کیا آپ انسان دوستی کی قدیم اور جدید روایتوں سے واقف ہیں؟


پاکستان کے سفر کے دوران بہت سی نجی محفلوں میں بہت سے اجنبیوں اور دوستوں نے مجھ سے پوچھا کہ
آپ کا فلسفہ حیات کیا ہے؟
اور جب میں نے مودبانہ عرض کی
انسان دوستی
تو انہوں نے مجھے قدرے حیرت سے دیکھا۔

جب ان دوستوں سے مکالمہ آگے بڑھا تو مجھے اندازہ ہوا کہ بہت سے روایتی اور مذہبی مرد اور عورتیں انسان دوستی کی قدیم اور جدید روایتوں سے واقف نہیں ہیں۔

جو لوگ انسانی اخلاقیات کا واحد منبع مذہب کو سمجھتے ہیں ان کے لیے یہ تصور کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ اخلاقیات کا مذہب کے علاوہ کوئی اور سرچشمہ بھی ہو سکتا ہے اور لامذہب انسان بھی نہ صرف باکردار ہو سکتے ہیں بلکہ اپنی زندگیاں خدمت خلق کے لیے وقف بھی کر سکتے ہیں۔ مذہبی لوگوں کے لیے یہ بات حیران کن ہے کہ اگر آپ حیات بعد الموت اور جنت پر یقین نہیں رکھتے تو پھر آپ نیکی کے کام اور دوسرے انسانوں کی خدمت کیوں کرتے ہیں؟

جب ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ جانکاری ہوتی ہے کہ انسان دوستی کی قدیم روایت کئی ہزار سال پہلے چین سے شروع ہوئی۔ چینی فلسفی کنفیوشس اور چینی شاعر لاؤ زو نے انسانوں کو بتایا کہ ایک اچھا انسان بننے کے لیے ہمیں کسی خدا اور کسی مذہب کی چنداں ضرورت نہیں۔ اس کے لیے انسان کی انفرادی عقل اور ضمیر اور اجتماعی شعور اور دانائی ہی کافی ہیں۔

کنفیوشس نے انسانیت کو سنہری اصول کا تحفہ دیا اور کہا کہ “ہمیں دوسرے انسانوں سے ویسا ہی سلوک کرنا چاہیے جیسا کہ ہم چاہیں کہ وہ ہمارے ساتھ کریں۔”

کنفیوشس کے یہ اقوال بھی قیمتی ہیں

۔ جب ہم زندہ انسانوں کے بارے میں پوری طرح نہیں جانتے تو مردوں کی روحوں کے بارے میں کیسے جان سکتے ہیں

۔ میں ہر شام اپنے آپ سے پوچھتا ہوں۔ جو مشورے میں دوسروں کو دیتا ہوں کیا میں خود بھی ان پر عمل کرتا ہوں

۔ ایک دانا شخص کی نشانی یہ ہے کہ جب وہ کوئی چیز جانتا ہے تو کہتا ہے میں جانتا ہوں اور جب نہیں جانتا تو کہتا ہے میں نہیں جانتا

لاؤ زو کے چند اقوال

۔ نیکی پانی کی طرح ہے جو خاموشی سے سب کا خیال رکھتی ہے اور اس نیچی جگہ چلی بھی جاتی ہے جہاں کوئی اور نہیں جانا چاہتا

۔ سچ مخفی ہوتا ہے اس کا کوئی نام نہیں ہوتا
۔ درویش سب کچھ جانتا ہے لیکن خاموش رہتا ہے
۔ ہزار میل کا سفر پہلے قدم سے شروع ہوتا ہے

مذہبی انسانوں کو انسان دوستی کا فلسفہ سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس سماجی حقیقت کو قبول کریں کہ دنیا کے ہر ملک اور معاشرے میں

کلچر مذہب سے پہلے
اور
زبان آسمانی کتابوں سے پہلے
موجود تھی۔

کلچر اور زبان سیکولر اور لامذہب روایتیں ہیں۔ وہ زندہ روایتیں ہیں۔ وہ حالات کے ساتھ بدلتی اور وقت کے ساتھ ارتقا کرتی رہتی ہیں۔

جب کلچر کے ایک حصے کو مقدس بنا دیا گیا تو اس نے مذہب کا روپ اختیار کر لیا اور پھر اس مقدس مذہب کا تعلق خدا ’نیکی بدی اور حیات بعد الموت سے جوڑ دیا گیا۔

اسی طرح ہر زبان میں لوک ورثہ کا ادب موجود تھا۔ جب اساطیری کہانیوں اور روایتوں کے ایک حصے کو مقدس بنا دیا گیا تو انہوں نے آسمانی کتابوں اور صحیفوں کی شناخت اپنا لی۔

جب دنیا میں مذاہب اور صحیفے بن گئے تو مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے انہیں اپنے اقتدار کو قائم کرنے کے لیے استعمال کیا اور جب اصحاب بست و کشاد کو اپنے خلاف بغاوت کو کچلنے کی ضرورت پیش آئی تو انہوں نے مذہب اور بلاسفیمی کا سہارا لے کر اپنے مذہبی اور سیاسی دشمنوں کو کچلا۔

جوں جوں مختلف ملکوں اور معاشروں میں مذہب کی بالادستی قائم ہوتی گئی توں توں ان ملکوں اور معاشروں میں خوف بھی پیدا ہوا اور منافقت بھی بڑھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ مذہبی عبادات اور روایات پر پوری طرح کاربند ہونا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا گیا۔

