گبر اور شبر
اپنے یار راجہ رجب سے ہر ملاقات پر لطف ہوتی ہے۔ ایک تو ہر بار وہ کسی نئی بات کو موضوع بنا کر دلچسپ باتیں کرتے ہیں اور دوسرے اپنی معلومات اور ذوق کے تڑکے کے ساتھ اپنے بیان کو ایسا رنگ دیتے ہیں کہ۔ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔
کل کی ملاقات میں بولے۔ یار کسی نے شبر زیدی کا ایک کلپ بھیجا ہے جس میں انہوں نے بڑی قابلِ غور باتیں کی ہیں۔ حضرت ہمارے وزیرِ خزانہ بھی رہے ہیں اور منی سکرین کے مقبول مہمانوں میں سے ایک ہیں لیکن وہ کبھی بھی میری پسندیدہ شخصیت نہیں رہے۔ وجہ بھی عجیب سی ہے۔ ایک تو وہ بڑی بڑی مونچھوں کے ساتھ ماہرِ معیشت کی بجائے تھانیدار دکھتے ہیں اور دوسرے ان کا نام شبر، گبر کا ہم قافیہ ہونے کی وجہ سے انہیں دیکھ کر میری توجہ ہمیشہ شعلے والے گبر سنگھ کی طرف چلی جاتی ہے۔ آپ کو اس فلم میں گبر کے کچھ کڑاکے دار مکالمے تو یاد ہی ہوں گے۔
میں نے کہا اپنی فلموں سے دلچسپی کی بنیاد پر پہلے شعلے کے بارے میں تھوڑی بات کر کے عمرِ رفتہ کو آواز دیں، شبر زیدی کا ذکر بعد میں ہو جائے گا۔
بولے شعلے کے بارے میں تو بہت کچھ کہا گیا اور نا معلوم کب تک کہا جاتا رہے گا، میں بس اتنا کہتا ہوں کہ انڈیا کی بڑی سے بڑی فلم میں بس ایک یا دو کردار ہی امر ہوئے جیسے مغلِ اعظم میں پرتھوی راج کپور، مدر انڈیا میں نرگس، میرا نام جوکر میں راج کپور اور روسی ہیروئن یا شکتی میں دلیپ کمار اور امیتابھ بچن۔ دوسری طرف شعلے کا تقریباً ہر کردار امر ٹھہرا۔ بڑے کرداروں کی تو بات ہی کیا اس میں تو بس ایک مکالمہ بولنے والا سانبھا تقریباً نصف صدی گزرنے کے باوجود اب بھی یادوں میں تازہ ہے۔
میں نے کہا۔ حضور فلم کے حوالے سے آپ کی معلومات کے ہم ہمیشہ سے قائل رہے ہیں، اب ذرا شبر زیدی کے حوالے سے شروع کی گئی بات مکمل کر لیں۔
بولے جس کلپ کا میں ذکر کر رہا ہوں اس میں انہوں نے اینکر سے یہ سوال کیا کہ یہ بتائیں کہ پاکستان میں اتنے بڑے پیمانے پر دستر خوانوں کے اہتمام کا رواج کیونکر پڑا۔ روزانہ کروڑوں کا خرچ، جی ہاں میں سوچ سمجھ کر کروڑوں کہہ رہا ہوں، جسے ضائع ہی سمجھیں۔ اسے اگر غریب اور متوسط طبقوں کے لیے روزگار کے ذرائع پیدا کرنے کے کام لایا جاتا تو ہمارے معاشی اشاریے پھر بھی ایسے ہی قابلِ افسوس ہوتے کیا۔
راجہ رجب بولے میں تو یہ سن کر بس سوچتا ہی رہ گیا، آپ کیا کہیں گے؟
میں بولا۔ گبر سنگھ کے یادگار مکالموں کی طرح شبر زیدی کا مکالمہ بھی لاجواب ہے جی۔


