نور الہدیٰ شاہ کا ٹیلی تھیٹر ”ذرا سی عورت“
ازدواجی زندگی کو خداوند عالم نے عورت اور مرد دونوں کے لیے باعث سکون قرار دیا ہے جہاں مرد کو عورت کے روپ میں اور عورت کو مرد کے روپ میں ہمسفر، بہترین دوست، ہمدرد، دکھ سکھ کا ساتھی ملتا ہے۔ مگر جب معاشرے میں ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں ایسے مرد بھی نظر آتے ہیں جو انتہائی خشک مزاج ہوتے ہیں بیوی سے اظہار محبت تو دور بیوی تک کو فراموش کرنے لگتے ہیں ان کے لیے عورت یعنی گھر میں کام کرنے والی ماسی، بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی آیا اور مرد کو تسکین فراہم کرنے والی سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔
پھر چاہے عورت اپنے شوہر کی محبت میں اپنی ذات کو فنا کر ڈالے۔ ٹیلی تھیٹر ”ذرا سی عورت“ جس کو تحریر نور الہدیٰ شاہ نے کیا اور ڈائریکٹ اور پروڈیوس سلطانہ صدیقی نے کیا یہ ڈرامہ 1992 میں پی ٹی وی پر دکھایا گیا جسے عوام نے خوب پسند بھی کیا اور بے حد پذیرائی حاصل ہوئی۔ جس میں اداکاری کے جوہر بشرٰی انصاری، شفیع محمد شاہ ( مرحوم) بہروز سبزواری، منظور مراد، بدر خلیل نے دکھائے
قدسیہ بشرٰی انصاری
احمد بہروز سبزواری
اسد شفیع محمد شاہ
انیتا میرا انصاری
منظور مراد قدسیہ کا باس
بدر خلیل حمیرہ
اس ٹیلی تھیٹر کو تین سین میں پیش کیا گیا جس میں عورت زندگی میں کن چیلنجز سے گزرتی ہے اسے باریکی کے ساتھ دکھایا گیا ہے جو دن بھر اپنے شوہر کی خدمت کے باوجود پیار کی تلاش میں خشک آنکھیں لیے محبت کے بے آب و گیاہ صحرا میں مارے مارے پھر رہی ہے۔ مگر شوہر جس کی ساری توجہ اس کے کاروبار پر ہے نہ اولاد کی فکر نہ بیوی کی پرواہ نہ ہی اس کا کوئی دکھ اسے نظر آتا ہے اور نہ ہی اس کے درد کو بانٹنا آتا ہے۔
قدسیہ کسی اخبار کے آفس میں بطور ایڈیٹر کام کرتی ہے جہاں وہ مختلف مضامین کالم وغیرہ شائع کرتی ہے تاکہ شوہر کا ہاتھ بٹا سکے اور بیٹی کو اچھی تعلیم بھی دلا سکے۔ پہلے سین میں دکھایا جاتا ہے قدسیہ صبح سویرے اپنی بیٹی اور شوہر کے لیے ناشتا بنانے کے ساتھ ساتھ دوسرے کاموں کو بھی نمٹانے میں مشغول ہے شوہر کے کپڑے استری کرنا بیٹی کو اسکول یونیفارم استری کر کے دینا شوہر اور بیٹی کو ناشتا کرواتے اور گھر کے دوسرے کام سمیٹتے وہ خود ٹھیک سے ناشتا بھی نہیں کر پاتی اور جاب پر چلی جاتی ہے۔
دوپہر واپسی پر اپنی بیٹی کو اسکول سے لیتی ہے اور آ کر کھانا تیار کرتی اسد گھر واپس آتا قدسیہ کئی بار اسد کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے مگر ناکام ہو جاتی ہے۔ اسے احساس دلانے کی کوشش کرتی ہے کہ آپ میری باتوں پر توجہ نہیں دیتے میرے غم اور درد کو نہیں دیکھ رہے جو فقط ایک شوہر ہی سمجھ سکتا ہے مگر اسد اسے مسلسل نظر انداز کرتا ہے کہ قدسیہ تم مجھے نہیں سمجھتی مجھے بہت کام ہوتے ہیں۔
