کبیر والا تحصیل سے نوبل پرائز تک کا سفر: ڈاکٹر ہرگوبند کھرانا
پنجاب کی دھرتی سے چند گنے چنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے علم سے ایسے چراغ روشن کیے جن کی روشنی پوری روئے ارض پر پھیل گئی۔ ہم میں سے بیشتر لوگ ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے واقف ہیں جنہوں نے طبیعات میں نوبل انعام حاصل کیا لیکن ایک ایسا ہی درخشاں ستارہ 9 جنوری1922 کو رائے پور کبیر والا ضلع خانیوال میں پیدا ہوا جس کو دنیا ہرگوبند کھرانا کے نام نے جانتی ہے۔ آپ نے ماڈرن جینیٹک انجینئرنگ کی بنیاد رکھی۔ شاید ہم ان کا نام بھی نہیں جانتے اگر جانتے بھی ہیں تو اس بات کا علم نہیں کہ یہ موجودہ پاکستان کے ضلع خانیوال سے تعلق رکھتے تھے
ابتدائی تعلیم کبیر والا سے حاصل کرنے کے بعد آپ نے میٹرک کا امتحان دیانند اینگلو ہائی اسکول ملتان سے پاس کیا۔ آپ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے سکالر شپ پر بی ایس سی اور ایم ایس سی کیمسٹری میں ڈگری حاصل کی بعد ازاں آپ1948 میں 26 سال کی عمر میں یونیورسٹی آف لیور پول سے آرگنک کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے میں کامیاب ہو گے۔
آپ پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فارغ التحصیل پہلے نوبل انعام یافتہ سائنس دان ہیں۔ آپ کو تین سال 1963، 1965 پھر 1966 میں نوبل انعام کے لیے نامزد کیا گیا بالآخر 1968 میں میڈیسن میں نوبل پرائز سے نوازا گیا
کھرانا پہلے سائنس دان ہیں جنہوں نے پروٹین تیار کرنے والے نیوکلیک ایسڈز میں موجود نیو کلیوٹاییڈز جو جینیٹک کوڈ پر مشتمل ہوتے ہیں ان کی ترتیب کو واضح کیا۔
1972 میں ڈاکٹر کھرانا دنیا کے پہلے سائنس دان تھے جنہوں نے مصنوعی جین بنانے کا کارنامہ سر انجام دیا جو زندہ اجسام سے باہر تیار ہونے والا پہلا جین تھا۔
اولیگو نیوکلیو ٹاییڈ کو بھی پہلی بار کیمکلی بنانے کا سہرا ڈاکٹر صاحب کے سر ہے۔ آج کل کی ماڈرن جینیٹک انجینئرنگ جس میں اپنی مرضی کا جاندار اور پودا لیب میں تیار کیا جاتا ہے بنیادی طور پر اس کے پیچھے ساری تحقیق ڈاکٹر کھرانا کی ہی ہے
آپ ایک عظیم کیمیا دان، ماہر حیاتیات اور ماہر جینیات تھے
دنیا کی بہترین یونیورسٹیز جیسا کہ یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا، ایم آئی ٹی، کیمبرج یونیورسٹی میں بطور استاد اپنے فرائض سر انجام دیے
9 نومبر 2011 کو دنیا کا عظیم سائنس دان امریکا میں انتقال کر گیا۔


