جاگتے رہنا


رات جب قریبا آدھی گزر جاتی، گلی میں لوگوں کی باتیں ختم ہو جاتیں اور گھروں کی زائد روشنیاں گل ہوجاتی تھیں تو دور سے اس کی لاٹھی کی آواز آنی شروع ہوتی تھی جو وہ زور سے زمین پر مارتا آتا تھا۔ جاگتے رہنا! وہ آواز لگایا کرتا۔ کافی عرصہ تک مجھے اس بندے کو دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا جس نے رات کی تاریکی میں یہ کام انجام دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ جب ہم لوگ روزے رکھنا شروع ہوئے تو معلوم ہوا وہ سحری کے لیے بھی جگاتا تھا اور تب ہم نے اسے عید پر محلے داروں سے عیدی لیتے ہوئے دیکھا اور اس کی پراسراریت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی۔

لیکن اس کی آواز سن کر میں ہمیشہ سوچتی رہتی کیا وہ بہادر بندہ ہے؟ کیا وہ اکیلا رات کے خطروں سے نمٹنے کا اہل ہے؟ کیا اسے بھی اکیلے کام کرنے کا شوق ہے؟ اس کے دوست کون ہیں وہ لوگوں سے کب ملتا ہے؟ لیکن اس سے زیادہ یہ کہ وہ لوگوں کو سونے کے بعد کیوں جگاتا ہے؟ رات کو پہرہ دینے کے لیے اسے آواز لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا صرف اس کا جاگنا کافی نہیں ہے۔ باقی سب کو جاگنے کے لیے کیوں کہتا ہے؟ کیا چور وغیرہ واقعی اس کی وجہ سے وارداتوں سے باز آ جاتے ہیں؟

معلوم نہیں میں اس کی آواز کے انتظار میں جاگ رہی ہوتی تھی یا آواز سن کر میری آنکھ کھلتی تھی۔ لیکن کچھ ہی عرصہ بعد میں نے ایک اور اہم ڈسکوری کی کہ بہت سے کام کرتے وقت ہم سو جاتے ہیں۔ روٹین کے بہت سے کام بہت سی باتیں ہم شعوری طور پر انوالو ہوئے بغیر کرتے ہیں۔ آج کل اس کو آٹو پائیلٹ کہتے ہیں۔ مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی لیکن اس سے مجھے بہت سے سوالوں کے جواب ملے۔ ہم انسان بہت آسانی سے غفلت کی گہری نیند سو جاتے ہیں۔ اور جب ہم سو رہے ہوں تو حقیقت سے ہمارا تعلق قائم رکھنے کے لیے ”جاگتے رہنا“ کی کوئی آواز کوئی شور کوئی حرکت ضروری ہوتی ہے۔

اصل میں ہمارا دماغ جب کسی کام میں کافی اہلیت حاصل کر لیتا ہے تو ہمارے زیادہ سوچے بغیر بھی اس میں کارکردگی دکھانے کا اہل ہوتا ہے۔ یہ صلاحیت انسانی سکل ڈیویلپمنٹ میں کارآمد ہوتی ہے۔ ہم کوئی ہنر ایک دفعہ سیکھتے ہیں۔ کچھ عرصہ مشق کے بعد اس میں اتنے ماہر ہو جاتے ہیں کہ روز مرہ میں دھیان دیے بنا اسے سرانجام دے سکتے ہیں۔ یہاں سے ہمارا ہنرمندی کے اگلے لیولز یا دوسرے متعلقہ ہنر کی طرف سفر شروع ہوتا ہے۔ لیکن اکثر اوقات ہم آگے کی طرف سفر نہیں کرتے بلکہ پہلے درجے ہی پر چیک آؤٹ کر جاتے ہیں اور ہمارا دماغ کہیں اور ہی مصروف ہوجاتا ہے۔

