رؤف کلاسرا بمقابلہ ٹیلن ٹی وی


گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر سینئر صحافی رؤف کلاسرا اور ٹیلن ٹی وی کے مناقشے کی خبریں بہت گرم ہیں۔ سوشل میڈیا کی خوبی یا خامی یہ ہے کہ اس کو استعمال کرنے والا ہر کوئی صحافی ہے۔ جس کو جو چاہے جو مرضی کہے یا جو دل میں آئے تبصرہ کرے۔ ہر کسی کو آزادی ہے۔ ایک طرح سے یہ اچھی بات ہے کہ ہر فرد آزادیِ اظہار رائے کی آزادی ہے۔ مگر سوشل میڈیا ایسا ہتھیار ہے بعض اوقات لوگ اپنے ہتھیار سے خود کو ہی زخمی کر بیٹھتے ہیں۔

زیرِ بحث مناقشے میں لوگوں کی اکثریت نے رؤف کلاسرا کو ہی مطعون ٹھہرایا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لوگوں کی بڑی تعداد نے اپنی اپنی رائے دی۔ اکثریت جو نہ حقائق سے آگاہ ہے اور نہ ہی فریقین کو جانتی ہے انھوں نے بھی جو دل میں آیا کہہ دیا۔

برادرم رؤف کلاسراء میرے بہت اچھے دوست ہیں۔ ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی باہمی طور پر منسلک ہیں۔ فیس بُک پر زیادہ پوسٹیں ان کی مخالفت میں جب کہ کم ان کے حق میں نظر سے گزریں۔

رؤف صاحب کا موقف فیس بُک اور ٹویٹر پر بھی نظر سے گزرا۔ فیس بُک پر ان کے ایک کمنٹ پر میں مختصراً اور دو لفظی نیک خواہشات کا اظہار کیا مگر کھُل کر بات نہیں کی۔ گو کہ ٹیلن ٹی وی کے مالکان میں سے کوئی بھی میرے ساتھ کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر منسلک نہیں لیکن میں ان کو اور وہ مجھے اچھی طرح سے جانتے ہیں۔

اب دونوں فریقین سے میرا اچھا تعلق اور جان پہچان ہے۔ کلاسرا صاحب خدا انھیں خوش رکھے۔ وہ ہمیشہ بہت عزت دیتے ہیں۔ جب کہ ٹیلن ٹی وی کے مرکزی مدار المہام سلیم بریار صاحب سے بھی جب اپنے عزیز دوست ادریس چیمہ کے توسط سے کسی خاندانی مسئلے کے سلسلے میں ملاقات ہوئی تو انھوں نے معاملے میں بہت دل چسپی لی۔ ان دنوں میں وہ مسلم لیگ (ق ) کے صوبائی عہدے دار بھی تھے۔ وہ میرے ساتھ چوہدری پرویز الہی کے گھر بھی گئے۔ میں ان کے گھر اور کئی بار دفتر بھی جا چُکا ہوں۔ ان کے چھوٹے بھائی اور سابقہ ممبر پنجاب اسمبلی انصر بریار سے دو دہائیوں زیادہ عرصے پر محیط شناسائی ہے۔