مغربی دنیا میں جب عیسائی گرجے اور پوپ کا تسلط حد سے بڑھ گیا تو مذہب کی منافقانہ اور جابرانہ روایات کے خلاف احتجاج ہونے لگا۔ مذہب کی بالادستی کی ایک مثال سائنسدان گلیلیو کی غیر انسانی اور غیر اخلاقی سزا ہے۔ گرجے نے گلیلیو کو یہ کہنے پر مجبور کیا کہ اس کی سائنسی تحقیق درست نہیں ہے۔ گرجا مصر تھا کہ سورج زمین کے گرد گھومتا ہے نہ کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ سائنسدان گلیلیو کو اپنی ہی گھر میں قید کر دیا گیا اور اس کی تحقیق پر پابندیاں عاید کر دی گئیں۔ کیتھولک چرچ نے تین سو سال بعد بیسویں صدی میں گلیلیو سے معافی مانگی اور اپنی ماضی کی غلطی کا اعتراف کیا۔

روایتی مذہب کے تسلط اور تشدد سے آزادی حاصل کرنے کے لیے بہت سے غیر روایتی نابغہ روزگار ادیبوں اور شاعروں ’سائنسدانوں اور دانشوروں نے اہم کردار ادا کیا۔

اگر ہم پچھلی دو صدیوں کا جائزہ لیں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ جن دانشوروں نے مذہب اور خدا کو خدا حافظ کہنے اور انسان دوستی کی روایت کو گلے لگانے میں اہم کردار ادا کیا ان میں

ماہر بشریات چارلز ڈارون
ماہر نفسیات سگمنڈ فرائڈ
ماہر معاشیات کارل مارکس
ماہر فلکیات سٹیون ہاکنگ
ماہر ریاضیات برٹنڈ رسل
اور وجودی فلسفی ژاں پال سارتر
کی تخلیقات سر فہرست ہیں۔

ان دانشوروں کی تحریروں نے مذہب کے روایتی بیانیہ کے مقابلے میں ایک سیکولر غیر روایتی بیانہ تحریر کیا جس نے جدید انسان دوستی کی روایت کی بنیاد رکھی۔

اب ساری دنیا کے انسان ایک دوراہے پر کھڑے ہیں۔
ایک راستہ ماضی کی قدیم مذہبی روایات کی طرف
اور
دوسرا راستہ مستقبل کی جدید سائنس اور طب ’نفسیات اور سماجیات کی روایات کی طرف جاتا ہے۔
سن انیس سو میں ساری دنیا کے صرف ایک فیصد لوگ خدا اور روایتی مذہب کو نہیں مانتے تھے
سن دو ہزار میں ان کی تعداد بیس فیصد ہو گئی تھی۔

سکنڈے نیویا کے ممالک ناروے ڈنمارک اور سویڈن ایسے ممالک ہیں جہاں روایتی مذہب اور خدا کو خدا حافظ کہنے والوں اور انسان دوستی کی روایت کو گلے لگانے والوں کی تعداد پچاس فیصد سے بڑھ گئی ہے۔ اب وہ ان ممالک اور معاشروں میں اکثریت میں ہیں۔

اگر ہم انسان دوستی کی قدیم اور جدید روایات کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ یہ روایات خدا اور مذہب کے خلاف ہونے کی بجائے ان روایات سے بالاتر ہو کر زندگی گزارنے کی دعوت اور تحریک دیتی ہیں۔ یہ روایات انسانوں کو یہ باور کرانا چاہتی ہیں کہ ہماری انسان ہونے کی شناخت باقی تمام شناختوں سے زیادہ اہم ہے۔ انسان ہونے کی شناخت مرکزی شناخت ہے باقی سب شناختیں ثانوی ہیں۔

دنیا بھر کے انسان دوست یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر ہم نے دنیا میں پر امن معاشرے قائم کرنے ہیں تو ہمیں رنگ ’نسل‘ زبان اور مذہب کے تعصبات سے بالاتر ہو کر زندہ رہنا سیکھنا ہو گا اور اپنے بچوں کو یہ سکھانا ہو گا کہ ساری دنیا کے انسان بہن بھائی ہیں کیونکہ ہم سب دھرتی ماں کے بچے ہیں۔

دنیا میں سیکولر اور انسان دوست ملکوں اور معاشروں میں اس حقیقت کو قبول کر لیا گیا ہے کہ مذہب انسانوں کا ذاتی معاملہ اور فیصلہ ہے اور ملک کے قانون کی نگاہ میں سب شہری برابر ہیں۔ ان ممالک میں

چاہے کوئی عیسائی ہو یا یہودی
مسلمان ہو یا ہندو
شیعہ ہو یا سنی
کیتھولک ہو یا پروٹسٹنٹ
خدا پرست ہو یا انسان دوست
انہیں اپنی مذہبی ’غیر مذہبی یا لامذہبی روایت پر عمل کرنے اور اپنے ضمیر کی روشنی میں زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہے۔
ایک انسان دوست ہونے کے ناتے میں یہ سمجھتا ہوں کہ دنیا میں اتنے ہی سچ ہیں جتنے انسان اور اتنی ہی حقیقتیں ہیں جتنی آنکھیں۔
میرا موقف یہ ہے کہ چاہے وہ قدیم روایت ہو یا جدید، انسان دوستی کی روایت ہی کرہ ارض پر پر امن معاشرے قائم کرنے کی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ اور اس روایت کا کنفیوشس کا سنہری اصول “دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو جیسا کہ تم چاہتے ہو وہ تمہارے ساتھ کریں” اس کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔

ڈاکٹر خالد سہیل

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 688 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments