بھی ایک ایسی ہی مثال ہے۔ سن دو ہزار تیرہ میں شروع ہونیوالا یہ منصوبہ سن دو ہزار چودہ کے آخر میں مکمل ہونا تھا لیکن امریکہ بہادر کی پابندیوں کی دھمکیوں کی وجہ سے یہ منصوبہ آج تک نامکمل ہے۔ ایران نے اپنے حصے کا کام مکمل کر لیا ہے جبکہ پاکستان امریکہ بہادر کے ڈر سے اپنے حصے کا کام آج تک شروع نہیں کر سکا۔
پاکستان میں گیس کے اتنے ذخائر نہیں ہیں کہ ہم ان سے اپنی ضروریات پوری کر سکیں لہذا ہمیں قطر اور وسطی ایشیائی ممالک سے گیس خریدنی پڑتی ہے جو کہ بہت مہنگی پڑتی ہے۔ اگر ہم ایران سے گیس لیتے ہیں تو یہ سستی بھی ہے اور ہمیں قریب بھی پڑتی ہے۔
آخر کار ایسی کیا وجہ ہے کہ ہم قومی مفادات کے سلسلے میں بھی امریکہ بہادر کو ایبسولوٹلی ناٹ نہیں کہہ سکتے؟ کیا ہمارا ملک کوئی جزیرہ ہے کہ جس پہ زندگی کا دار و مدار مکمل امریکی حمایت پر منحصر ہے؟ یا پھر ہمارا ملک امریکہ کی کوئی کالونی ہے کہ ہم اس کی مرضی کے بغیر کوئی بھی فیصلہ نہیں کر سکتے؟ کیا ہمارا ملک ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اپنے فیصلے آزادی سے نہیں کر سکتا؟ کیا ہمیں اتنا بھی حق حاصل نہیں کہ ہم قومی مفاد کی خاطر کوئی ایک پروگرام ہی پورا کر لیں؟ اگر غلامی ہی کرنی تھی تو پھر پاکستان بنانے کی کیا ضرورت تھی؟
یہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن تو ایک مثال ہے۔ سات دہائیوں سے ہم کسی نہ کسی بہادر کی غلامی کو اپنے قومی مفادات پر ترجیح دیتے آرہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے بلاک میں شمولیت سے لے کر افغان جہاد تک اور پھر وار آن ٹیرر سے لے کر آج کی جدید غلامی تک! آخر کب تک ہم اپنے قومی مفادات کو دوسروں کے لیے قربان کرتے رہیں گے؟ آخر کب تک ہم اس جدید غلامی کے آگے لیٹے رہیں گے؟ کیا ہماری کوئی قومی غیرت بھی ہے؟ یا پھر ہم کوئی غلام ہیں؟


