ہم کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں؟


دنیا کی تاریخ بہت سی قوموں کی کامیابیوں اور ناکامیوں سے بھری پڑی ہے جو قومیں کامیاب ہوئیں
ان کے پیچھے کون سی وجوہات تھیں

اور جو قومیں ناکام ہوئیں ان کے پیچھے کون سی وجوہات تھیں ان کا اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو کچھ حقائق سامنے آتے ہیں، ذیل میں ہم ان کا اختصار کے ساتھ جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔

جو بھی قومیں ترقی یافتہ رہیں ان میں سب سے اہم ان کا اتفاق اور نظم و ضبط تھا ان کی روایات ترقی پسند تھیں، وہ غیر ضروری چیزوں میں الجھنے کے بجائے مقصدیت کو فروغ دیتے تھے فکری اختلاف کو ذاتی اختلاف میں نہیں بدلتے تھے۔ مخالف نظریات کو برداشت کرتے یا کم از کم ایک خاص مارجن ضرور دیتے تھے جبکہ جو قومیں اس کے برعکس چلتی تھیں وہ تباہی کا شکار ہو گئیں اور لایعنی بحثوں میں الجھ کر رہ گئیں ان کے پاس اپنے شاندار ماضی کے گن گانے کے علاوہ کوئی سرگرمی نہیں۔

دوسری اہم وجہ : جو بھی قومیں ترقی یافتہ رہیں ان کے مقاصد واضح تھے کسی قسم کا ابہام موجود نہ تھا چاہے وہ سیاسی مقاصد تھے یا معاشی حکمت عملی بالکل واضح تھی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو حکمرانوں کی پالیسی پر اعتماد تھا کہ یہ جو پالیسی دیں گے بالکل واضح ہوگی اور پلک جھپکتے میں تبدیل نہیں ہوگی جبکہ اس کے برعکس جہاں ابہام ہوتا وہ قومیں اپنی وقعت کھوتی چلی گئیں

تیسری اہم وجہ جو قومیں ترقی یافتہ کہلائیں ان کا ہر اک فرد معیشت میں اپنا حصہ ڈالتا اور کم سے کم افراد پر معاشرہ یا ریاست پر بوجھ ہوتا یعنی قوم کی productivity بہت زیادہ تھی جس کی وجہ سے وہ قومیں ترقی یافتہ کہلائیں جبکہ جن قوموں میں آدھی آبادی کام کرتی اور آدھی آبادی بیٹھ کر کھاتی وہ قومیں دیکھتے ہی دیکھتے دینے والوں سے لینے والوں میں شامل ہو گئیں

چوتھی اہم وجہ جو بھی قومیں ترقی یافتہ کہلائیں انھوں نے معاشرے میں ایمانداری اور اصولوں کو فروغ دیا۔ قانون کی بالادستی قائم کی اور جرائم کو کنٹرول کرنے کے لیے عدل و انصاف کا بول بالا کیا جن معاشروں میں عدل و انصاف / چیک اینڈ بیلنس رہا وہ معاشرے اور قومیں دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کی منازل طے کر گئیں اور جہاں معاملہ اس کے برعکس رہا وہ ٹوٹ پھوٹ اور خلفشار کا شکار ہو گئے

تعلیم و تربیت یہ وہ فیکٹر ہے جو کسی بھی قوم کو دنیا میں عظیم بنانے کے لیے اہم ترین ہے انسانی دماغوں پر سرمایہ کاری کرنے سے جو ثمرات سمیٹے گئے ہیں اس کو الفاظ میں بیان کرنا شاید ممکن نہیں ہم اپنے ارد گرد دیکھنے سے ہمیں یہ اندازہ کرتے ہوئے کسی قسم کی کوئی مشکل پیش نہیں آتی کہ جن ممالک نے تعلیم تربیت اور ریسرچ کو اپنا شعار بنایا آج ان کے شہری ہم سے کتنے خوشحال ہیں اور ان کی تیار کردہ مصنوعات کا توڑ ہمارے پاس موجود ہی نہیں

دور جدید میں ہم اگر جائزہ لیں کہ کس قوم نے اپنی قوم کو صحت مند رکھنے میں اپنی معیشت کا کتنے فیصد صرف کیا ہے تو اس کے بعد ہمیں ان کی کامیابی اور ناکامی کا اندازہ کرنے میں کسی قسم کی مشکل پیش نہیں آئے گی امریکہ ہو یا یورپی ممالک یا چین ان سب نے اپنے عوام میں صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دیا ہے اور یہی ان کے ترقی یافتہ ہونے کا واضح ثبوت بھی ہے

اب تک کے جائزے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ کیا پاکستان میں ہم یہ سب کرنے میں کامیاب رہے یا ناکام؟ اس کا واضح جواب نہ کی صورت میں ہے ہمیں سب سے پہلے تو قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا ہو گا اور پھر اپنی پالیسیوں کا رخ متعین کرنا ہو گا طویل المدت قلیل المدت اقدامات کرنے ہوں گے اور ان پالیسیوں کا تسلسل کرنا ہو گا چند افراد کے مفادات کے لیے ان پالیسیوں کو قربان نہیں ہونے دینا ہو گا یعنی قومی اور عوام کے اجتماعی مفادات کا تحفظ ہر صورت کرنا ہو گا وگرنہ یہ کشمکش جاری رہے گی اس کشمکش کے نتیجے میں کچھ افراد کی انا کی تسکین تو ہو سکتی ہے مگر بطور ریاست ہم پستی کی گہرائیوں میں جا دھنسیں گے۔

Facebook Comments HS