تربوز
تربوز ویسے تو ایک پھل ہے لیکن حقیقت میں یہ میٹھے پانی کا ایک ٹینکر ہوتا ہے۔ تربوز کو پنجابی میں ہِدوانہ، سندھی میں ہِندانہ اور افطاری میں ”اور دے دو نا“ کہتے ہیں۔
تربوز دائروی اور بیضوی دونوں اشکال میں دستیاب ہوتا ہے۔ لیکن اسے کھانے کے لیے مستطیل اور تکونی شکل میں کاٹا جاتا ہے۔ مشکل پسند خواتین اسے پنج گونہ اور شش گونہ اشکال میں بھی کاٹتی ہیں۔ یوں تربوز کہنے کو تو پھل ہے در حقیقت جیومیٹری کا چلتا پھرتا سبق ہے۔ ہماری محکمہ تعلیم کو تجویز ہے کہ اسکولوں میں بچوں کو تربوز کے ذریعے جیومیٹری پڑھائی جائے۔ کسی کو کچھ سمجھ آئے نہ آئے طلباء کی پانی کی کمی ضرور پوری ہو جائے گی۔
ہو سکتا ہے کہ پتھر کے زمانے میں تربوز کا حجم بیر جتنا اور رنگت زرد یا مٹیالی ہوتی ہو۔ لیکن اب اس کی رنگت ارتقاء کے عمل سے گزر کر گہری سبز، ہلکی سبز اور چتکبری سبز ہو چکی ہے۔ رنگت پر ہی موقوف نہیں بلکہ تربوز کی جلد بھی زمانے کی سختیاں جھیل کر کسی محنت کش کی ہتھیلی بن چکی ہے۔ آسان الفاظ میں یہ پھلوں کے مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔
تربوز ایک غریب پرور پھل ہے۔ اگر ہم اسے پھلوں کا غریب نواز کہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ عوام کو تربوز سے بس دو ہی شکوے ہیں۔ ایک یہ کہ جس وقت نیوٹن کے سر پر سیب گرا تھا تو اس سیب کی جگہ تربوز کیوں نہیں تھا۔ دوسری شکایت یہ ہے کہ تربوز بیس تیس روپے کلو ملتا ہے لیکن یہ کبھی بھی کلو نہیں ملتا۔
تربوز باہر سے چاہے جتنا بد رنگا ہو اندر سے ایک دم سرخ ہوتا ہے۔ اگر کسی تربوز کا خون سفید ہو جائے تو جنتا اس کے ساتھ سوتیلوں کا سا سلوک کرتی ہے۔ اس معاملے میں ہم خوب ٹھوک بجا کرتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک ابھی تک حیران ہیں کہ ہم ایک مہر بند تربوز کو صرف تھپتھپا کر کیسے معلوم کر لیتے ہیں، کہ وہ اندر سے سرخ ہے یا سفید۔ دراصل یہ ایسی ٹیکنالوجی ہے جو صرف رشتے داروں کی موجودگی سے وجود میں آتی ہے۔
تربوز واحد پھل ہے جو محاوروں میں نہیں ملتا، ورنہ پھر یہ محاوروں میں ہی ملتا۔ اگر آم پھلوں کا بادشاہ ہے تو تربوز کو پھلوں کی والدہ کہا جانا چاہیے لیکن یہ بے چارہ صورت سے والد معلوم ہوتا ہے۔
روایتوں کے مطابق تربوز موسمِ گرما کا پھل ہے۔ مگر یہ روایات ضعیف ہیں بلکہ موضوع ہیں۔ درحقیقت تربوز ایک پرہیزگار پھل ہے جو رمضان کے موسم میں نمودار ہوتا ہے، اور شیطان کے آزاد ہوتے ہی گوشہ نشین ہو جاتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ رمضان کا مہینہ دسمبر میں آتا ہے یا اگست میں۔ اس میں بھی خدا کی کوئی نشانی ہوگی۔ شاید قیامت کی ہی نشانی ہو۔


