نو مئی کیا ایک نامکمل بغاوت ہے؟


 

عمران خان یا ان کی پارٹی کو یہ اعتراف کرنے کی ضرورت کیوں ہو کہ 9 مئی بغاوت کی کوشش تھی، بغاوت اگر کامیاب ہو تو انقلاب کہلاتی ہے اور اس کا جشن اسی صورت میں ہوتا ہے۔ لیکن کیا 9 مئی کا واقعہ بغاوت کی کوشش تھی، اس سے تاریخی مماثلت رکھنے والے واقعات سے بغاوتوں سے پہلے اور بعد کے حالات کا کیا سبق ملتا ہے اور کیا اس کے اپنے اثرات پوری طرح سامنے آ چکے ہیں؟ ان سوالات کے جواب کی کوشش یقیناً 9 مئی کے بغاوت ہونے کے تاثر اور نامکمل ہونے کے امکان کو پرکھنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔

بعض اوقات بغاوت کی کوششیں بس ایک استبداد کو ہٹا کر دوسرے کے مسلط ہونے کا باعث ہی بن رہی ہوتی ہیں جیسا 1789 کے مشہور انقلاب فرانس میں ہوا، یا 1917 کے روسی انقلاب میں یا ماضی قریب میں 1979 میں ایران اور 2011 میں مصر میں۔ البتہ جن کے برعکس 1776 کے امریکی انقلاب اور 1954 میں شروع ہوئی الجیریا کی انقلابی جنگ کی مثالیں بھی ہیں۔ فرق اس چیز کا لگتا ہے کہ ایک غیر ملکی قابض طاقت کا زور بازو سے ہٹایا جانا تو ایک قوم کے بننے میں تعمیری محرک بن جاتا ہے لیکن اپنے ہی ملک کے ایک طبقہ کا کسی بغاوت سے ہٹایا جانا پائیدار ثابت نہیں ہوتا چاہے وہ استحصالی ہو جبکہ ایک بتدریج تبدیلی کا عمل ہمیشہ نا صرف دیرپا بلکہ دور رس فوائد کا حامل ہوتا ہے۔

سب سے پہلے تو جیسی توقع ہونی چاہیے، خود عمران 9 مئی کے واقعہ کا کسی قسم کی بغاوت ہونے سے انکار کر چکا ہے، اس دن کی توڑ پھوڑ ایجنسیوں کی سازش قرار دے چکا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اس کی گرفتاری کا ردعمل تھی اور پی ٹی آئی کے لوگوں کا مقصد صرف پرامن احتجاج تھا۔ بقول اس کے اگر سارے ملک میں پھیلے احتجاج فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر، چھاؤنیوں، چوکیوں، دفاعی تنصیبات اور یادگاروں کے سامنے ہوئے تو اس کی وجہ رینجرز کی طرف سے کی گئی گرفتاری یا اس کا طریقہ کار تھا۔

عمران کا اوپر درج بیانیہ قابل قبول لگتا اگر اپریل 2022 میں اپنی حکومت تحریک عدم اعتماد میں گنوا دینے کے بعد سے وہ ایک یو ٹرن میں مسلسل فوج کو اپنے نشانے پر نہ رکھ چکا ہوتا۔ وہ اور اس کے قریبی ساتھی فوج کے نچلے درجات اور جرنیلوں کے درمیان ایک نظریاتی تقسیم کی نشاندہی، اس کو بڑھانے کی کوشش اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی سعی نہ کر چکے ہوتے۔ وہ ملک کی فوجی قیادت کو برصغیر کی تاریخ کے بدترین کرداروں میر جعفر اور میر صادق سے تشبیہ نہ دے چکا ہوتا۔ وہ فوج کے آئینی اعتبار سے نیوٹرل ہونے کے کردار کو جانور ہونے سے منسوب نہ کر چکا ہوتا وغیرہ۔ اور عمران کے اس بیانیہ کا عکس پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا سے کیے گئے فوج کے خلاف نفرت اور تضحیک کے اظہار میں پہلے ہی سامنے نہ آ چکا ہوتا۔

تو اس لئے گرفتاری سے بہت پہلے عمران سے ’تعاون‘ نہ کرنے کی وجہ سے فوج ایک ٹارگٹ تو بن چکی تھی اور 9 مئی کو پی ٹی آئی کے لوگوں کا اس کو احتجاج کا نشانہ بنانا حیران کن نہیں رہتا۔ البتہ یہ سوال ہو سکتا ہے کہ کیا 9 مئی کو عمارتوں کو نذر آتش کرنے اور توڑ پھوڑ کے واقعات حیران کن تھے؟ عمران کی سیاست کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے ایسے پرتشدد احتجاج کا ہونا کچھ بعید نہیں۔ 2014 کے دھرنے کے دوران پی ٹی وی اور قومی اسمبلی پر دھاوا بولنے سے لے کر، 25 مئی 2022 کو پشاور سے آئے آزادی مارچ کی اسلام آباد میں آمد کے وقت شاہراہوں پر آگ لگانے، زمان پارک لاہور میں عمران کی گرفتاری کی کوششوں کے خلاف پولیس پر پٹرول بموں سے حملے، اس کی گاڑیوں کو نذر آتش کرنے وغیرہ کی کارروائیاں دوسری سیاسی جماعتوں کی نسبت پی ٹی آئی کے تشدد کو بوقت ضرورت بطور ہتھیار اپنا لینے کا ثبوت ہیں۔

اور جہاں تک 9 مئی کے بغاوت کی کوشش کے ہونے یا نہ ہونے تک کا سوال ہے تو اس کا ایک جواب تو پی ٹی آئی کی طرف سے 9 مئی میں بتدریج بڑھتی بدامنی کو روکنے کی کسی کوشش کا فقدان اور دوسرا خود فوج کے اپنے ردعمل سے بھی مل سکتا ہے۔ اس واقعہ کی ادارتی تحقیق کے بعد فوج نے ایک لیفٹیننٹ جنرل سمیت تین میجر جرنیلوں، سات بریگیڈئیروں اور دیگر سینئیر رینک تک کے 18 افسران کو فوج سے فارغ کر دیا۔ ایسے لمبے کیرئیر والے افسران کا فوج سے نکالا جانا جہاں ان کی اس دن دفاعی تنصیبات کی حفاظت میں ناکامی کی سخت سزا تھی وہاں فوج کی اپنی ہی کسی ایجنسی کی ایسی سازش میں ملوث نہ ہونے کا بھی ایک ممکنہ ثبوت ہے۔ تو کیا ایسا ممکن ہے کہ عمران فوج میں موجود اپنے ہمدردوں کی شہ پر اس امید میں تھا کہ فوج کے خلاف ایک بڑے پرتشدد احتجاج اور اس کے جواب میں متوقع انتہائی سخت یا خونی ردعمل کی صورت میں حالات بے قابو ہو جائیں اور ملکی اسٹیبلشمنٹ اس سے کسی کامپرومائز پر مجبور ہو جائے گی۔

مجھے لگتا ہے کہ 9 مئی کے واقعہ میں فوج کا اپنی صفوں میں اتحاد اور خاص طور پر اس پر کوئی فوری ردعمل نہ دکھانا ہی اس بغاوت کی کوشش کو ناکام بنا گیا۔ اس کی دلیل مختلف کامیاب بغاوتوں یا انقلابوں کی درج ذیل تاریخ جیسے 1917 کے روسی انقلاب اور 1979 کے انقلاب ایران سے براہ راست مل سکتی ہے۔ یہاں البتہ یہ سوال ہو سکتا ہے کہ کہاں جنگ عظیم اول کا روس یا 1970 کا انتشار شدہ ایرانی معاشرہ اور کہاں 2023 کا پاکستان۔ لیکن انتہائی بڑھ چکی مہنگائی، بدامنی کے شکار اور نظریاتی طور پر منقسم پاکستان میں جہاں پہلے ہی فوج تخریب کاروں کے نشانہ پر تھی، عوام کو یوں فوج کے سامنے لا کھڑا کر دینا اگر بغاوت کی دانستہ سازش نہی بھی تھی تو بغاوت کی ترکیب میں اجزا پورا کر دینے کی کامیابی ضرور تھی۔ جس کا فائدہ موقع بن جانے پر یا تو عمران کی افواج میں موجود حمایت یا پھر کوئی بیرونی قوت باآسانی اٹھا سکتی تھی۔