خاندانوں کے باہمی ربط و تعلق کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں۔ اللہ بخشے میرے ماموں، شفیق اور اقبال کے مختلف اوقات پر جنازوں اور فاتحہ خوانی میں بریار فیملی کے کئی افراد اور خاص طور پر انصر بریار نے شرکت کی۔ میراننھیالی ڈیرہ بریار خاندان کے گاؤں بھلو والی کے بالکُل قریب تھا۔ سیال کوٹ میں لوگ کم رقبوں کے مالک ہیں۔ گو کہ عموماً زمین زرخیز اور قابل ہے۔ ہماری فیملی اور بریار فیملی بھی چھوٹے رقبوں کے مالک زمین دار تھے۔ بھلو والی کا شاید ہی کوئی فرد ہو جو میرے ننھیالی خاندان سے واقف نہ ہو۔ ایک تو بھلو والی اڈے پر میرے ماموں اقبال اور شفیق طویل عرصے کاروبار سے بھی منسلک رہے۔ اس سے بڑھ کر کئی دہائیاں ماموں اقبال بھلو والی اڈے پر اپنے دوستوں کے ساتھ منڈلی سجاتے رہے۔ قدرتی طور پر ان کی شخصیت ایسی بارعب تھی کہ دیکھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ پھر نا نا جی ماسٹر غلام حسین صاحب کو اردگرد کے کئی دیہات میں ان کی اصول پسند اور وضع داری کی وجہ سے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ یہ ساری کہانی بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بریار فیملی سے بہت پرانی شناسائی ہے اور ان کا سارا عروج میرا آنکھوں دیکھا ہے۔ بریار خاندان کے سلیم بریار کی کہانی علاقے میں قابلِ ستائش کردار کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔

سلیم بریار کی کہانی واقعی ایک قابلِ ذکر واقعہ ہے۔ سلیم بریار نے ایک کم پڑھے لکھے نوجوان کے طور پر میرے ننھیالی گاؤں کے لڑکے آصف عرف آصو کے ساتھ مل کر بطور فُٹ بال میکر کے کام شروع کیا۔ سیال کوٹ میں فُٹ بال بنانے والی بہت سی فیکٹریاں مُختلف کاری گروں کو نواحی علاقوں میں اپنے نمائندے کے طورمقرر کر لیتی۔ وہ لوگ فُٹبال بنانے کا سامان عموماً اپنی موٹر سائیکلوں یا پبلک ٹرانسپورٹ پر لے آتے۔ کچھ کاری گر انھوں نے اپنی دکان پر بٹھائے ہوتے اور کچھ لوگ گھروں میں فُٹ بال بنانے کا سامان لے جاتے۔ بعض گھروں میں خواتین بھی فُٹ بال سیتیں۔ یہ کام تقریباً سیال کوٹ کے ہر گاؤں محلے میں ہوتا۔ ہمارے گاؤں کے آصف کا کام بھی عروج پر تھا۔ مگر ایک وقت آیا کہ وہ بُری صحبت کی وجہ سے ہیروئن پینے کا عادی ہو گیا جب کہ سلیم بریار پوری توجہ سے اپنے کام پر لگے رہے۔ ان کا کوئی بھائی یورپ گیا اور وہاں سے کوئی آرڈر لینے میں کام یاب ہو گیا اور یوں بریار فیملی کی قسمت جاگ اُٹھی۔ ایک کے بعد دوسرا آرڈر ملتا گیا اور پھر نوے کی دہائی کے اوائل میں انھوں نے ٹیلن سپورٹس کی بنیاد رکھی۔ رب نے مہربانی کی اور بریار فیملی نے قابلِ رشک ترقی کی۔ ایک بھائی ایم پی اے بنا۔ دوسرا سیال کوٹ چیمبر آف کامرس کا صدر، سیال ائر لائن اور سیال کوٹ ائر پورٹ کا اعلیٰ عہدے دار بنا۔

ہاؤسنگ سیکٹر میں بھی کامیابی حاصل کی۔ 2018 کے الیکشن میں سلیم بریار نے اپنے بڑے بیٹے کو ایم این اے کا الیکشن لڑوایا اور دس ہزار کے لگ بھگ ووٹ لئے۔ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن ) نے رانا شمیم اور تحریکِ انصاف کے بریگیڈیئر اسلم گھمن تھے۔ سلیم بریار کے چھوٹے بیٹے کی شادی معروف بیورو کریٹ طارق خورشید کی بیٹی سے ہوئی۔ یہ وہی طارق خورشید ہیں جو عثمان بزادر کے سیکرٹری اور ٹی کے کے نام سے معروف تھے۔ سیال کوٹ کی معروف سیاسی فیملی وریو خاندان کے خوش اختر سبحانی کی وفات کی وجہ سے خالی ہونے والی سیٹ پر سلیم بریار کے چھوٹے بیٹے نے وریو فیملی کے خلاف تاریخی اپ سیٹ کیا اور مسلم لیگ (ن) کے طارق سُبحانی کو شکست دی۔

سلیم صاحب کا یہی بیٹا بزدار کیبنٹ میں بطور مشیر بھی شامل رہا۔ یہ وہ دور تھا جب مسلم لیگ (ق ) سے سلیم بریار نے اپنی راہیں جدا کر لیں۔ ان کے بیٹے نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ایم پی اے الیکشن لڑا تھا۔ چند سال قبل بریار فیملی ٹیلن ٹی وی کے نام سے لائسنس لے چُکی تھی۔ آج تک کسی کو یہ علم نہیں تھا کہ ٹیلن کا کیا مطلب ہے۔ ٹیلن ٹی وی میں ڈائریکٹر رہنے والے گُلِ نوخیز اختر کے ایک کالم سے علم ہوا کہ ٹیلن کا مطلب عقاب کا پنجہ ہے۔ یہ لفظ کسی یورپی زبان کا ہے۔

بہرحال ٹیلن ٹی وی کا جب آغاز ہوا تو رؤف کلاسرا نے بھی بطور اینکر جائن کیا۔ اب پتا چلا کہ دو مہینے بعد ہی انھیں الوداع کر دیا گیا تھا۔ اب کلاسرا صاحب نے اپلائی تو نہیں کیا تھا کہ مجھے رکھیں۔ چینل نے اپنی مجبوری کی وجہ سے رکھا ہو گا۔ باہمی طور رضا مندی سے ہی کام کی شرائط طے ہوئی ہوں گی۔ اگر باہمی طور پر گزارہ نہیں ہو سکا تو یہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہونا چاہیے تھا۔ اگر کلاسرا صاحب نے معاہدے کے مطابق واجبات کی ادائی کا مطالبہ کیا ہے تو اس میں کیا برائی ہے۔ ہاں البتہ ّ معاملات باہمی طور پر مل کر خوش اسلوبی کے ساتھ طے کیے جا سکتے تھے۔ مجھے آج بھی یہ یقین ہے کہ میں اگر کلاسرا صاحب کو معاملہ نپٹانے کا کہوں گا تو وہ میرا مان رکھیں گے۔ بریار صاحب اگر آپ سیال کوٹ کے جٹ ہیں تو کلاسرا بھی لیہ کا جٹ ہے وہ بھی نقصان کر لے گا مگر ہٹ نہیں چھوڑے گا۔

جیسا کہ تفصیلاً ذکر ہو چکا۔ سلیم بریار بھی ایک وضع دار، جہاں دیدہ اور سمجھ دار کارو باری ہیں۔ دونوں فریق کوشش کریں کہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا جائے۔ میرے جیسے بھائی لوگ جو رؤف کلاسرا کے معاوضے پر جزبز ہو رہے ہیں ان سے گزارش ہے۔ مارکیٹ میں معاوضے میں اور آپ طے نہیں کرتے یہ مارکیٹ ویلیو ہوتی ہے جو کسی فن کار، ماڈل، سیلبرٹی یا اینکر کا معاوضہ طے کرتی ہے۔ دونوں فریق راضی ہوتے ہیں تو معاملہ طے پاتا ہے۔

اگر چینل لاکھوں میں معاضہ دیتے ہیں تو اینکر کی وجہ سے کروڑوں کماتے ہیں یا اپنی ساکھ بناتے ہیں۔ اس معاملے کا زبان زدِ خاص و عام ہونے سے جہاں عام آدمی کو لب کشائی کا موقع ملا ہے اور بہت سے بھیدوں سے پردہ اُٹھا ہے وہاں یہ بھد نہ اُڑتی تو فریقین کے لئے اچھا ہوتا۔ مگر بیل بھڑتے وقت کہاں سوچتے ہیں کہ ان کے سینگ پھنسنے سے زور ان کا لگے گا، لوگوں کے لئے تو یہ تفریح ہوگی۔

Facebook Comments HS