اقبال کا فلسفۂ خودی و بے خودی

  علامہ اقبال ایک ایسے لالہ کے پھول کی مانند ہیں جو تپتے صحراؤں میں حیاتِ نو کا پیامبر بن کر ابھرتا ہے۔ اقبال ایک ایسے گلِ نو بہار کی مانند ہیں جو خزاں کے وجود سے بوسیدہ فضاؤں کو اپنی مہک سے تازگی بخشتا ہے۔ اقبال ایک ایسے مرغ ِ خوش نوا کی مانند ہیں جس کی نوا سوز و ساز سے معمور ہوتی ہے اور ظلمت کی خاموشیوں کا خاتمہ کرتی ہے۔ اقبال روشنی کا ایک ایسا مینار

Read more

گیتا گیان

آریہ قوم تقریباً ایک ہزار قبل مسیح میں ہندوستان میں آ کر آباد ہوئی اور پیش قدمی کرتے ہوئے کوہ ہمالیہ تک پہنچ گئی۔ ایک وقت میں پنجاب سے بندھیاچل تک کا علاقہ ”آریہ ورت“ کہلاتا تھا۔ یہ دور ہندوستان کی تاریخ میں ویدک دور کہلاتا ہے۔ اس دور میں آریہ قوم نے مذہب پر توجہ دی اور ویدوں کو لکھ لیا گیا۔ قربانی کے بھجنوں پر مشتمل مجموعے شام وید اور یجر وید کی صورت میں نمو پذیر ہوئے۔

Read more

علامہ اقبال کا تصورِ وطنیت

قلزم تاریخ میں ایسے بیش بہا درنایاب اور گوہر ہائے آبدار پوری آب و تاب کے ساتھ اپنے وجود کا احساس دلاتے ہیں جنہوں نے اپنی تفکر و دانشوری سے نہ صرف اپنے عہد کو منور و روشن کیا بلکہ رہتی دنیا تک اپنی فکری تابندگی اور اجتہادی درخشانی سے اندھیروں کا خاتمہ کیا۔ ایسے ہی تابدار موتیوں میں ایک ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہیں جن کے افکار کی تابناکیوں سے مشرق و مغرب کی اندھیر نگریاں چمک چمک اٹھی

Read more

علامہ اقبال کی شاعری میں تصورِ وطنیت کے بدلتے زاویے

قلزم تاریخ میں ایسے بیش بہا درنایاب اور گوہر ہاۓ آبدار پوری آب و تاب کے ساتھ اپنے وجود کا احساس دلاتے ہیں جنہوں نے اپنی تفکر و دانشوری سے نہ صرف اپنے عہد کو منور و روشن کیا بلکہ رہتی دنیا تک اپنی فکری تابندگی اور اجتہادی درخشانی سے اندھیروں کا خاتمہ کیا۔ ایسے ہی تابدار موتیوں میں ایک ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ہیں جن کے افکار کی تابناکیوں سے مشرق ومغرب کی اندھیر نگریاں چمک چمک اٹھی ہیں۔

Read more

(شاعر کی جادو نگاریاں) قدیم ہندوستان کے شاندار دور کی خوبصورت تصویر کشی

سرور جہان آبادی کی نظم ”لکشمی جی“ کا ایک جائزہ لینا اس مضمون سے مقصود ہے۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد ہندوستان جس سیاسی، معاشی، معاشرتی اور تہذیبی و ثقافتی بحران کا شکار ہوا اس کے اثرات آج بھی اس خطے کو اپنی زد میں لیے ہوئے ہیں۔ لوگوں کو ذہنی طور پر ٹارچر کیا گیا، ان کا قتل عام کیا گیا، ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا گیا، لوگوں سے ان کی شناخت کو چھینا گیا۔ ایسی

Read more

شاعر کی جادو نگاریاں

شاعری لطیف جذبات کے اظہار ہی کا نام نہیں بلکہ یہ اپنے اندر اتنا وسیع کینوس رکھتی ہے کہ زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی حقیقت اور کائنات کی بڑی سے بڑی سچائی کو نہایت عمدگی اور خوبصورتی کے ساتھ ایک شعر میں سمو لیتی ہے۔ شاعری ایک ایسی جادو نگری ہے جہاں نرم گرم احساسات، بہتی ندیوں، گرتے جھرنوں، رم جھم کرتی ساون کی پہلی بارش اور حد نگاہ سمندر کی وسعتوں کی تصاویر انتہائی دلکشی کے ساتھ کھینچی جاتی

Read more

سیتا کماری کی تہذیبی شناخت

بیسویں صدی تہذیبی اعتبار سے ہندوستان کی تاریخ میں ایک خاص موڑ لے کر آئی۔ صدیوں پرانی پرمپراؤں کو تحقیر آمیز نگاہ سے دیکھا جانے لگا نہ چاہتے ہوئے بھی اس خطے کے افراد اپنی روایتوں کو پاؤں تلے روندنے لگے۔ اپنی پہچان کو پس پشت ڈال کر نئی تہذیبی شناخت کا لبادہ اوڑھنے کی کوششیں کی گئیں۔ جن رسوم کو توڑنے کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا تھا انہیں پاؤں تلے کچلا گیا۔ اس سلسلے میں قرۃالعین حیدر

Read more