بندر کا شکوہ
آج تقریباً پچاس سال بعد مجھے چڑیا گھر جانے کا اتفاق ہوا، پہلی مرتبہ میں چڑیا گھر اس وقت گیا تھا جب میری عمر12 برس کی تھی، اس وقت مجھے میرے ابا لے گئے تھے۔ ابا کا خیال تھا کہ بچوں کو زندگی میں ایک مرتبہ چڑیا گھر کی سیر ضرور کرانی چاہیے تاکہ انھٰیں اپنا گھر اور چڑیا گھر میں فرق معلوم ہو جائے اور وہ اپنے گھر میں انسانوں کی طرح رہنا شروع کر دیں۔ اس مرتبہ مجھے میرا 15 سالہ پوتا اپنے ساتھ لے گیا، ابا مرحوم کے برعکس، ان کی رائے یہ ہے کہ بوڑھے لوگوں کو چڑیا گھر اس لیے لے جانا ضروری ہے کہ یہ بزرگوار، جانوروں کی حالت زار دیکھ کر ، اللہ کا شکر ادا کریں کہ وہ اب بھی ان جانوروں سے لاکھ درجہ بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔
بہرحال میں نے پچاس سال گزر جانے کے بعد بھی چڑیا گھر کی حالت میں کوئی خاص تبدیلی محسوس نہیں کی۔ سارے جانور بالکل اسی طرح جانور تھے جیسا کہ وہ پچاس سال پہلے تھے، (انسانوں کی طرح) ان میں (بھی) کسی قسم کی علمی، ادبی، سماجی یا سیاسی شعور بیدار نہیں ہوا تھا بلکہ کچھ جانور تو جانوروں سے بھی بد تر زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ شیر لاغر ہو کر لومڑی نظر آ رہا تھا جب کہ شتر مرغ سکڑ کر صرف مرغ رہ گیا تھا۔ کچھ جانور بوڑھے ہو کر سیاحوں کے لیے دیدہ عبرت بنے ہوئے تھے۔ ہاتھی ایک طرف اداسی کی چادر اوڑھے بیٹھا اپنی مرحومہ ہتھنی کو یاد کر رہا تھا تو دوسری طرف ریچھ اپنے پنجرے کے ایک کونے میں سر دونوں ٹانگوں میں پھنسائے، گئے دنوں کی یادوں میں گم سم بیٹھا تھا۔ ان جانوروں کو دیکھ کر میں نے واقعی اللہ تعالیٰ شکر ادا کیا اور (جوانی میں کیے گئے ) گناہوں کی معافی مانگی۔
سیر کرتے کرتے جب ہم بندروں کے پنجرے کے پاس پہنچے تو دیکھا ایک بندریا اپنے بچوں کو پاس بٹھا کر ان کے بالوں سے جوئیں پکڑ پکڑ کر کھا رہی تھی (مہنگائی کی وجہ سے شاید لوگوں نے اب جانوروں کو کھانے پینے چیزیں دینا بند کردی ہوں گی) جب کہ اس کا شوہر نامدار بار بار آ کر اس کی پیٹھ کھجا کر اسے نجانے کیا پیغام دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی وہ بیگم کو چھوڑ کر میری طرف لپکا مگر درمیان میں لوہے کی جالی حائل تھی جسے پکڑ کر میری طرف ٹکٹکی باندھے عجیب نظروں سے دیکھنے لگا۔ مجھے ایسا لگا کہ وہ زبان حال سے شکوٰہ کر رہے ہوں کہ:
”ہمیں پتا چلا ہے کہ آپ نے مختلف جانوروں اور پرندوں پر مضامین لکھے ہیں مگر افسوس! ابھی تک آپ کی نظر بندروں پر نہیں پڑی حالانکہ ہمارا آپ سے ایک قریبی رشتہ داری ہے۔ ہمارے اور آپ کے آبا و اجداد پہلے ایک ہی تھے لیکن آپ ترقی کر کے انسان بن گئے جب کہ ہماری باری آنے پر بندر سے انسان بننے کی اسکیم ختم ہو گئی اور ہم بندر ہی رہ گئے جس کے نتیجے میں یہ پنجرہ ہمارا مقدر بن گیا۔ حضرت انسان نے ہم پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں، ہمارے گلے میں رسی ڈال کر ہمیں گلی گلی نچوایا ہے اور ہماری کمائی سے خود عیش کیا ہے۔
آپ کو چاہیے تھا کہ ہم پر ہونے والے مظالم کی داستان تحریر کرتے، ہمیں درپیش مسائل کا ذکر کرتے اور ان کے حل کے بارے میں کچھ تجاویز دیتے تاکہ ہمیں بھی آزاد ماحول میں ایک آسودہ اور خوش حال زندگی گزارنے کے مواقع میسر آتا۔“ بندر کا مافی الضمیر پڑھ کر میں نے آنکھوں آنکھوں میں اس انسان نما حیوان سے وعدہ کر لیا کہ ان پر بھی ایک مضمون لکھوں گا، سو لکھ رہا ہوں۔
بندروں کا تعلق جانوروں کے اس نوع سے ہے جو دل چاہے تو چاروں پیروں پر چلتا ہے ورنہ دو پیروں سے بھی کام چلاتا ہے اور اگر مستی میں آ جائے تو ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگیں لگاتا پھرتا ہے (البتہ یہ سہولت انھیں شہروں میں دستیاب نہیں ہے کیوں کہ انسانوں نے شہروں سے سارے درخت کاٹ لیے ہیں ) ۔ بقول چارلس ڈارون انسان بھی کبھی بندر تھا (جیسا کہ ساس بھی کبھی بہو تھی) جو بعد میں ترقی کر کے انسان بن گیا لیکن حرکتیں اب بھی بندروں والی کرتا ہے۔ اس بات کو ڈارون بھی سمجھنے سے قاصر تھا کہ بعد میں ایسا کیا ہوا کہ بندروں سے انسان بننے کا عمل تعطل کا شکار ہو گیا اور بے چارے باقی مانندہ بندر بندر ہی رہ گئے۔ اب اسے ان کی خوش قسمتی سمجھا جائے کہ بدقسمتی، اس کا فیصلہ ہم خود بندروں ہی پر چھوڑ دیتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق بندروں کی تقریباً 265 اقسام پائی جاتی ہیں جن میں سے 264 اقسام بندر ہی ہیں۔ زیادہ تر بندروں کی دم ہوتی ہے لیکن کچھ بندر (بشمول تبدیل شدہ بندروں ) کی دم نہیں ہوتی۔ بندر کی دم کے بے شمار فوائد ہیں۔ دم کی بدولت وہ اپنا توازن برقرار رکھنے میں، وہ ان سے درختوں پر لٹکنے کا کام بھی لیتے ہیں اور انسانوں سے اپنی دفاع بھی کرتے ہیں۔ بندروں، لنگوروں اور اسی قسم کے جانوروں میں دم ماحول کے مطابق ڈھل جاتی ہے۔ جن بندروں کی دمیں لمبی ہوتی ہیں وہ اپنی دم سے چیزیں پکڑ بھی سکتے ہیں۔
بندر ایک قناعت پسند جانور ہے، دیگر جانوروں کی طرح اسے بھی لباس وغیرہ کی کوئی خاص حاجت نہیں ہوتی البتہ شہر میں مداری حضرات انھیں کچھ نہ کچھ پہناتے ہیں جس سے ان کی ستر پوشی ہوجاتی ہے۔ کھانے پینے کے معاملے میں بھی کوئی ناز نخرے نہیں ہیں، سبزی، پھل، پتے، کیڑے مکوڑے وغیرہ، جو مل جائے کھا لیتے ہیں یہاں تک کہ جب بھوک کی شدت زیادہ ہو تو سامنے کوئی انسان بھی آ جائے اسے بھی چٹ کر جاتے ہیں، لہذا اس کے پاس جاتے وقت اس بات کی تصدیق کر لیں کہ بھوک کی شدت نقطہ برداشت سے زیادہ تو نہیں۔
اگرچہ بندر بھی انسانوں کی طرح خاندانی نظام میں رہنا پسند کرتے ہیں لیکن ان کے یاں انسانوں کی طرح کے مسائل نہیں ہیں۔ ان میں ذات پات کی تقسیم ہے نہ ہی طبقاتی کشمکش، سارے بندر بندر ہیں نہ کوئی چھوٹا ہے نہ بڑا۔ نہ مذہب کا جھگڑا، نہ رنگ و نسل کا تنازعہ (یہ سارے خرافات صرف اور صرف انسانوں میں پائے جاتے ہیں ) ۔ بندروں کی شادیوں پر بھی اخراجات نہیں ہوتے، نہ جہیز کی جھنجھٹ نہ مایوں، رخصتی اور ولیمہ کے اخراجات، جو بندریا پسند آ گئی اس سے شادی کرلی اور بچے پیدا کرنا شروع کر دیے اور اگر کوئی اور پسند آ گئی تو اس کو اپنی دلہن بنا کر لے آئے (پورا یورپ کا ماحول ہے ) ۔ بچوں کے لیے مکان، تعلیم، صحت، ٹی وی، فریج، کمپیوٹر، اور موبائل فون کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ زندگی سادہ اور آسان ہے۔
کچھ بندر اب بھی ایسے ہیں جو انسان بننے کو خواہش رکھتے ہیں، وہ انسان کو دیکھ کر اس کی نقل اتارنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسا کر کے شاید وہ ہمیں یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ دیکھو ہم بھی تمھاری طرح انسان بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں بس موقع ملنے کی دیر ہے۔ کیپوچن بندر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کے ذہین ترین بندر ہوتے ہیں جن میں مختلف اوزار کا استعمال اور نئی چیزیں سیکھنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔
چین میں 2016 ء کو بندروں کے سال (ائر آف دی مونکی) سے منسوب کیا گیا تھا جہاں لوگوں نے بندروں کے نام پر خوب ہلا گلا مچایا اور اربوں روپے کا کاروبار کیا۔ بندروں کو تو پتا بھی نہ چلا کہ یہ سال ان کے نام سے منسوب تھا۔ بندروں سے چینیوں کی محبت کو دیکھتے ہوئے 2023ئی میں سری لنکا کی حکومت نے چین کو ایک لاکھ بندر فراہم کیے جنھیں سرکاری اعلان کے مطابق چین کے مختلف چڑیا گھروں میں رکھا گیا (لیکن مجھے خطرہ ہے کہ یہ بندر چینیوں کے پیٹ میں نہ گئے ہوں کیوں کہ وہ بندروں کے بڑے شوقین ہیں ) ۔
بھارت کے کچھ علاقوں میں بندر کو مذہبی حیثیت حاصل ہے جہاں یہ چاروں طرف دندناتے پھرتے ہیں اور لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے۔ کسی کے ہاتھ میں کچھ دیکھا تو چھین کر بھاگ جاتے ہیں، کسی کو غافل پایا تو ناک سے عینک اتار کر خود پہن لیتے ہیں۔ دنیا کے دیگر علاقوں میں یہی حال انسانوں کی ہے جو مذہب کے نام پر دیگر انسانوں کا ناطقہ بند کیے ہوئے ہیں۔ اس بات سے پتا چلتا ہے کہ بندر اور انسانوں میں کچھ باتیں اب بھی مشترکہ ہیں۔ لہذا موجودہ بندروں کو نا امید نہیں ہونی چاہیے ممکن ہے بندروں سے انسان بننے کی اسکیم دوبارہ بحال ہو جائے اور باقی مانندہ بندر بھی انسان بن جائیں۔


