بارے فارمی مرغی کے
شفیق خلش کی غزل کا مشہور ضرب المثل شعر ہے کہ
ٹپکے ان پر رال برابر
گھر کی مرغی دال برابر
یار فیصل مرغی کے ریٹ کا کچھ اندازہ ہے؟
میں اس بے حیا سے باز آیا۔
فیصل یہ کیا جواب ہُوا یار جانوروں میں کیسی بے حیائی، اللہ نے جیسا بھیجا ویسے ہی رہے۔ اور پرندوں میں مرغ یا مرغی ان جانوروں یا پرندوں میں شامل ہے جس میں اردو کا بہت کام ہے یار محاورے، ضرب الامثال، شاعری بہت کچھ ہے یار میں اسے اس طرح بے حیا کہہ کر نا انصافی نہیں کر سکتا۔ اور مجھے بہت حیرت ہے یار تم نے پرندوں میں بھی بے حیائی محسوس کرلی۔ حد ہوتی ہے! ابھی الیکشن ہوئے ہیں اس میں سلوگن تھا سوچ بدلو یار تو کچھ تو خیال کر لیتا۔
دیکھ ایمی! افزائش نسل کی سادہ ترکیب یہی ہے کہ ہر جنس کو کبھی نہ کبھی اپنے مخالف جنس کی ضرورت بہر حال رہتی ہے اور اسی تعلق سے افزائش نسل کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔ انسان ہو کہ جانور چرند ہو کہ پرند یہی معمول ہے اور یہی ملاپ نسلوں کی افزائش کا سبب رہا ہے۔
یہ تجھے تولیدی خیالات کیوں آرہے ہیں؟
ایمی یہ محض خیالات نہیں افزائش کے لئے عمومی بیانیہ ہے یہ بے حیا گوشت ہے، غیر انسانی طریقوں پہ تیار ہوتا ہے، اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس پورے پراسیس میں مرغے سے پوچھا ہی نہیں جاتا۔
مرغے سے پوچھنا یا مرغے کو پوچھنا؟
یار اب جو بھی ہے یہ پورا عمل غیر انسانی ہے میں اس کے حق میں نہیں اور نہ صرف عمل بلکہ اس عمل سے حاصل شدہ مرغی کے بھی حق میں نہیں، سوچ یار دکانوں پر مرغی ہی لکھی ہوتی ہے کیا فارمی مرغا نہیں ہوتا؟ اور ہوتا ہے تو مرغے کا گوشت کیا کلو ہے یہ بتا؟ ہر جگہ ایک ہی آواز ہے مرغی اتنے کی، مرغی کا سینہ، مرغی کی گردن، مرغی کی رانیں او یار یہ اتنی مرغیاں بغیر مرغے کے کیسے تیار ہو گئیں، یہ طریقہ میری سمجھ سے باہر ہے اس لیے میں نے مرغی کھانا چھوڑی ہوئی ہے۔ کم از کم میں اس بے حیائی میں شامل نہیں ہونا چاہتا اس لیے ترک کر چکا یہ گوشت۔
یار اب تو مرغی اک صنعت کے درجے کے طور پر ہے پورے پورے کاروبار اس سے جڑے ہوئے ہیں اور فرنچائزز کا پھیلتا ہوا نیٹورک دیکھو یہ سب کیسے ریورس ہو گا بھائی، اب یہ جو بھی ہے ایسے ہی جاری رہے گا۔ لوگ دیوانے ہیں یار بروسٹ و برگر کے، تمہیں تو یاد ہو گا ہمارا مشترکہ دوست جب مکہ جا رہا تھا تو اس کی وہاں کی مشہور مرغی بروسٹ کی کمپنی سے رغبت کو دیکھتے ہوئے اسے تاکید کی تھی کہ تلبیہ پڑھتے ہوئے دھیان رکھنا کہیں اللھم البیک نہ پڑھ دینا۔
ہاں اور اسے ہم نے یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ جب مرغی کی گردن پہ بائیٹ لے تو ذرا آرام سے کچھ بھی ہے مونث ہے۔
فیصل مجھے تمہارا غم کچھ مردانہ سا لگتا ہے، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تمہیں مرغی سے زیادہ مرغے کی بے بسی، اس پر بے توجہی اور اس کی ایسی ناقدری پہ افسوس ہے۔
ہاں ایمی مجھے شدید احتجاج ہے اس بات پر یہ وہ مرغیاں ہیں کمبخت ماریاں کہ جن کے انتظار میں مرغوں کی اذانیں بیکار جا رہی ہیں، بیچارے کیا سوچ کہ اکڑیں اب کوئی فائدہ نہیں مرغیوں کی مرغوں سے اس بے وفائی نے ہی شاید مرغوں کو لڑاکا بنا دیا ہے مرغا اب صرف لڑائی میں استعمال ہو رہا ہے وہ بھی دیہات میں انتہائی فارغ وقت یا یوں کہوں کہ جب دیہاتی سب دھو چکے ہوتے ہیں تب ککڑوں کی دھلائی مرا مطلب لڑائی دیکھتے ہیں۔
تو یار فیصل مرغا تنہا یہ جنگ کب تک لڑے گا اس لیے ہم مذکروں پہ لازم ہے کہ مرغیاں پھوڑیں، شدید پھوڑیں احتجاجاً پھوڑیں، یہ بد کردار مرغیاں جو بغیر مرغوں کے انڈے دے رہی ہیں، سرکار سے التجا ہے کہ کوئی واعظ فارم ہاؤس پہ تعینات کرو مردانگی لیرو لیر ہو رہی ہے۔
یہ کہہ کر ہم قریبی جانو بروسٹ کی طرف چل پڑے جہاں کافی جانو مرغیاں لڑاتے ہوئے ملے۔ ایسے میں فیصل کا غم مزید کم کرنے کے لئے اسد جعفری کی مشہور نظم کا ایک قطعہ اسے سنایا۔ کہ
اے مرے مرغے مرے سرمایہ تسکینِ جاں
تیری فرقت میں ہے بے رونق مرا سارا مکاں
کون دے گا رات کے بارہ بجے اٹھ کر اذاں
تیری فرقت میں یہ دل تڑپا، جگر نے آہ کی
کھا گئی تجھ کو نظر شاید کسی بد خواہ کی
فیصل کی آنکھوں میں مرغے کی غیرت کے لئے نکلتے ہوئے آنسو دیکھ کر میں نے فوراً آرڈر دیا ایک مرغی سالم چھری کانٹوں کے ساتھ۔



Ami bhai buhat zabardast tahreer hay