نظریہ انسانیت


سوشل میڈیا ہر کچھ خبریں ایسی ہوتیں ہیں جو آپ کی روح کو جھنجوڑ دیتی ہیں۔ لیکن آپ چاہتے ہوئے بھی ان مظالم کو روک نہیں پاتے مگر ایک لکھاری کے پاس قلم سے بہتر کوئی ہتھیار نہیں ہوتا ہے۔

ہم صرف الفاظ ہی نہیں لکھتے، بعض اوقات سیاہی کے روپ میں ہم مظلومین کے یا اپنے خون جگر سے تحریر لکھ رہے ہوتے ہیں۔

کہیں بھی جب میں کوئی نا انصافی، حقوق کی پامالی یا کوئی ظلم ہوتا دیکھتی ہوں تو مجھے واقعہ کربلا کی یاد آ جاتی ہیں۔

کاش ہم نے کربلا کو پڑھا ہی نہیں سمجھا بھی ہوتا۔ تو آج انسانیت اور اس کے حقوق کی یوں پامالی نہ ہوتی۔ کربلا میں جہاں عشق الٰہی اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔ خدا کی راہ میں ہر قربانی دے کر بھی مطمئن اور صابر نظر آتا ہے۔ وہیں ہر رشتے کی محبت اور احترام کی عظیم مثالیں موجود ہیں۔ انسانیت اور حق اور باطل کو پہچاننے کی صلاحیت موجود ہے۔

عباسؑ جو اپنی بہن زینب عالیہؑ کے سامنے احترامً سر جھکائے رکھتے ہیں جبکہ عباسؑ تو فخر زینبؑ عالیہ ہیں۔ سکینہؑ جو بابا کے دل کا سکون ہیں۔ قاسمؑ جو اپنے چچا پر خود کو قربان کرنے کو تیار ہیں۔ اکبرؑ جو وقت شہادت بھی اپنی بچھڑی بہن صغراؑ کو یاد کر رہے ہیں۔

سکینہؑ جنہیں بہت دنوں بعد پانی ملتا ہے پیاس کی شدت کے باوجود وہ پانی پیتی نہیں بلکہ اپنے قیدی بھائی حضرت زین العابدینؑ کی زنجیروں پر ڈالتی ہیں جو دھوپ کی شدت سے گرم ہو کر امامؑ کو تکلیف دیتیں تھیں۔ دوست کی الفت کا معیار جانچنا ہو تو حبیب ابن مظاہرؑ کو دیکھ لیجیے۔

حق اور باطل کی پہچان کوئی حُرؑ سے سیکھے۔

جبکہ عورت کی شجاعت، صبر اور حقوق کی جنگ کو دیکھنا ہو تو زینب عالیہؑ کو یزید کے دربار میں خطبہ دیتے دیکھیے۔

قربانی، ایثار، محبت، صبر اور شجاعت جیسی صفات سے بھرپور ہے کربلا۔ آج جب میں دل دہلا دینے والے واقعات پڑھتی ہوں کہ کسی بھائی نے بہن کو قتل کر دیا، کسی باپ نے بیٹی کو ایذا پہنچائی، کسی بھتیجے نے جائیداد کی خاطر چچا کو قتل کر دیا اور کبھی ایک خاتون کو اس کے لباس پہ چند حروف لکھنے کے باعث ہجوم اکٹھا ہو کر اسے توہین مذہب کا مجرم ٹھہراتا ہے۔ تو مجھے لگتا ہے ہم زمانہ جاہلیت میں ہیں جہاں مقدس رشتوں کی پامالی ہو رہی ہے۔ بہن، بیٹیوں کو عرب بدووں کی مثل دفن کیا جا رہا ہے۔ لیکن یہ سب تو رسول ﷺ اور آل رسول ﷺ کے دنیا میں آنے سے پہلے ہوتا تھا۔ رسول پاک ﷺ کی تعلیمات اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے والے کیونکر ایسے ہو سکتے ہیں۔

”ہر زمین کربلا ہے ہر روز عاشور ہے“ آج بھی ہر جا کوئی نہ کوئی مظلوم ہے اور اس کے مد مقابل ظالم جبکہ کچھ لوگ کوفیوں کی مثل ان مظالم پر خاموش ہیں۔ جب تک خاموشی رہے گی مظالم جاری رہیں گے۔

تمام تر تعلیمی ذرائع اور قوانین ہونے کے باوجود کیا وجہ ہے کہ معاشرے میں انسانیت پامال ہو رہی ہے۔ مسلمان ہو کر رحمت العالمین کے پیروکار ہو کر بھی ہم انسانوں پر رحم نہیں کر رہے۔

تو پھر دوسروں سے کیا اُمید رکھتے ہیں کہ وہ ہم پر رحم کریں۔ انسان کے مذہب کی پہچان اُس مذہب کی تاریخ پڑھ کر نہیں ہوتی۔ انسان اپنے مذہب کی پہچان اپنے کردار کی وجہ سے کرواتا ہے۔ بے ایمانی، جھوٹ، نا انصافی، دہشت گردی کر کے یہ اُمید رکھنا کے لوگ آپ کے مسلمان ہونے پر فخر کریں۔ اس سے بڑی بیوقوفی کیا ہو سکتی ہے۔

پہلے تو خود کے کردار کو ایسا بنایا جائے کے آپ سے کسی کو ایذا نہ پہنچے دوسری بات

یہ ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ اپنے ارد گرد ہونے والے مظالم پر کوفیوں کی طرح خاموش رہنا ہے یا انہیں روکنا ہے؟

کربلا صرف شیعہ یا سنی کی نہیں، نہ صرف مسلمان کی ہے۔ کربلا صرف ”انسان“ کی ہے۔ حسینیت در حقیقت درس انسانیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ہر مذہب ہر قوم کے انسان کے لیے اپنی جانب کشش رکھتی ہے۔

ہندو، سکھ، عیسائی ہوں یا مسلمان ہر کسی کا کربلا کے بارے ایک ہی نظریہ ہے۔ یہی نظریہ حق اور باطل کی پہچان کو جانچنے کا معیار ہے۔ ایک انسان کے لیے کربلا کو سمجھنا زندگی کو آسان کر دیتا ہے۔

Facebook Comments HS