سجنی کی باہیں
جگمیت کو دودھیائی چاندنی سے نہایا ہوا مکان دور سے نظر آ رہا تھا۔ سرد تیز ہواؤں سے اس کو بار بار جھرجھری آ رہی تھی۔ وہ نجانے آج کتنے کلومیٹر پیدل چل چکا تھا۔ کتنی بسوں میں بیٹھ چکا تھا۔ اب وہ گھر کے پاس پہنچ چکا تھا۔ پھول پتوں سے لدی ہوئی باہر کی دیوار کتنی سندر لگ رہی تھی۔ باہر کی طرف بونے بونے درخت قطار میں کھڑے ہوئے ہوا سے جھوم رہے تھے۔ نیلے رنگ کا دروازہ چاندنی سے چمک رہا تھا۔ پینسٹھ سالہ کاٹھی جسامت کا حامل جگمیت سنگھ کے قدم آہستہ ہو گئے تھے۔ پھر وہ دروازے سے ایک میٹر دور رک گیا۔ اور سوچوں میں گم ہو گیا۔
کاش اس دروازے پہ ایک زنجیر ہوتی جسے وہ ہلاتا۔ پھر سجنی آ کر دروازہ کھولتی اور پوچھتی کیوں دیر گئے گھر آئے ہو۔
پانچ سال پہلے جگمیت اور اس کی سجنی اس چھوٹے مکان میں منتقل ہوئے تھے۔ پورا ایک سال اس کی مرمت، رنگ و روغن، اور سجاوٹ میں لگا۔ ہوا دار، روشن دار، پر آسائش، مختلف قمقموں سے سجا ہوا مکان! جگمیت نے اسے لطیف پینٹنگز اور نایاب مصوّری کے فن پاروں سے سجا کر اک عجب جادوانی سماں پیدا کر دیا تھا۔ مکان کے باغیچے کا انداز بھی نرالا تھا، عمودی جو انوکھا اور دلکش تھا۔ چھوٹے گملوں میں دیوار کے سہارے اور کچھ عمودی پودوں نے نشوونما پا کر دیوار کو رنگ برنگے پھولوں سے ڈھانپ لیا تھا۔ جگمیت اور اس کی سجنی شام کے وقت ہریالی کے درمیان بیٹھ کر چائے کا لطف اٹھاتے۔ گرمیوں کی راتوں میں بھی وہ باغیچے میں بیٹھتے اور ستاروں کو دیکھ کر اپنے اپنے مقدّر کا ستارہ ڈھونڈتے۔
چند ماہ سے دونوں کے درمیان کچھ کھچاؤ اور تناؤ شروع ہو گیا تھا۔ مسکراہٹوں اور قہقہوں کی جگہ غصے اور اونچی آوازوں نے لے لی تھی اور اس مکان میں آسیب زدہ تنہائیاں اور یاسیت کا ماحول ہر سو چھایا گیا تھا۔ آہستہ آہستہ یہ بہشت نظیر مکان دوزخ نما گھر میں بدلتا گیا جہاں انا اور نفرتوں کے عفریتوں نے ڈیرہ ڈال دیا تھا۔ جگمیت اکثر گھبرا کر باہر نکل جاتا لیکن روز کس کے پاس جاتا! وہ بلا مقصد چلتا رہتا، پھر کوئی بس نظر آتی تو اس میں بیٹھ کر آخری اسٹاپ پہ اتر جاتا، کچھ وقت کسی کافی ہاؤس میں بیٹھ کر گزار دیتا، رات گئے کسی شراب خانے کا رخ کرتا۔ اسے شراب نوشی سے کوئی لگاؤ نہیں تھا، وہ وہاں کے ماحول سے گھبرا کر اٹھ جاتا، اور ادھر ادھر رات کے سناٹوں میں پھرتا رہتا۔ رات کے دوسرے پہر وہ گھر کی طرف رخ کرتا۔
آج جگمیت دروازے کے پاس کھڑا ہوا مکان کو گھور رہا تھا۔ اس کے زبان سے بے اختیار افتخار عارف کا شعر نکلا:
مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے
اب اس کو اس کو مکان کے اندر داخل ہونا تھا جس کے ہر کونے میں ایک نفرت کا بت کھڑا ہوا تھا، جہاں مسکرانا تک منع ہو چکا تھا، جہاں کوئی دوسرے سے مخاطب نہیں ہوتا، جہاں اگر گفتگو شروع ہو بھی جائے تو وہ کچھ ہی لمحات میں سخت کلامی میں بدل جاتی اور اس کے بعد کئی دنوں کے لئے اس گھر پر سرد مہری کے بادل چھائے رہتے۔
اسے ایک دم یاد آیا کہ وہ بھی ایک وقت تھا۔ اگر اسے گھر آنے میں دیر ہو جاتی تو سجنی اس کا انتظار کر رہی ہوتی اور بے تابی سے اپنی باہوں کا ہار اس کے گلے میں ڈال دیتی۔ مگر آج، آج تو سجنی اُس کے وجود سے بے پرواہ گہری نیند کی وادیؤں میں مگن ہو گی۔ اگلے ہی لمحے اس کی آنکھوں سے چاندنی سے چمکتے ہوئے موتی ٹپک پڑے۔
جگمیت نے جیکٹ کی اندر والی جیب میں سے چابی نکالی۔ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا، رات کی رانی کی بیل کے پاس پڑی ہوئی کرسی پہ ڈھیر ہو گیا، بیل کی کچھ ٹہنیوں کو اپنی طرف کھینچ کر ان کو ہار کی شکل دی اور اپنی گردن کے گرد لپیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔


