حوصلہ کر حوصلہ!


یہ لڑکی۔
دھی ہے میری۔
مجھے پیاری نہیں کیا؟
مجھے دیکھ میں منہ موڑے اطمینان سے بیٹھا ہوں۔
پیاس بجھا رہا ہوں۔
بولنے کی ضرورت نہیں۔
پھر کیا ہوا؟
باپ بھائیوں کو ایسی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
حوصلہ کر حوصلہ۔ حوصلہ!
یہ تین لفظ چارپائی پہ پڑی اس زندگی کی قیمت ہیں جو باپ بانٹ رہا ہے۔

ایک چھوٹا سا کمرہ۔ چھ چارپائیاں، تین ایک قطار میں ساتھ ساتھ، بیچ میں ایک ہاتھ کا فاصلہ بھی نہیں اور بقیہ تین ایک دیوار کے ساتھ اوپر نیچے رکھی ہوئیں۔

نہ جانے کتنی بچیاں ان پہ محو خواب۔ جن کی باری کسی اور رات میں آئے گی۔

تاریک ماحول۔ نہ کھڑکی نہ روشن دان جیسے کسی تاریک قبرستان کی ایک قبر۔ وحشت میں گھرے تین مرد اور خاموشی کا کفن اوڑھے دو عورتیں۔

پہلی عورت تیسرے نمبر کی چارپائی پہ رنگین کمبل اوڑھے ساکت۔

پہلا مرد ادھیڑ عمر، سیاہ رنگت، چڑھی ہوئی آنکھیں، چہرے سے سفاکی عیاں۔ ہاتھ میں مشروب کی بوتل، اطمینان سے گھونٹ بھرتا ہوا، نہ کوئی گھبراہٹ، نہ پشیمانی، نہ تردد، نہ خوف۔ پہلے نمبر کی چارپائی پہ اطمینان سے بیٹھا باقیوں کو ہدایات دیتا ہوا۔

حوصلہ کر حوصلہ۔ جھلا نہ ہووے تے!

دوسرا مرد۔ دوسرے نمبر کی چارپائی پہ اس طرح بیٹھا ہوا جیسے جھک کر زمین سے کوئی وزنی چیز اٹھا رہا ہو، یا پھر کسی چیز کو اپنے بھاری مضبوط ہاتھوں سے دبا کر فکس کر رہا ہو۔ اطمینان، سکون، نہ کوئی اضطراب نہ بے تابی۔ تلوے مٹی اور میل میں لتھڑے ہوئے۔ محویت کا یہ عالم کہ کام ختم ہونے تک ایک لحظے کو بھی مڑ کر دیکھنے کا روادار نہیں۔

تیسرے مرد کی آواز۔ گھگیائی۔ شرمندگی، خوف، پریشانی، ندامت، احتجاج، مزاحمت کے احساس سے خالی۔ رسمی سے تعلق کا تاثر دیتی:

او فیصل۔
اچھا میں پھر فون کرتا ہوں۔
اچھا اچھا۔
ہاتھ میں فون پکڑے پہلے تین افراد کی وڈیو ریکارڈ کرتا ہوا۔

دوسری عورت۔ پہلی چارپائی کی پائینتی کھڑی، سیاہ لباس۔ محض ایک جھلک۔ کوئی آواز، احتجاج یا فریاد نہیں۔ مجبور تماشائی یا محض موجود؟

اس کمرے میں سفاکی، جبر و بربریت اور سنگ دلی رقص کر رہی ہے۔ یہ کمرہ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ اس ماحول میں جنم لینے والی عورت کون ہے اور کیا مقام ہے اس کا؟

عورت کا بیوپار کون کرتا ہے اور کیسے؟
عورت سے جینے کا حق واپس کیسے لیا جاتا ہے؟
سستا سودا۔ کچھ بھی خرچ نہیں ہوتا۔ بس ایک تکیہ اور دو مضبوط ہاتھ۔

اور اس مشقت کی اجرت ہے۔ باپ کی طرف سے پیٹھ پہ تھپکی اور پیاس مٹانے کے لیے مشروب ( نہ جانے کون سا ) ۔ گھونٹ گھونٹ سرشاری۔

خس کم جہاں پاک۔
مکروہ صورت مرد مرنے والی کا بھی باپ ہے اور مارنے والے کا بھی۔
جلاد باپ نے موت کے پروانے پر دستخط کیے ہیں یہ کہتے ہوئے۔ اوئے دھی ہے میری۔
میرا نطفہ ہے بھئی، میں زندہ رکھوں یا مار دوں۔ میری مرضی!

موت اس کمرے میں دبے پاؤں آتی ہے اور شرمندہ ہے اپنے وجود سے۔ موت آنسو بہاتی ہے، گڑگڑاتی ہے، منتیں کرتی ہے۔

مجھ پر اتنا بوجھ مت ڈالو۔ میری کمر ٹوٹ جائے گی۔

دیکھو میں اس بڈھے کو لے جاتی ہوں۔ وہ زمین پہ سفاکی اور سنگ دلی کا بدنما دھبہ ہے۔ کائنات اس سے تنگ ہے۔ اسے بھیج دو میرے ساتھ۔

اس لڑکی کو یہیں رہنے دو۔ زمین اسے قبولنے پر تیار نہیں۔ مٹی بے حال ہو جاتی ہے ایسی عورتوں کو اپنے دامن میں پناہ دے کر۔

موت کو دوسرا مرد دبوچ لیتا ہے۔
تجھے خالی ہاتھ واپس نہیں بھیج سکتے۔ تو اس لڑکی کو واپس لے کر جا۔ ہم جتنا کھیل سکتے تھے کھیل لیے۔
موت ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتی ہے لیکن باپ دھتکار دیتا ہے۔
یہ عزت کا معاملہ ہے۔ تم بیچ میں مت بولو۔

موت بھاگنا چاہتی ہے لیکن مرد کی گرفت سے آزاد ہونا مشکل ہے۔
تم ایسے نہیں جا سکتیں، کفن خریدا جا چکا ہے اور قبر تیار ہے۔
کفن ہچکیاں بھرتا ہے۔ نہیں مجھ میں ہمت نہیں اسے ڈھانپنے کی۔
قبر احتجاج کرتی ہے۔ مجھے ایسے رسوا مت کرو۔
میں اسے پناہ نہیں دے سکتی۔
ناک اور منہ میں پھنسے تکیے کی روئی کے ذرے اور غلاف سے نکلے دھاگے میری مٹی کیسے سنبھالے گی! ؟

فرشتے گنگ ہیں کہ پھٹے ہونٹوں اور سوجی ہوئی زبان سے نکلتی مبہم آواز کیسے سنیں۔ ایک ہی لفظ سمجھ آتا ہے۔ ابا۔ ابا۔

قبرستان میں پھرتے آوارہ کتے اس لڑکی کے یہاں آ بسنے پہ رو رہے ہیں۔

رات بین کر رہی ہے۔ درخت سسکیاں لیتے ہوئے بارگاہ ایزدی میں دعا کر رہے ہیں۔ ایک رات کے لیے ہمیں چلنے پھرنے کی طاقت بخش دے کہ ہم اس لڑکی کے باپ بھائیوں پر گر سکیں۔

آسمان چپ ہے، گہری لمبی چپ!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments