بلوچستان ہی کیوں؟
پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں اس کا ایوان بالا تمام صوبوں کے لیے برابری کی نمائندگی کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے۔ جہاں سینیٹ کے کل 104 اراکین میں چاروں صوبوں کو مساوی نمائندگی حاصل ہے۔ کسی سیاستدان کا اس کے اپنے صوبے سے باہر دوسرے صوبے کے کوٹے پر سینیٹ کا الیکشن لڑنا ڈاکہ زنی نہیں تو اور کیا۔
یہ موضوع آج کل اور ایک ایسے وقت میں زیر بحث ہے جب سینیٹ کے اگلے انتخابات 2 اپریل کو ہو رہے ہیں جس کے لیے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اے این پی کے قوم پرست رہنما ایمل ولی نے بلوچستان سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ یاد رہے کہ مذکورہ امیدوار کی جماعت خیبر پختونخوا میں صرف 1 صوبائی اسمبلی کی نشست جیت سکی ہے جبکہ بلوچستان میں اس کی جماعت کے پاس دو ووٹ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی نے بلوچستان سے سینیٹ الیکشن میں اس امیدوار کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔
اس صورتحال نے کچھ سوالات کو جنم دیا ہے۔ اول، اگر کوئی جماعت ایک صوبے میں مطلوبہ ووٹ حاصل نہیں کر پاتی اور دوسرے صوبے میں اپنا امیدوار لاتی ہے تو کیا یہ اخلاقی طور پر غلط نہیں ہے؟ کیا ایسی جماعت کے پاس صوبے میں بہتر امیدوار نہیں؟ کیا صوبے کے عوام اپنے ہی صوبے کے نمائندوں تک رسائی کے مقابلے ایسے امیدواروں تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے؟ پی پی پی اس امیدوار کی حمایت کر رہی ہے، پی پی پی نے انہیں صوبے سندھ میں اپنا امیدوار کیوں نہیں بنایا جہاں مذکورہ وفاقی جماعت اچھی اکثریت میں ہے؟ بلوچستان ہی کو اس گھناونے کھیل کا میدان کیوں بنایا جاتا ہے؟ کیا بلوچستان کے سیاست دان جو اس اقدام کی حمایت کر رہے ہیں انہیں ائندہ صوبے کی نمائندگی کے حوالے سے شکایت کرنے کا حق ہو گا؟
بلوچستان پہلے بھی اس کھیل کا میدان رہا ہے۔ چند سال پہلے بلوچستان کے بہت سے گورنرز کا تعلق دوسرے صوبوں سے تھا۔ اس اصول پر بعد میں پابندی لگا دی گئی اور اب صرف وہی لوگ کسی صوبے کے گورنر بن سکتے ہیں جن کے پاس اس صوبے کا ڈومیسائل ہو۔ کیا ایسی پابندی سینیٹ کے انتخابات میں بھی نہیں لگنی چاہیے؟
بلوچستان ایک حساس اور محروم صوبہ ہے جس کی نمائندگی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ جن لوگوں نے اپنی پوری زندگی میں بلوچستان میں ایک ہفتہ بھی نہیں گزارا کیا وہ سینیٹ میں صوبے کی خاک نمائندگی کرسکیں گے؟ عقل سلیم کا تقاضا ہے کہ صوبے کے سیاستدان اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور سیاسی اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے فیصلوں سے گریز کرے جس سے صوبے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہو۔ گورنر کی تعیناتی کی طرح دوسرے صوبے کے سیاستدانوں پر بلوچستان کے کوٹے پر سینیٹ کے الیکشن لڑنے پر مکمل پابندی لگنی چاہئیں۔ یہ پیرا شوٹر صوبے کے سیاسی حقوق اور نمائندگی کے لیے زہر قاتل ہیں۔ یہ ڈکیتی ہے اور ایسی ڈکیتی کی وارداتوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔


