سیتا کماری کی تہذیبی شناخت
بیسویں صدی تہذیبی اعتبار سے ہندوستان کی تاریخ میں ایک خاص موڑ لے کر آئی۔ صدیوں پرانی پرمپراؤں کو تحقیر آمیز نگاہ سے دیکھا جانے لگا نہ چاہتے ہوئے بھی اس خطے کے افراد اپنی روایتوں کو پاؤں تلے روندنے لگے۔ اپنی پہچان کو پس پشت ڈال کر نئی تہذیبی شناخت کا لبادہ اوڑھنے کی کوششیں کی گئیں۔ جن رسوم کو توڑنے کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا تھا انہیں پاؤں تلے کچلا گیا۔
اس سلسلے میں قرۃالعین حیدر کا ناولٹ ”سیتا ہرن“ اہمیت کا حامل ہے۔ جس میں اس خطے کے افراد کی شناخت تبدیل ہوتی اور اصل شناخت کہیں گم ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ناولٹ کا مرکزی کردار ایک خاتون ہے جس کا نام سیتا ہے۔ سیتا محض ایک نام نہیں بلکہ تہذیبی سوچ کی آئینہ دار ایک تلمیح ہے۔ سیتا ہندوستانی اساطیر میں اپنی وفاداری کی وجہ سے آج تک اس خطے کی خواتین کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے جو خاوند کے ساتھ محبت اور وفا شعاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتی اور وقت کے راون کے سامنے صبر و استقلال کی مضبوط چٹان بنی رہتی ہے۔
اس اعتبار سے سیتا محض ایک کردار نہیں بلکہ اس خطے کی خواتین کا حقیقی پرتو ہے۔ مرکزی کردار کو سیتا کا نام دے کر قرۃالعین حیدر نے اس خطے کی خواتین کی تہذیبی شناخت کی گمشدگی کو موضوع بنایا ہے۔ وہ سیتا جو اپنے خاوند کے سوا کسی دوسرے مرد کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا تک گوارا نہیں کرتی آج وہ بلا تامل پرائے مردوں کی طرف کھنچتی چلی جاتی ہے اور اپنے عہد کے ہر راون سے آشنائی کرتی دکھائی دیتی ہے جن کے نزدیک ”سیتا کا ہرن“ کوئی بڑی بات نہیں۔
سیتا کا یہ رویہ شعوری ہرگز نہیں بلکہ صدیوں پرانی شناخت کو مٹا کر نئی شناخت کا دیا جانا ہے۔ اسے رام کی بجائے راون میں عافیت دکھائی دیتی ہے۔ سیتا اس خطے کی تعلیم یافتہ خواتین کی متذبذب سوچ اور پریشان نظری کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ اپنے فیصلوں پر قائم نہیں رہ سکتی۔ گھڑی میں تولا اور گھڑی میں ماشہ والی کیفیت میں رہتی ہے۔ اسے ذلتوں کی اندھیر نگری میں دھکیلا جاتا ہے۔ اس کا استحصال کیا جاتا ہے مگر سیتا اپنی اصل شناخت کی طرف لوٹنے سے قاصر نظر آتی ہے۔
وہ صدیوں پرانی ”پوتر“ سیتا نہیں بن پاتی۔ وہ محض نام کی سیتا ہے اس کی اصل تہذیبی شناخت چھن چکی ہے۔ وہ سیتا جو کبھی وفا کی دیوی ہوا کرتی تھی اب جفا کی مورت بن چکی ہے۔ وہ باشعور ہونے کے باوجود بے شعور نظر آتی نہ ہے۔ وہ خاوند کے ساتھ مخلص بھی ہے اور بے وفائی بھی کرتی ہے۔ وہ جس راستے کو اختیار کرتی ہے اسی سے احتراز کرتی ہے۔ گویا وہ اپنی صدیوں پرانی پوترتا کو بحال کرنے کی سعی کر رہی ہے مگر نئی شناخت اس قدر مقناطیسی اثرات کی حامل ہے کہ سیتا نہ چاہتے ہوئے بھی اسی کی طرف کھنچتی چلی جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس خطے کی ”سیتائیں“ کب تک اس گومگو کی کیفیت میں رہیں گی؟ وہ کب اپنی ذات میں چھپی سیتا کو دریافت کریں گی؟ کب تک وقت کے راون کو سجدے کرتی رہیں گی؟ کب تک دربدر کی ٹھوکریں کھاتی رہیں گی؟