انسانی دماغ کے چیک آؤٹ کرنے کی واحد وجہ آٹو پائیلٹ نہیں ہے۔ انسان عمر کے ساتھ ساتھ لمحہ موجود میں رہنے کا ہنر کھو دیتے ہیں۔ ہم یا تو ماضی کی کسی یاد میں ہوتے ہیں یا مستقبل کے کسی پلان میں۔ کوئی کام کرتے وقت کسی ایسی بات کو سوچنے میں مشغول ہوتے ہیں جو ہو چکی ہوتی ہے یا ہونے والی ہوتی ہے۔ مووی دیکھتے ہوئے جو ابھی سکرین پر چل رہا ہے اس سے ہم یا تو آگے کی کہانی جوڑ رہے ہیں یا پیچھے کی کہانی کا ربط ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن لمحہ موجود کیوں اہم ہے؟

اس سلسلہ میں پرانی پڑھی ایک کہانی میں ایک شخص اپنے شیخ سے مزید علم حاصل کرنے کے لیے آگے جانے کی اجازت طلب کرتا ہے۔ جو اسے ایک پتہ دیتے ہیں اور جب وہ وہاں پہنچتا ہے تو اگلے بزرگ جو شاید اس شہر کے حاکم ہوتے ہیں جاہ و حشم سے دنیا کے کاروبار میں الجھا ہوا پاتا ہے۔ اسے بہت افسوس ہوتا ہے کہ اس کے شیخ نے اسے کہاں بھیج دیا۔

اپنی باری پر وہ اپنا مدعا بیان کرتا ہے اور ساتھ ہی دنیا کی ریل پیل پر اپنی مایوسی کا بھی اظہار کرتا ہے کہ نہ جانے وہ یہاں کچھ سیکھ بھی پائے گا یا نہیں۔ بزرگ اس کو رات آرام سے بسر کرنے اور صبح دوبارہ ملنے کا کہتے ہیں۔ اگلی صبح وہ اسے کہتے ہیں تم شہر کی سیر کر آؤ پھر شام میں مل کر بات کریں گے۔ ساتھ ہی اس کو دودھ سے لبریز ایک پیالہ دیتے ہیں اور شام میں جوں کا توں واپس لانے کا کہتے ہیں۔ ساتھ غلام کرتے ہیں اور کہتے ہیں دیکھنا اگر ذرا بھی دودھ چھلکے تو اس کو فلاں سزا دینا۔

شام کو ملاقات پر وہ طالب سے پوچھتے ہیں ہاں بھئی کیسا لگا شہر؟ کیا کچھ پسند آیا؟ کتنے لوگوں سے ملے؟ سارا دن کیا کیا؟ وہ پھٹ پڑتا ہے کہ آپ بھی خوب مذاق کرتے ہیں۔ کیسی سیر کہاں کے لوگ کون سا شہر۔ میں تو سارا دن پیالے پر نظر جمائے رہا کہ کہیں چھلک نہ جائے۔ جس پر وہ کہتے ہیں پھر تو ہماری مصروفیت کی بھی تمہیں سمجھ آ گئی ہوگی۔ یہاں اس کہانی کا سبق یہ ہے کہ موجودہ لمحے کا ہر لمحہ ادراک رکھنا ایک مشکل ایکسرسائز ہے۔ مگر کرنے کا اصل کام یہی ہے۔

ہماری زندگی میں ہمیں لمحہ موجود سے جوڑنے کی سب سے اہم کڑی ہماری سانس ہے سانس پر قابو سے ہمارے ذہن کے خیالات اور دھیان کا فوکس تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اور سانس کے لیے تو مائنڈ فل زندگی نیو سائنس والے بہت سے ویب سائیٹ نظام تنفس کے طریقوں کو بہتر بنانے کی ترکیبوں سے بھرے ہوتے ہیں۔

خیر ہم میں سے تو بہت لوگ ان طریقوں سے ناواقف ہی بڑے ہو گئے۔ لیکن آج کل ٹین ایجرز کو بڑھتی ہوئی انگزائیٹی کے لیے چار سات آٹھ سانس کی مشق سکھاتے ہیں۔ حالانکہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ بچوں کو پری سکول میں کمپیوٹر سکھانے کی بجائے ٹھیک سے گہرے سانس لینا سکھا دیتے۔ کمپیوٹر تو میں لوگوں کو چھ ماہ میں بھی سیکھتے دیکھا ہے سانس کی کلا سیکھنے میں عمر لگ جاتی ہے۔

اسلامی معاشرے میں اذان اور ہماری نمازیں بھی ایسا طریقہ ہیں جس میں ہم لوگ اپنی زندگی کے آٹو پائیلٹ سے اچانک باہر نکل کر لمحہ موجود میں کچھ دیر قیام کرتے ہیں۔ اللہ کو سامنے رکھتے ہوئے اس سے تعلق مضبوط بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ غفلت سے کچھ دیر کے لیے جاگ جاتے ہیں اور اپنے ارد گرد کی دنیا کو لمحہ حال میں دیکھ اور سمجھ سکتے ہیں۔ یوں جاگتے رہنا انسان میں ہوشمندی رحم دلی، حوصلہ مندی، بہادری جیسے خصائل پیدا کرتا ہے۔ اور معاشرے میں مثبت پرامن خوشحال ماحول پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

لیکن اصل جاگنا اس جاگنے سے مختلف ہے جس میں آج کل بہت سے نوجوان مصروف ہیں۔ ٹی وی پر نہ ختم ہونے والے پروگراموں کو بنج واچ کرتے ہوئے۔ یا دیکھے پڑھے یا سنے بغیر پوسٹ فارورڈ کرتے ہوئے یا سوشل میڈیا کی نہ رکنے والی میلوں لمبی فیڈ سے گزرتے نیم بے ہوش لوگ نہ ماضی میں ہیں اور نہ مستقبل میں۔ اور وہ حال میں بھی نہیں ہیں۔ وہ اپنے آس پاس سے اتنے لاعلم ہیں کہ اگر ان کو ٹیوبز پر بھی ڈال دیا جائے تو انہیں صرف انٹرنیٹ بند ہونے پر کسی تبدیلی کا احساس ہو گا۔

حقیقی جاگنا اس لوگوں کے جاگنے سے بھی مختلف ہے جو گو کہ ابھی سیل میں قید نہیں ہیں۔ لیکن وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں اس سے ان کا دماغی رابطہ منقطع ہوئے بھی عرصہ گزر چکا ہے۔ وہ کھاتے پیتے اور زندہ رہتے ہیں۔ کپڑے خریدتے ہیں۔ فرائض کو کسی دلچسپی کے بغیر غیر حاضر دماغی سے ادا کرتے ہیں۔ وہ کسی نظریے سے وابستہ نہیں ہوتے۔ وہ کچھ نیا یا بہتر کرنے کے بارے میں نہیں سوچتے۔ وہ کسی خیال کو چیلنج نہیں کرتے۔ اپنی روٹین کے سے بڑھ کر کچھ نہیں سیکھتے۔ روز مرہ کی چکی میں صبح سے شام تک ایک ہی طرح مصروف کار رہتے ہیں۔ وہ بھی سوئے ہوئے ہیں۔

کچھ ایسا ہے کہ ”سب انسان مردہ ہیں زندہ وہ ہیں جو علم والے ہیں۔
سب علم والے سوئے ہوئے ہیں بیدار وہ ہیں جو عمل والے ہیں۔
تمام عمل والے خسارے میں ہیں فائدے میں وہ ہیں جو اخلاص والے ہیں۔
سب اخلاص والے خطرے میں ہیں صرف وہ کامیاب ہیں جو تکبر سے پاک ہیں۔ ”

اور جاگنے والے عمل کا اصل مقام لمحہ موجود میں پنہاں ہے۔ یہ موجود لمحہ ہے جہاں پر ہمیں زندگی گزارنی ہے۔ فرشتے اس لمحہ میں کیے گئے ہمارے اعمال اور نیتوں کے اخلاص کا اندراج کر رہے ہیں۔ اس لمحے میں ہمارے تقوی کی مقدار کا تعین ہو رہا ہے۔ اگر ہم اس لمحے میں موجود ہی نہیں ہیں تو اس لمحے کی کھیتی سے ہمارا کیا تعلق بنتا ہے؟

Facebook Comments HS