دوسرے سینے میں قدسیہ کا ماموں زاد ( کزن) احمد لاہور سے کراچی آتا ہے کیوں کہ اس کی نوکری کراچی میں لگ جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ قدسیہ کے گھر رہنے آ جاتا ہے احمد یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ ہر وقت ہنسنے ہنسانے والی قدسیہ بیگم اتنی سنجیدہ ہو چکی ہے احمد قدسیہ سے چار سال چھوٹا تھا مگر اس سے محبت کرتا تھا جسے قدسیہ چھوٹا سمجھ کر اس کی نادانی تصور کرتے ہوئے نظر انداز کر دیتی ہے احمد قدسیہ کو خوش کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے مگر قدسیہ مسلسل اپنے شوہر کی توجہ حاصل کرنے میں مصروف رہتی ہے اور احمد اس بات سے بخوبی واقف ہوتا ہے کہ قدسیہ اسد کا پیار اس کی توجہ اور اس کا وقت چاہتی ہے مگر اسد صاحب اس سے بے خبر اتنے خشک مزاج انسان کہ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا بیوی کی زندگی میں کیا مسائل ہیں اسے کس چیز کی کمی، اسے کیا چاہیے اسد ان سب سے نظریں چرائے ہوئے زندگی گزار رہا ہے۔
مگر اسے احمد کا قدسیہ سے ہر وقت مزاح کرنا بھی پسند نہیں اور نہ یہ پسند کہ قدسیہ احمد سے زیادہ باتیں کریں یا گھر کے مسائل اس کے سامنے ڈسکس کرے۔ قدسیہ زندگی میں شوہر کے ہوتے ہوئے بھی شوہر کے بغیر زندگی گزار رہی تھی چہرے سے مسکراہٹ کئی عرصے سے غائب ہو چکی وہ تو اب فقط ایک کام کرنے والی بن گئی تھی گھر کا ہاتھ بٹانے کے لیے گھر سے باہر نوکری، بیٹی کی دیکھ بھال، شوہر کا خیال مگر خود توجہ کی محتاج!
بالآخر احمد ایک روز اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے جس پر قدسیہ اسے ڈانٹ دیتی ہے۔ مگر حقیقت میں اگر قدسیہ کے چہرے پر ایک عرصے کے بعد مسکراہٹ آئی تھی تو وہ احمد کی وجہ سے تھی وہی تھا جو اس کی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت کا خیال رکھتا تھا۔ اس کے مسائل کو فوراً حل کرتا پھر چاہے گھر میں کرنے والے کام ہوں یا انیتا کو پڑھانا ہو۔ گھر کی خراب چیزوں کو ٹھیک کرنا ہو یا قدسیہ کے چہرے پر مسکراہٹ لانا ہو احمد سب آسانی سے کر لیتا تھا۔
تیسرے اور آخری سین میں دکھایا جاتا ہے کہ احمد گھر کے کچھ خراب سوئچ ٹھیک کر رہا ہوتا ہے اسے کرنٹ لگ جاتا اس کی چیخ کے بعد قدسیہ بھاگتے ہوئے احمد کے پاس آتی اور اسے ڈانٹتی تم کیوں کر رہے ہو ہم کروا لیں گے۔ جس پر احمد کہتا ”زیادہ سے زیادہ کیا ہوتا مر جاتا“
یہ سنتے ہی قدسیہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے کہتی ہے
” اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں کیا کرتی“