1917 کے فروری تک اس وقت کی روسی فوج بھی تقسیم کا شکار تھی۔ افسران کی کھلم کھلا نافرمانی اور کچھ میں ان کے احکام پر عمل درآمد کرنے سے پہلے فوجی تازہ بنی کمیٹیوں کی طرف سے توثیق کروائے جانے کا طریقہ اپنا چکے تھے۔ اس بغاوت کے نتیجہ میں زار روس جو اب فوج کے افسران کی وساطت سے ہی اپنی بادشاہت قائم رکھے تھا تخت سے دستبردار ہو گیا۔ لیکن کچھ ہی مہینوں بعد اکتوبر میں ایک اور انقلاب جس میں بورژوا جماعتوں یا طبقات جو فروری میں نگران گورنمنٹ بنا چکے تھے اور بالشویک کے درمیان ایک سول وار شروع ہو گئی۔ یہ جنگ چھے سال جاری رہی اور اس میں لاکھوں لوگ مارے گئے۔ بالشویکوں کی آخرکار کامیابی اور دہائیوں کی حکومت کی روسی قوم نے ایک بڑی خونی قیمت چکائی۔ روس جو 1905 کے بعد بتدریج بڑھتے جمہوری عمل کے تحت برطانیہ اور امریکہ سے بھی پہلے عورتوں کو ووٹ دینے کے حق جیسے اصول پر کام شروع کر چکا تھا، ایک بہت طویل عرصہ کے لیے کمیونزم کی جابرانہ پالیسیوں کا شکار ہو گیا۔

1979 میں ایران میں رضا شاہ کے خلاف کچھ سالوں سے ہو رہے احتجاج اور ہڑتالوں میں تیزی آ چکی تھی۔ اس کے پیچھے ایک تو پچھلے سال ابادان میں ایک سینما میں ہوئے تقریباً 400 لوگوں کا پراسرار قتل تھا لیکن دوسرا اب احتجاج کی آڑ میں مسلح گوریلا گروپ بھی فعال ہو چکے تھے۔ تہران میں ایک اجتماع میں ہوئی فائرنگ پر فوج کی طرف سے ردعمل میں ہوئے جانی نقصان کو انقلابیوں کی طرف سے بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ ملکی حالات جلد اس نہج پر پہنچ گئے کہ شاہ اپنے تخت سے دستبردار اور ایران سے جلاوطنی کے لئے تیار ہو گیا۔ آیت اللہ خمینی جسے آئینی نظام بحال کرنے کے وعدوں کی وجہ سے سیکولر اور بائیں بازو کے طبقات کی حمایت بھی حاصل تھی واپس آیا لیکن ہزاروں لوگوں کے قتل اور مسلسل بڑھتی گرفتاریوں کے بعد ایک یو ٹرن میں ملائیت قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

اب یہ سوال کہ کیا 9 مئی ایک نامکمل بغاوت ہے یا اس کے تمام اثرات سامنے آ چکے ہیں؟ ایک تو بغیر کسی ثبوت کا جیسا بیانیہ پی ٹی آئی ابھی بھی اپنائے بیٹھی ہے کہ ’اس واقعہ میں بے شمار لوگوں کو سیدھی گولیاں مار کے قتل کر دیا گیا، عورتوں سے جنسی زیادتی کی گئی‘ وغیرہ سے تو لگتا ہے کہ ابھی اس واقعہ میں مظلومیت کے تاثر کا پورا فائدہ لینا باقی ہے اور مناسب وقت کا انتظار ہے۔ دوسرا 8 فروری کے الیکشن کا نتیجہ اور اس کے بعد کے حالات، کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت کا قیام، بڑھتی دہشت گردی اور طالبان سے بگڑتے تعلقات پاکستان کو ایسے حالات کی طرف لے جا سکتے ہیں جہاں ایک مہم جو عمران حالات کا فائدہ اٹھا لینے کی ایک اور کوشش کرے۔

تو مجھے لگتا ہے کہ عمران کا طرز سیاست روس اور ایران کی بغاوتوں کے پیچھے جذبات اور محرکات پاکستان میں پیدا کر سکتا ہے اور دیکھنا یہ ہو گا کہ ممکنہ دوسری کوشش کیا ردعمل پیدا کرتی ہے اور کیا اس میں خون بہتا ہے؟

 

Facebook Comments HS