میرا جسم اور میری مرضی، کل اور آج
ٹوبہ ٹیک سنگ میں بھائی اور باپ کی اجتماعی زیادتی اور قتل کو سامنے رکھتے ہوئے میں میرا جسم اور میری مرضی کے نعرے کو بحق سمجھتا ہوں۔ اور جب میں اپنے معاشرے کو اس کے خلاف دیکھتا ہوں تو عجیب لگتا ہے۔ کیونکہ یہ ان نعروں کو دوسرے چیزوں کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں جن کا حقیقت میں ان سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ پورے سال میں خواتین کی ایمپاورمنٹ کے حوالے سے ایک پروگرام ہوتا ہے۔ جس کا بنیادی مقصد عورت کی زندگی کے حوالے سے شعور پیدا کرنا کہ اس کی بھی اپنی ایک زندگی ہے۔
مگر اس دن کے خلاف ہر سال کئی محاذ کھول جاتے ہیں اور یہ ان کی انتہا آٹھ مارچ کو پہنچ جاتی ہے۔ باقی بروقت ضرورت ہمارے چورن بچنے والے کچھ یوٹیوبر اس کے خلاف لگے رہتے ہیں۔ آج سے تین سال پہلے مجھے اخبار میں یہ نعرہ لگی ایک خاتون کی تصویر ملی۔ اس اخبار کے رپورٹ میں خواتین مارچ کے خلاف کچھ باتیں درج تھیں۔ جیسا کہ یہ غیر شرعی معلمات کو فروغ دینے والی عمل ہے۔ اور ہمارے اداروں کو چاہے کہ اس کو بند کر دیں۔ اس کے ایک سال بعد اس دن میں اس مارچ کو دیکھنے پریس کلب پہنچا۔
ادھر جا کے وہ خاتون دیکھی۔ اس سال بھی اس کے ہاتھ میں وہی پلے کارڈ تھا۔ کچھ دیر بعد میں نے ہمت پکڑی اور اس کو سلام کیا۔ ایونٹ کے بعد اس نے مجھے بولا لیا۔ ادھر جا کہ پتہ لگا کہ وہ کسی پشتون خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور پچھلے کئی عرصے سے خواتین کے حقوق اور ان کی تعلیم پر کام کر رہی ہیں۔ ان کے ساتھ مجھے فرزانہ باری ملیں۔ جو خواتین کے ساتھ ظلم و زیادتی کے خلاف ہر وقت سرگرم نظر اتی ہیں۔ اور جب ان سے تعارف ہوا تو پتہ چلا کہ وہ بھی ایک پشتون فیملی سے تعلق رکھتی ہیں۔
اتنی پشتون خواتین کو دیکھ کر مجھے کچھ عجیب لگا کیونکہ میں نے تو بلوچوں اور پشتون کو خواتین کے معاملے میں سخت پایا۔ مگر اپنے اس حیرانی کو ساتھ لے کر شام کو امداد آکاش کے سامنے حاضر ہوا۔ جو میرے نظریاتی استاد ہیں۔ ان سے اپنا ماجرا بیان کیا۔ انہوں نے اپنے ذاتی لائبریری سے دو کتابیں اٹھا کر دے دیں۔ ان کو پڑھنے کے بعد میں اس نتیجہ تک پہنچا کہ یہ مارچ پاکستان کے ہر کونے تک ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ کوئی ذاتی فائدہ کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے بھلائی کا کام ہے۔
اور اس کا تاریخی پس منظر ہے۔ 8 مارچ کے دن کو ایک صدی سے خواتین کی دن کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ خواتین کا عالمی دن ایک مزدور تحریک کے طور پر شروع ہوا تھا اور اب یہ اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ دن ہے۔ اس دن کا ابتداء 1908 میں نیویارک شہر سے ہوا جب 15000 خواتین نے کام اور تنخواہوں میں برابری، ووٹ کے حق کے لیے احتجاج کیا۔
ایک سال بعد سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے پہلا قومی یومِ نسواں منایا۔ سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے خواتین کے پہلے قومی دن کا اعلان کیا تاہم اسے بین الاقوامی بنانے کا خیال سب سے پہلے کلارا زیٹکن نامی خاتون کے ذہن میں آیا جو کہ ایک کمیونسٹ اور خواتین کے حقوق کی کارکن تھیں۔ خواتین کے عالمی دن کو باقاعدہ طور پر 1975 میں تسلیم کیا گیا۔ آج خواتین کا عالمی دن معاشرے، سیاست اور معاشی میدان میں خواتین کی ترقی کے طور پر منایا جاتا ہے جبکہ اس کے پیچھے سیاسی جڑوں کا مقصد عورتوں اور مردوں کے درمیان عدم مساوات کے بارے میں بیداری پھیلانا ہے۔
8 مارچ کی تاریخ 1917 تک متعین بھی نہیں ہوئی تھی جب پہلی عالمی جنگ کے دوران روسی خواتین نے ’روٹی اور امن‘ کے مطالبات کے ساتھ ہڑتال کر دی اور چار دن کے بعد روسی سربراہ کو حکومت چھوڑنی پڑی اور خواتین کو ووٹ کا عبوری حق مل گیا۔
جس دن روس میں خواتین کی ہڑتال شروع ہوئی تھی وہ جولیئن کیلنڈر میں 23 فروری تھا جو موجودہ کیلنڈر میں 8 مارچ ہے اور اسی لیے یہ آج کی تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم دنیا کے ساتھ ساتھ اپنے گھر کے خواتین کی مسائل سے بھی بے خبر ہیں باقی اگر ہم اپنے پڑوسی ممالک پر نظر ڈالیں تو چیزیں انتہا کو پہنچی ہوئی ہیں۔ آپ کو پتہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران افغانستان، ایران، یوکرین اور امریکہ جیسے کئی ممالک میں خواتین پر کیا گز رہی ہے!
افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی سے انسانی حقوق پر پیشرفت رک گئی کیونکہ خواتین اور لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول سے روک دیا گیا ہے۔ ان پر زیادہ تر کام گھر سے باہر کرنے اور مرد سرپرست کے بغیر طویل سفر کرنے پر پابندی ہے۔
ایران میں مہسا امینی نامی 22 سالہ خاتون کی ہلاکت کے بعد ایران میں مظاہرے ہوئے جن کا سلسلہ سال تک جاری رہا۔ ایران میں بہت سی خواتین اور مرد اب خواتین کے بہتر حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہ موجودہ سیاسی قیادت میں بھی تبدیلی چاہتے ہیں۔ ان مظاہرین کا نعرہ ہے ’عورت، زندگی، آزادی‘ ۔
24 فروری 2022 کو روسی فوج نے یوکرین پر حملہ کیا۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے یوکرین میں خواتین اور مردوں کے درمیان خوراک کی کمی، غذائی قلت اور غربت کے حوالے سے خلیج بڑھی ہے اور جنگ کی وجہ سے قیمتوں میں اضافے اور قلت کے باعث یوکرین میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ فلسطین کی خواتین کے درد کی داستان تو ہم سب کے سامنے ہیں۔
ہم اپنے وطن عزیز کو دیکھیں۔ صرف ایک مہینہ میں عورتوں کے ساتھ زیادتی کے کتنے کیسز آئی ہیں؟ گلگت میں پچھلے ایک ماہ میں تین واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان سارے معاملات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت وقت کو ڈومیسٹک وائلینس پر ایک بل منظور کروانا چاہیے۔ تاکہ خواتین بھی اپنے آپ کو محفوظ سمجھیں اور معاشرے کے لئے کوئی کام کر سکیں۔


