ایموجی: ایک نئی عالمی زبان
لفظ معنی کی ترسیل کا واحد ذریعہ نہیں ہیں۔ جب لفظ نہیں تھے معنی تب بھی موجود تھے اور ان کے ابلاغ کا کوئی نہ کوئی ذریعہ بھی موجود تھا۔ وہ ذریعہِ ابلاغ کیا تھا؟ انسانی عقل کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ وہ ذریعہ اشارے، علامتیں، چہرے کے تاثرات اور لمس تھا یعنی آج کا ترسیلِ معنی کا تیز ترین ذریعہ ایموجی، معنی کی ترسیل کا قدیم ترین ذریعہ ہے یوں کہیے کہ جب لفظ بھی نہیں تھے تب ایموجیز تھے۔
جدید عہد میں ایموجی ڈیجیٹل دنیا کی ایسی اصطلاح ہے جس سے ہر وہ شخص بخوبی واقف ہے جس کے ہاتھ میں سمارٹ فون ہے۔ ایموجیز چھوٹی برقی تصویریں یا علامتیں ہیں جو نہ صرف مختصر پیغام رسانی کے لیے استعمال ہوتی ہیں بلکہ انسانی جذبات اور تاثرات کا اظہار بھی ان کے ذریعے ہوتا ہے۔ یہ قواعد لَس زبان ہے جسے سیکھنے کے لیے کسی تردد کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس زبان کے استعمال کا اولین فائدہ وقت کی بچت ہے۔ لفظوں کے اسراف سے نجات ہے، اظہار میں ندرت ہے اور ان کیفیات کا فوری اور آسان اظہار ہے جن کے اظہار کے لیے الفاظ ڈھونڈنے اور ترتیب دینے پڑتے ہیں۔ کلیدی تختہ کھولیں جو کہنا چاہتے ہیں یا اپنی جس حالت کا اظہار کرنا چاہتے ہیں ویسے ایموجی پہ انگلی رکھیں اور بس پہنچ گیا آپ کے دل کا حال آپ کا ضروری پیغام اور آپ کی ظاہری حالت۔
لسانی و ثقافتی معاملات پر نگاہ رکھنے والی عالمی ویب سائٹ سومّا لنگیوا (Summa Linguae) کے مطابق ایک جاپانی مصور کوریتا (Kurita) نے 1999 میں پہلا ایموجی بنایا۔ کوریتا نے پونے دو سو ایموجی تخلیق کیے جو نیو یارک کے میوزیم کی زینت بنے۔ یہ ایموجیز زیادہ تر معلوماتی نوعیت کے تھے لیکن دل کے ایموجی نے فنکار کی صلاحیتوں کو مہمیز کیا کہ وہ جذبات کو شکل عطا کرے۔
سب کچھ بنا دیا جو مرا دل بنا دیا
2007 میں گوگل نے یونی کوڈ کنسورشیم سے ایموجیز کی عالمی معیار بندی کرنے کی گزارش کی۔ 2009 میں ایپل کمپنی کے انجینئرز نے ایموجیز پر کام کرنا شروع کیا اور 2011 میں لگ بھگ ساڑھے چھے سو ایموجیز پر مشتمل پہلا کی بورڈ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ 2015 میں برطانوی سافٹ وئیر کمپنی سوفٹ کی (SwiftKey) کے ماہرین ایموجیز اور ان کے عالمی استعمالات کا جائزہ لینے بیٹھے اور ایک سلسلہ اس نئے شعبے کی باریکیاں سمجھنے کا چل نکلا۔
یہ ایموجیز کا ابتدائی دور ہے۔ ابھی ایموجیز کی تفہیم بھی ایک اچھا خاصا مسئلہ ہے لیکن اس کے امکانات بہت وسیع ہیں۔
ایموجی عالمی زبان تو ہے لیکن اس کے معنی اور استعمالات ابھی مکمل طور پر عالمی نہیں ہیں ان میں فرق ہے۔ مختلف تہذیبوں و ثقافتوں کے تناظر میں ایک ایموجی کے مختلف معنی ہو سکتے ہیں۔ کیا سرخ گلاب ساری دنیا میں رومینٹک پیار کی علامت ہے؟ کیا دل کے ایموجی کا ساری دنیا میں ایک مطلب ہے؟ ایموجیز کا مطالعہ باقاعدہ سماجی لسانیات کی طرح سماج کے تناظر میں کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایموجیز کے مطالعے کی سماجی شاخ ہو گی جو مختلف سماجوں کے تناظر میں مطالعہ کرے گی اور ایموجی کے استعمال بارے مختلف ثقافتوں کے تقابل سے نتائج حاصل کرے گی۔ ممکن ہے ہر سماج کے لیے الگ سے ایموجیز کی بورڈ ہوں مثلاً ہندوستانی کی بورڈ چائنی کی بورڈ امریکی کی بورڈ وغیرہ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایموجی لغات معرضِ وجود میں آئیں نیز ایک ایک ایموجی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے
ایموجیز کی درجہ بندی کی جا سکتی ہے مثلاً جذبات و احساسات کی ترجمانی کرنے والے ایموجیز اور پیغام پہنچانے والے ایموجیز کو الگ الگ شاخوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
اگرچہ ایموجی زبان ہے اور لسانیات کا معاملہ ہے لیکن یہ فنکارانہ معاملہ بھی ہے جذبات اور تاثرات سے تعلق رکھنے والے ایموجیز کی تفہیم تو بالکل تخلیقی عمل ہے جیسے کوئی شاعر کسی شعر یا نظم میں کسی کیفیت کی تصویر بناتا ہے ویسے ہی ایموجیز بھی انسانی کیفیات و جذبات کے تاثرات کی علامتی شکلیں ہیں۔ انسان کے چہرے پہ نمایاں تاثر کو دیکھ کر اس کی کیفیت تک پہنچنا کس قدر فن کاری کا کام ہے بالکل کسی داخلی کیفیات کی دریافت کرنے والے شاعر کی طرح۔
جذبات و احساسات سے متعلق ایموجی بنانے والے فنکاروں کا تصور کرتے ہوئے بار بار منیر نیازی میرے ذہن میں آ رہے ہیں کہ کیسے کیسے نامعلوم جہان دریافت کیے اور اندرونے میں لگے باغ کی خوشبو کے احساس اور خزاں رسیدگی کے امیجز دکھائے۔ یوں لگتا ہے ہر ایموجی ایک شعر ہے ہر ایموجی معنی سے بھرپور ایک تصویر ہے ایبسٹریکٹ آرٹ ہے۔ پکاسو کا فن سربلند رہے۔
کسی بھی چیز پہ غور کیا جا سکتا ہے ہمیں ایموجی پہ غور کرنا اچھا لگا کچھ معلومات، امکانات اور تاثرات یہاں بیان کرتے ہوئے کچھ سوالات ذہن میں آ رہے ہیں قارئین کچھ روشنی ڈالیں کہ
ایموجیز کس حد تک زبان کی ضروریات پوری کر سکیں گے؟
کیا ایموجیز مکمل زبان بن کر لفظوں کی جگہ لے سکتے ہیں؟
کیا لفظوں کی ضرورت ہمیشہ رہے گی؟
ایموجیز انسانی جذبات اور احساسات کے واقعی درست عکاس ہیں یا کچھ خلش یا کمی باقی ہے؟ یا لگتا ہے کہ یہ ایموجی ہے تو اسی مقصد کے لیے لیکن میری کیفیت کی درست عکاسی نہیں کر رہا؟

