لیہ کا ڈی ایچ کیو ہاسپٹل اور یونیورسٹی: ہماری ترجیحات


روزنامہ خبریں کی سنجیدہ صحافتی حلقوں میں شہرت سے قطع نظر، پاپولر جرنلزم کی جیتی جاگتی اور سب سے بڑی مثال یہ روزنامہ جنوبی پنجاب میں بڑے پیمانے پر پڑھا جاتا ہے۔ لیہ میں روزنامہ خبریں کے ڈسٹرکٹ رپورٹر ملک مقبول الٰہی ایک تجربہ کار اور جہاں دیدہ صحافی ہیں۔ عوامی مسائل کو اپنی صحافت کے ذریعہ سے اجاگر کرنے میں اپنی مثال آپ ہیں۔ سوشل میڈیا کی ویب سائٹ فیس بک پر بھی خاصے متحرک ہیں۔ اپنی تازہ تحریر جو کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے، وہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال لیہ کے شعبہ امراض گردہ کی صورت حال سے متعلق ہے۔

ملک مقبول الٰہی نے بیان کیا ہے کہ ہسپتال کے شعبہ امراض گردہ میں کل دس عدد گردوں کی صفائی مشینیں ہیں جن میں سے تین خراب ہو چکی ہیں اور باقی سات عدد مشینیں بھی زائد المیعاد ہیں۔ بار بار سیاستدانوں اور اعلیٰ حکام کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کرنے کی کوشش کی گئی مگر بے سود۔ کسی نے بھی اہالیان علاقہ کی آواز پر لبیک نہیں کہا۔ ایکسپائری ڈیٹ کے بعد بھی مشینوں کے استعمال کی وجہ سے بسا اوقات مریضوں کو دقت ہوتی ہے۔

صفائی کے دوران مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اب مریض ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کی بجائے تحصیل کروڑ لعل عیسن اور نواحی شہر فتح پور کے ہسپتال جانے پر مجبور ہیں۔ گردوں کی صفائی کے لیے بار بار شہر سے باہر جانا بہت مہنگا پڑتا ہے۔ ڈائیلاسز پر چلنے والے مریض کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد کرائے کی اسپیشل گاڑی پر سفر کرنا غریب اور متوسط طبقہ کے لیے نہایت ہی مشکل امر ہے۔

یاد رہے کہ کہ مریض کو صفائی کے عمل سے ایک ہفتہ میں کم از کم ایک بار ضرور گزرنا پڑتا ہے۔ آپ یہ پڑھ کر بالکل بھی کسی خوش فہمی کا شکار نہ ہوں کہ جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ ضلع کے نواحی علاقوں کروڑ اور فتح پور میں بھی گردوں کی صفائی کی مشینیں موجود ہیں کیونکہ ان دونوں علاقوں میں عوام نے اپنے پیاروں کے لیے یہ سہولت اپنی مدد آپ کے تحت مہیا کی ہے۔ یہ مشینیں مقامی مخیر حضرات کے تعاون سے خرید کر نصب کی گئی ہیں۔ کروڑ اور فتح پور کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے اس ضمن میں کسی بھی سرکاری اعانت سے مایوس صحافی نے مقامی مخیر حضرات سے نئی مشینوں کی خریداری کی اپیل کی ہے۔

دوسری خبر بھی اتفاق سے ضلع لیہ کی ہی ہے۔ جہاں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے کیمپس کو ترقی دے کر یونیورسٹی آف لیہ کے نام سے ایک مکمل جامعہ کا درجہ عنایت کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی آف لیہ اپنے قیام کے بعد سے ہی مختلف معاشی مسائل کا شکار رہی ہے۔ بل کی عدم ادائیگی کی وجہ سے بجلی کے کنیکشن کے انقطاع تک کی نوبت بھی آ گئی تھی۔ آج کل وہاں ٹیچنگ و نان ٹیچنگ سٹاف کی بھرتی کا اشتہار دیا گیا ہے۔ معاشی حالات کا جبر دیکھیے کہ جامعہ ہذا نے اشتہار برائے بھرتی میں بعض سیٹوں کے لیے درخواست گزاروں پر یہ شرط عائد کی ہے کہ ان کے پاس ذاتی لیپ ٹاپ ہونا ضروری ہے۔ دوسرے الفاظ میں امیدواروں کو بتایا گیا ہے کہ اگر وہ یونیورسٹی میں نوکری حاصل کر لیتے ہیں تو انہیں یونیورسٹی میں کام سر انجام دینے کے لیے لیپ ٹاپ وغیرہ گھر سے لانے ہوں گے۔ یہ ایک ایسی شرط ہے جس کی مثال ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ یہ شرط فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے عائد کی گئی ہے۔

تعلیم اور صحت شہریوں کے اہم ترین بنیادی حقوق ہیں۔ انہیں عوام کی دہلیز تک پہنچانا ریاست کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔ عوام معیاری تعلیم و صحت کو ترس رہے ہیں مگر ہماری ریاست کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ آئے روز سرکاری علاج گاہوں میں ادویات و سہولیات کی قلت کی خبریں ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی ہیں مگر کوئی نوٹس لینے والا نہیں۔ صحت کا بجٹ کا ایک بڑا حصہ ہسپتالوں کی ٹائلیں بدلنے پر لگایا گیا۔ محض ٹائلیں بدلنے پر ڈاکٹرز دبے لفظوں میں سوشل میڈیا پر احتجاج بھی کرتے رہے۔

نوبت یہاں تک پہنچی کہ بعض ستم ظریفوں نے ایک سابق نگران وزیر اعلٰی کا نام ہی ٹائل رکھ دیا۔ ڈاکٹرز کے بقول بنے بنائے ہسپتالوں کی تعمیر نو کی بجائے زیادہ توجہ عوام کو ادویات و علاج کی فوری اور ارزاں سہولیات فراہم کرنے پر دی جانی چاہیے تھی۔ بنیادی ضروریات کے لیے چندہ کیا کا رہا ہے اور دوسرے کاموں پر پیسہ بے دریغ خرچ کیا جا رہا ہے۔

تعلیمی شعبہ کا حال بھی ابتر ہے۔ حال ہی میں جامعات کے اساتذہ کی طرف سے وائس چانسلرز کی تعیناتی کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہ قدم سرکاری عدم توجہی کے بعد اٹھایا کیا گیا ہے۔ علم و تحقیق کے مراکز کو با اختیار سربراہ سے محروم رکھنا نا قابل معافی جرم ہے۔ جامعات کے ساتھ ساتھ کالجز اور سکولز بھی سٹاف کی کمی کا شکار ہیں۔ صوبہ پنجاب کے سکولز میں چھ سالوں سے ایک بھی معلم بھرتی نہیں کیا گیا جبکہ بلوچستان میں ہزاروں معلم گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں جز وقتی سٹاف سے کام لینے اور ہسپتالوں کو چندوں سے چلائے جانے سے ہماری ترجیحات کی جو عکاسی ہو رہی ہے وہ کسی بھی طرح قابل ستائش نہیں۔

Facebook Comments HS