کیا آپ کو مفت مشورہ چاہیے؟


غلام محمد قاصر نے کیا خوب کہا ہے
کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

قاصر صاحب سے معذرت کے ساتھ، ہم اس میں کچھ یوں تبدیلی کرتے ہیں
کروں گا کیا جو فضول بولنے پر لگ گیا ٹیکس
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

زیادہ تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، آپ کو اپنے اردگرد ایسے کئی افراد مل جائیں گے، جن کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک مشورے ہوتے ہیں، وہ بھی بالکل فری، دوسروں کے کاموں میں بلاوجہ مداخلت ہمارا طرہ امتیاز ہے، نہ جان نہ پہچان، میں تیرا مہمان، ہم مفت مشورے دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں،

کچھ مثالیں ہم آپ کو بتائے دیتے ہیں
جیسے یہ پوچھنے کے لیے تو اکثر لوگ بے تاب ہوتے ہیں کہ آپ کی شادی ہوئی، اگر نہیں ہوئی تو پھر کیوں نہیں ہوئی، اور اگر جواب ہاں میں ملے تو اگلا سوال بچوں سے متعلق پوچھا جاتا ہے، یہ سوالات تو ہمارے دماغ کی پوٹلی میں ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے شادی کا سوال لڑکیوں تو نوجوانوں سے اکثر ملازمت سے متعلق پوچھا جاتا ہے۔ اکثر تو یہ باتیں نیک نیتی سے ہی کی جاتی ہیں مگر یہ جملے دماغ میں ایسے پیوست ہو جاتے ہیں کہ سب کے لیے ان سے نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ کسی کے بھلے کے بجائے انہیں مزید نا امیدی کے گڑھے میں گرا دیتے ہیں

بیٹی ابھی کالج جانا شروع ہی کرتی ہے کہ والدین سے اس کی شادی سے متعلق سوالات پوچھنا شروع کر دیے جاتے ہیں، اور ایسی کئی مثالیں معاشرے میں باآسانی مل جائیں گی کہ دوسروں کے باتوں اور طعنوں سے پریشان والدین جلدی میں ایسی جگہ رشتہ کر دیتے ہیں کہ زندگی پھر صرف پچھتاوا ہی رہ جاتا ہے

اگر کسی کی اولاد نہیں ہے تو اس کے نہ ہونے کے طعنے دیے جاتے ہیں، اگر اللہ نے بیٹی کی نعمت سے نوازا تو بیٹا نہ ہونے کا قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے۔ اگر بیٹا یا بیٹی ایک ہو تو پھر بھی خاموش نہیں رہا جاتا، ایسے ایسے سوالات پوچھے جاتے ہیں کہ سننے والا شرمندہ ہی ہو جاتا ہے۔

اسی طرح اگر ملازمت نہ مل رہی ہو عزیز و اقارب ہمدردی کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ چبھتے سوالات کی ایسی بوچھاڑ کرتے ہیں کہ متاثرہ شخص منہ چھپاتا ہی پھرتا ہے۔ اگر کسی کی عیادت کے لیے جاتے ہیں تو اپنی عادت سے مجبور افراد یہاں بھی اپنا اثر چھوڑ جاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو مفت مشورے دیے جاتے ہیں، چلیں یہ تو ہضم ہو جائیں گے مگر کبھی کبھی تو ایسے ڈراتے ہیں، مریض کو اپنے تجربات کچھ ایسے انداز میں بتاتے ہیں کہ معمولی مرض میں مبتلا شخص کو بھی موت اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آتی ہے۔

کسی مریض کی عیادت کرنا یا خوشی غمی میں شریک ہونا بہت اچھی بات ہے لیکن اکثر افراد کسی واقعے یا حادثے کی کچھ یوں تفصیل پوچھتے ہیں کہ اللہ کی پناہ

موبائل کے دور سے کئی برس پہلے ایک ٹی وی ڈرامے میں دیکھنے والوں کو ایک اچھا مشورہ دیا گیا، کہانی کچھ یوں ہے کہ ڈرامے کا ایک کردار پہلے تو اغوا ہوا پھر اپنے عزیز و اقارب کو اپنی داستان سنا سنا کر بھی تنگ آ گیا اور آخرکار کیسٹ میں تمام روداد ریکارڈ کی، جو بھی واقعے سے متعلق پوچھتا، کیسٹ لگاتا، ٹیپ ریکارڈر کا بٹن آن کرتا، لیں بھی باقی سارا کام ٹیپ ریکارڈر کا ۔

ہم اپنے موضوع سے تھوڑا ہٹ گئے، چلیں واپس اسی پر آتے ہیں، نوکری بھی ہے، بچوں کی شادی بھی ہو گئی تو بھی ان کے ترکش میں کئی تیر ہوتے ہیں، سوال کی صورت میں ہدف کو چھلنی کر دیتے ہیں، کچھ اور سمجھ نہ آئے تو انہیں اپنا ذاتی مکان نہ ہونے کا احساس دلاتے ہیں، اس کے لبوں سے کچھ ایسے پھول جھڑتے ہیں۔ کب تک کرائے کے مکانوں کی خاک چھانتے پھرو گے، اپنا گھر بناؤ اور سکھ میں رہو، یہ چند الفاظ کہنے والے نہیں سوچتے کہ ان کے الفاظ سننے والے کے دل پر کیسے زخم چھوڑ جاتے ہیں۔

کسی کے پاس اگر بائیک نہیں ہے تو اسے بائیک کے فوائد گنوائے جاتے ہیں، اگر خوش قسمتی سے بائیک ہے تو گاڑی نہ ہونے کا احساس دلایا جاتا ہے

اگر کوئی دبلا پتلا ہو تو اسے صحت بنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور اگر کسی کی صحت اچھی ہے تو کئی افراد کو یہ بھی گوارا نہیں۔ بھئی اگر انہیں کوئی بیماری نہیں، وہ اپنی زندگی سے خوش ہیں تو آپ کو کیا مسئلہ ہے۔ اگر کسی کا وزن زیادہ ہے تو اسے کم کرنے میں کوئی ہرج نہیں مگر اسے طنز کا نشانہ بنانا بھی درست عمل نہیں۔

گھر کی مرغی دال برابر کے مصداق اکثر والدین اپنے بچوں کو ہر وقت ٹوکتے ہی رہتے ہیں، بات یہاں تک نہیں رکتی، انہیں دوسرے بچوں کی مثالیں دیتے رہتے ہیں، سمجھائیں ضرور مگر بچے اسے اپنی توہین ہرگز نہ سمجھیں، یہ بھی تو ہو سکتا ہے جن بچوں کی آپ مثالیں دے رہے ہیں، ان کے والدین کے پسندیدہ آپ کے بچے ہی ہوں۔

مشورہ دینا کوئی بری بات نہیں، مگر ساتھ ساتھ مدد کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے، مصیبت میں پھنسے شخص کو اس سے نکالنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں فرخ حبیب نے جھوٹ بولنے پر ٹیکس لگانے کا مشورہ دیا تھا۔ ہمارا بھی ایک مفت مشورہ ہے کہ حکومت ٹیکس لگانے کے بہانے تلاش کرتی ہے۔ اگر فضول بولنے پر کچھ ٹیکس لگا دیا جائے تو کئی افراد کا بھلا تو ہو جائے

 

Facebook Comments HS