قدسیہ کے پیچھے کھڑا اسد سب سن لیتا ہے احمد اگلی صبح لاہور واپس جانے کے لیے گھر سے نکلتا مگر راستے میں یاد آتا کہ کچھ کاغذات قدسیہ کے گھر رہ گئے جس کے لیے واپس آتا گھر میں اسد اسے گولی مار دیتا ہے پولیس سے اپنے شوہر کو بچانے کے لیے قدسیہ قتل کا الزام اپنے سر کے لیتی ہے۔ اسد اپنی بیٹی انیتا کے سامنے اسی کی ماں کو برا ٹھہرا دیتا ہے جو شوہر کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے مرد سے محبت کرتی ہے انیتا ماں سے نفرت کرنے لگتی ہے قدسیہ کو دس سال کی سزا ہو جاتی ہے جب وہ واپس گھر آتی ہے تو دیکھتی ہے اسد دوسری شادی کر چکا ہوتا ہے اور بیٹی شادی کر کے امریکہ چلی جاتی ہے۔
بالآخر ساری زندگی بیٹی اور شوہر کا خیال رکھتے ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی تگ و دو کرنے والی شوہر کی خاطر اپنی جوانی جیل کی سلاخوں کے پیچھے برباد کرنے والی قدسیہ کے ہاتھ خالی رہ جاتے ہیں نا شوہر اپنا رہا نہ بیٹی۔ ایک فقط ایک قدسیہ نہیں ہمارے معاشرے کی کئی قدسیہ زمانے کی اسی ستم ظریفی کا شکار رہیں ہیں۔ جو زندگی پھر یہی سزا بھگتی ہیں جبکہ ان کا جرم فقط اتنا ہوتا ہے کہ وہ اپنے شوہر سے بے پناہ محبت کرتی ہیں ان کی دنیا شوہر سے شروع ہو کر اسی پر ختم ہو جاتی ہے۔ جن کے لیے ان کی اولاد سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا
قدسیہ کا کردار
ایسی عورت کا ہے جو اپنے شوہر کا ساتھ دینے کے لیے اور اپنی بیٹی کو اچھی تعلیم دلوانے کے لیے نوکری کر رہی ہے جو بطور ماں ذمہ دار ما ہے اور بطور بیوی شوہر کا خیال رکھنے والی اس سے محبت کرنے والی ہے مگر وہ خود شوہر کی توجہ کی اشد طلب گار ہوتی ہے۔ قدسیہ مشرقی عورت کی طرح جس کے لیے پہلے اس کا گھر اس کی فیملی پھر باہر والے اور باہر کے مسائل ہیں۔ وہ اپنے ہی ماموں زاد سے فقط اس لیے کھل کر بات نہیں کرتی کیوں کہ اس کا ایک شوہر ہے جس سے وہ بے پناہ محبت کرتی ہے اسے کھونے سے ڈرتی ہے۔ مگر شوہر کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ ایسے کردار ہمیں اپنے معاشرے میں جا بجا نظر آتے ہیں قدسیہ بھی ہمارے معاشرے کا حقیقی کردار ہے۔
اسد کا کردار
قدسیہ کا شوہر اسد ایک خشک مزاج شخص ہے جسے گھر والوں سے زیادہ اپنے کاروبار کی فکر ہے۔ اپنی بیٹی سے مکمل لا پرواہ باپ ہے کیوں کہ اسے معلوم قدسیہ یہ سب سنبھال لے گی اسے فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں بیوی کے مسائل سے لا علم مگر بیوی کسی سے ہنس کر بات کرے یہ اسے گوارا نہیں وہ آفس میں تھوڑا وقت زیادہ کام کرے باس سے کوئی بات کرے یہ سب اسے پسند نہیں ہے مگر اس نے بیوی کو خود توجہ نہیں دینی۔ یعنی میرے گھر کے کڑے سے بندھی ہوئی بکری ہے جسے میں جیسے مرضی رکھوں کوئی اور اس کا خیال نہ رکھے کوئی اس کی طرف نہ دیکھے یہ کسی سے ہمدردی حاصل نہ کر سکے۔
اسد جیسے کردار ہمارے معاشرے کے حقیقی کردار ہیں جو جا بجا نظر آئیں گے مرد کاروبار کے پیچھے اتنی شدت کے ساتھ مصروف ہو جاتے ہیں کہ وہ بھول جاتے ہیں ان کی فیملی ہے بیوی بچے ہیں فقط ان کو کھانا کھلا دینا کافی نہیں ان کا خیال رکھنا ان کے مسائل حل کرنا ان کے ساتھ ہنسنا اٹھنا بیٹھنا بھی ضروری ہے۔ انہیں توجہ دینا اہم ہے۔
انیتا کا کردار
انیتا ایسی بچی جسے فقط اپنی ماں کی توجہ حاصل ہے باپ کے ہوتے ہوئے بھی اس کی زندگی یتیمی جیسی ہے۔ اسکول کے مسائل ہوں یا ذاتی زندگی کے اس کی ماں کے سوا اس کا کوئی سہارا نہیں۔ ایسے بچے ہمارے معاشرے میں کئی کٹھن راستوں سے ہوتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں جو بڑے ہو کر انتہائی حساس طبعیت کے مالک بن جاتے ہیں کسی دوسرے کے مسائل حل کرنے، کسی کی مدد کرنے سے کتراتے ہیں اپنے مسائل کو اپنوں سے ڈسکس نہیں کرتے اور دل میں رکھ رکھ کر نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔
احمد کا کردار
ایک زندہ اور جی دار انسان جو اپنے ساتھ دوسروں کو بھی خوش رکھنا جانتا ہے۔ قدسیہ کے لاکھ ڈانٹنے اور نظر انداز کرنے کے باوجود بھی اس کا بے پناہ خیال رکھتا ہے فقط قدسیہ نہیں اس کی بیٹی انیتا کے مسائل کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ کھیلنا اسے خوش کرتا رہتا ہے۔ جسے واقعتاً قدسیہ سے ہمدردی ہوتی ہے۔
بدر خلیل
قدسیہ کے ساتھ کام کرنے والی اس کی دوست جو اسے احساس دلاتی رہتی ہے کہ تم ایک زندہ انسان ہو اپنی زندگی کو خوبصورتی کے ساتھ جیو خود کو اپنی ذات کو یوں ( خاموش ) فنا مت کرو۔
کرداروں کے مکالمے
اسد : یار میری قمیض کا بٹن ٹوٹا ہوا ہے
قدسیہ: اسد کوئی اور پہن لیں ناں
اسد : اب پہن لی ہے آ کر ٹانک دو
قدسیہ: اللہ کیا مصیبت ہے اچھا جی لائیں دیں بٹن
اسد بٹن نہیں دیکھو کوئی دوسرا ہے تو
قدسیہ اچھا! لگتا (سوئی میں دھاگا ڈالتے ہوئے ) اب عینک لگوانی پڑے گی۔
اسد : تو لگوا لو
قدسیہ آپ ساتھ ہی نہیں چلتے میرے اور مجھے تو فریم کا کچھ پتا ہی نہیں چلے گا
اسد میرے پاس تو فرصت نہیں ہے تم آفس سے کسی کولیگ کو لے کے اپنے ساتھ چلی جاؤ
قدسیہ : پتا ہے مجھے فرصت ہی تو نہیں ہے آپ کے پاس
(اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو ) احمد گانا گا رہا ہوتا جب قدسیہ آتی ہے
احمد : جی قدسیہ جی
قدسیہ : میں آفس جا رہی ہوں یہ چابی ہے دروازہ لاک کر کے اور چابی پڑوسن کو دے دینا
احمد : تاکہ پڑوسن ایک دن پورے گھر کی صفائی کر دے ( قدسیہ مسکرانے لگتی ہے )
قدسیہ : میں نے تمہیں منع کیا تھا ناں اسد کے ساتھ مذاق مت کرو
احمد: کیوں ناراض ہو گئے؟
قدسیہ :ہاں
احمد :آج کے دن بھی؟
قدسیہ کیا فرق پڑتا ہے آج کا دن تو جسے ہم دونوں ہی بھول گئے تھے تمہیں کیسے یاد رہا
احمد : مجھے تو آج تک وہ رات بھی یاد ہے جب دلہن بنی قدسیہ بیگم کو میں تایا ابو کی دہلیز سے رخصت کر کے بگولے کی طرح چھت پر جا پہنچا تھا اور تکیے میں منہ دے چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رہا
قدسیہ: (مسکراتے ہوئے ) کیوں بھئی
احمد : آپ اس وقت بھی بہت اچھی لگتی تھیں آج بھی بہت اچھی لگتی ہیں۔
انیتا
قدسیہ: نیتو اٹھو بیٹا اٹھ جاؤ صبح ہو گئی سات بج گئے بھئی جلدی سے اٹھو۔ اٹھو بھئی میری اچھی بیٹی اسکول جائے گی
انیتا :نہیں امی بس تھوڑی دیر اور سونے دیں
قدسیہ : یہ تو کوئی بات نہیں ہے سونے دیں صبح کو تو نیند آتی ہے لیکن اسکول بھی جانا ہوتا ہے آج میرا ہسٹری ( تاریخ) کا ٹیسٹ تھا اور میں نے کچھ یاد بھی نہیں کیا
قدسیہ : اب بتا رہی ہیں آپ مجھے
انیتا : تو کیا کرتی رات کو آپ کا اور بابا کا موڈ اتنا خراب تھا میں کہتی رہی آپ لوگوں نے سنا ہی نہیں
قدسیہ ؛ اچھا چلیں اس وقت تو چلیں پھر ٹیچر سے کوئی بہانا کر دیجیے گا کچھ بھی کہہ دیں
انیتا : آپ خود ہی تو جھوٹ بولنے سے منع کرتی ہیں اور اب آپ خود۔ قدسیہ: بھئی ایک بات کے پیچھے پڑ جاتی ہیں۔
……….
باس : بیٹھیں مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے یہ آپ نے لکھا ہے؟
قدسیہ جی
باس ؛ کتنا عرصہ ہو گیا آپ کو یہاں پر؟
قدسیہ : پانچ سال
باس ؛اور ابھی تک آپ اس کی پالیسی کو سمجھ نہیں پائی؟
قدسیہ : دیکھیں سر محض کاروباری مفادات کے تحت کسی بھی رسالے کو طویل عرصے تک چلایا نہیں جا سکتا اور پھر لوگ کچھ مانگتے ہیں ہمیں کچھ تو دینا چاہیے کم از کم تھوڑی سی سچائی ہی سہی
باس : جی یہ تھوڑی سی سچائی ہے؟ مسز اسد اللہ یہ اتنی بڑی سچائی ہے اتنی بڑی جو فشار کی طرح منہ کھولے مجھے کھانے کو آ رہی ہے
قدسیہ: میں سمجھی نہیں سر
باس : آپ نہیں سمجھیں گی تب تک جب تک اس عمارت کو آگ نہیں لگائی جا سکتی جب تک مجھ پر کوئی قاتلانہ حملہ نہیں ہو جاتا اور آپ فار گاڈ سیک مسز اسد اللہ آپ ایک عورت ہیں اتنی سی ہوتی ہے عورت ان آور سوسائٹی آپ سمجھ رہی ہیں
قدسیہ مگر میں اتنی سی عورت نہیں ہوں۔
حمیرہ
دیکھو میں نے تمہیں پہلے ہی کہا تھا شیر کے پنجرے میں قدم مت ڈالو مگر تم نے پتا کیا کہا تھا؟ میں تو خود شیرنی ہوں
قدسیہ سمجھتی تو میں اب بھی وہی ہوں
حمیرہ: تو ایسی ہوتی ہے شیرنی لگتا جنگل سے دھکے دے کر نکالی گئی ہو
قدسیہ ویسے آج مجھے بھی ایسے ہی لگتا ہے
حمیرہ: قدسیہ ڈارلنگ فار گیٹ اٹ یہ تو تمہارے لیے چیلنج ہے ورنہ زندگی تو بے معنی ہے اور ویسے بھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔
قدسیہ : ایک تم ہی ہو جو مجھے اندر سے مرنے سے بچا لیتی ہو۔


